پولیو ویکسین: ’والدین افواہوں سے گھبرا کر بچوں کو ہسپتال لا رہے ہیں‘

پولیو

پاکستان کے صوبے خیبر پختونحوا کے دارالحکومت پشاور میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران پیر کو پھیلنے والی افواہوں کا اثر منگل کو بھی دیکھا گیا اور والدین کی بہت بڑی تعداد اپنے بچوں کو معائنے کے لیے ہسپتالوں کا رخ کرتی دکھائی دی۔

دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اس واقعے کے بعد پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

پیر کو پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں مہم کے دوران یہ افواہیں پھیلیں کہ قطرے پینے سے بچوں کی طبعیت بگڑ گئی ہے اور چند بچے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ ان افواہوں نے اس وقت زیادہ زور پکڑا جب سوشل میڈیا پر اس بارے میں کچھ ویڈیوز سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھیے

پولیو مہم کے خلاف ’سازش‘، 12 افراد پر مقدمہ

افغانستان میں پاکستانی امداد سے محمد علی جناح ہسپتال کا قیام

چمن اور طورخم بارڈر پر بڑوں کو بھی پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پولیو: افواہوں سے ملک بھر میں جاری مہم پر کیا اثر پڑا؟

افواہوں کا بازار گرم ہونے کے بعد مضافاتی دیہات کے رہائشیوں نے ایک بنیادی مرکزِ صحت پر دھاوا بول کر وہاں توڑ پھوڑ کی اور سرکاری املاک کو نقصان بھی پہنچایا تھا۔

پشاور کے سب سے بڑے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں منگل کو صبح ہی سے خوفزدہ والدین اور بچوں کا تانتا باندھا رہا تاہم وہاں لائے جانے والے زیادہ تر بچوں کو معائنے کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان میں سے کچھ کو پیٹ میں درد اور قے کی شکایات تھیں جنھیں ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔

ایم ٹی آئی کے ایمرجنسی وارڈ میں پشاور کی پروفیسر کالونی سے آئے ہوئے ایک شخص وہاب نے بتایا کہ پیر کو ان کے بیٹے کو سکول میں پولیو کے قطرے پلائے گئے تاہم رات کو اسے کوئی تکلیف نہیں ہوئی لیکن صبح کے وقت اچانک پیٹ میں درد ہوا لہٰذا وہ اسے معائنے کے لیے ہسپتال لائے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق کوئی خطرے کی بات نہیں ہے تاہم اس کے ساتھ کچھ دوائیاں بھی لکھ کر دے دی گئی ہیں۔

وہاب نے مزید بتایا کہ پیر کو مختلف افواہیں گردش کرتی رہیں کہ ویکسین زائد المعیاد ہے اور اسی وجہ سے وہ حفظ ماتقدم کے طور پر بچے کو ہسپتال لائے تاکہ پوری تسلی کر لیں۔

بچوں کا معائنہ کرنے والی چلڈرن وارڈ کی ڈاکٹر فصاحت امیر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر والدین افواہوں کے باعث خوفزدہ ہوئے اور اپنے بچوں کو دیکھے بغیر اٹھا کر ہسپتال لا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'اتنے سارے بچوں کو ایک ساتھ دیکھ کر ہم بھی ایک قسم کی پریشانی کا شکار ہو گئے تھے کہ یہ واقعی کوئی بڑی ایمرجنسی ہوئی ہے لیکن اللہ کا فضل ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں تھی صرف والدین کی کونسلنگ کی گئی جس کے بعد سب بچوں کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔'

ان کے مطابق اس وقت ان کے پاس ہسپتال میں صرف ایک بچہ داخل ہے جنہیں پیٹ میں درد کی شکایت ہے وہ بھی جلد ہی ڈسچارج کر دیا جائے گا۔

پیر کو پھیلنے والی افواہوں کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کا منفی اثر پولیو مہم پر پڑے گا۔

منگل کو پشاور سمیت صوبے بھر میں انسدادِ پولیو کی مہم بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی تاہم اطلاعات ہیں کہ زیادہ تر علاقوں میں پولیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا رہا اور کئی والدین نے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کر دیا۔

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق افواہیں پھیلنے کے بعد صوبے بھر میں تقریباً 14 ہزار کے قریب والدین نے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کیا جس میں نو ہزار کے لگ بھگ والدین کا تعلق ضلع پشاور سے ہے۔

ذرائع کے مطابق پشاور کے علاقے حیات آباد میں کچھ مقامات پر لوگوں نے بچوں کو قطرے دینے سے انکار کیا اور ان میں بیشتر وہ افراد شامل تھے جو اس سے پہلے بچوں کو قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ پولیو مہم کے بھی حامی رہے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پولیو مہم کے کارکن بھی مرکزِ صحت پر حملے کے واقعے کے بعد خوف کا شکار نظر آئے اور مہم کے لیے جانے سے بھی کتراتے رہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پشاور میں کچھ مقامات پر قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی طرف سے متنبہ کیا گیا ہے کہ علاقے میں پولیو ٹیموں کے آنے پر ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ پشاور کے ٹاؤن فور کی 24 یونین کونسلوں میں پہلے ہی پولیو مہم ملتوی کی جا چکی ہے اور وہاں بعد میں بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ اطلاعات ہیں کہ ان یونین کونسلوں میں پولیو کی ویکسین کے خلاف شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔

دریں اثنا قومی ادارہ صحت نے خیبر پختونخوا میں پولیو کے دو نئے مریضوں کی تصدیق بھی کی ہے۔ کوارڈنیٹر ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبر پختونخوا کامران آفریدی کی طرف سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان میں ایک کیس بنوں اور دوسرا شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں بچوں نے پولیو ویکسین نہیں لی تھی جس کی وجہ سے وہ اس موذی مرض کا نشانہ بنے۔

اسی بارے میں