سری لنکا بم حملے: تفتیش میں مدد کے لیے پاکستان کے فورینزک ماہرین سری لنکا جانے کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹر ہمایوں کے مطابق سری لنکا کے پاس فورینزک ٹیموں کی کمی ہوگئی ہے (فائل فوٹو)

’سری لنکا کے ساتھ ہماری دوستی بہت پرانی ہے۔ ہم سری لنکا میں ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والی تفتیش میں پوری مدد اور تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ ہماری پیشکش قبول کرلی گئی ہے اور اب صرف انتظار ہے کہ کب جانا ہو۔‘

یہ کہنا ہے لاہور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی تین رکنی فورنزک ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ہمایوں تیمور کا۔

ڈاکٹر ہمایوں اس وقت پاکستان کے واحد اوڈنٹولوجسٹ ہیں جو دہشت گردی اور جرائم کے متاثرین کی شناخت میں مدد کرتے ہیں۔

حال ہی میں ڈاکٹر تیمور نے سری لنکا میں ہونے والے بم دھماکوں کی تفتیش میں حکومت کے ذریعے تعاون کی پیشکش کی تھی جو ان کے مطابق سری لنکا کی طرف سے قبول کر لی گئی ہے۔

اسی بارے میں

نیشنل توحید جماعت پر حملوں کا الزام اور کئی سوالات

سری لنکا: حملوں کے بارے میں تنبیہ کو نظرانداز کرنے کا اعتراف

سری لنکا میں یوم سوگ اور آخری رسومات

سری لنکا دھماکے: ہلاکتوں کی تعداد 290 تک پہنچ گئی

تاہم دفتر خارجہ ترجمان کا کہنا ہے کہ سری لنکن حکام نے ابھی تک کسی قسم کی مدد کے لیے باضابطہ درخواست نہیں دی ہے۔ فورینزک ماہرین کو بھجوانے کے بارے میں فیصلہ باضابطہ درخواست آنے پر کیا جائے گا۔

ڈاکٹر تیمور کا کہنا ہے کہ ’اکثر اوقات بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے کنسلٹنٹ ایک دوسرے سے رابطے میں ہوتے ہیں۔ جب ہم نے سری لنکا میں ایسٹر کے روز ہونے والے دھماکوں کی خبر سنی تو وہاں کے مقامی ڈاکٹروں سے رابطہ کرنے پر پتہ چلا کہ وہاں تفتیش میں مدد کی ضرورت ہے۔‘

اپنے ڈاکٹر دوستوں کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں جاننے کے بعد ڈاکٹر ہمایوں نے لاہور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم سے رابطہ کر کے ان کو سارا احوال بتایا۔ وائس چانسلر نے وزارتِ صحت سے رجوع کیا جس کے بعد یہ پیشکش کی گئی اور فوراً ایک ٹیم بنانے کی بات کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تین گرجا گھروں اور چار ہوٹلوں میں دھماکوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 359 ہوچکی ہے

ڈاکٹر ہمایوں نے کہا کہ جیسے ہی ہمیں ان کی مکمل ضروریات سے آگاہ کر دیا جائے گا، ہماری ٹیم یہاں سے روانہ ہوجائے گی۔

ان کا کہنا تھا ’ایک تاریخ ہے سری لنکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی۔ پنجاب میں ڈینگی سے نمٹنے میں سری لنکا کے ڈاکٹروں اور ماہرین نے پاکستان کی بہت مدد کی تھی۔ تو اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم ان کی مدد کریں گے اور ہمارے وائس چانسلر کا ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ اچھا رہا تھا۔‘

ایسٹر کے روز سری لنکا میں یکے بعد دیگر تین گرجا گھروں اور چار ہوٹلوں میں دھماکے ہوئے۔ دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 359 ہوچکی ہے جبکہ 500 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس وقت سری لنکا میں دھماکے کے بعد زخمیوں سے نمٹنے کے لیے افرادی قوت کی کمی ہے۔

ڈاکٹر ہمایوں نے کہا کہ ’ان کے پاس فورینزک ٹیم کی کمی ہے۔ ساتھ ہی شناخت کا مسئلہ ہے، جو مشتبہ خودکش بمبار ہیں ان کی ری کنسٹرکشن کے ذریعے شناخت کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ حالانکہ سری لنکا اس پوری صورتحال سے بخوبی نمٹ رہا ہے لیکن جہاں ضرورت ہے وہاں ہم ان کے ساتھ پورا تعاون کرنا چاہتے ہیں۔‘

بدھ کو وزیرِ اعظم عمران خان نے سری لنکا کی حکومت کو ہر قسم کی مدد اور تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی جس کے بعد لاہور کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی تین رکنی ٹیم نے تعاون کی پیشکش کرنے میں پہل کی۔

اسی بارے میں