نواز شریف کی بیرون ملک جانے پر عائد پابندی کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد کی احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی (فائل فوٹو)

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ انھیں العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں مستقل ضمانت دی جائے اور علاج کی غرض سے بیرونِ ملک جانے پر عائد پابندی ختم کی جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزارت داخلہ نے نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف کا نام ای سی ایل میں بھی ڈال رکھا ہے اور مریم نواز شریف نے اس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہوئی ہے۔

گذشتہ ماہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے طبی بنیادوں پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں چھ ہفتوں کے لیے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ چھ ہفتوں کے دوران نواز شریف ملک میں رہ کر کسی بھی ڈاکٹر سے علاج کروا سکتے ہیں تاہم وہ اس عرصے کے دوران بیرونِ ملک نہیں جا سکیں گے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ چھ ہفتوں کے بعد ان کو جیل جانا ہو گا اور دوبارہ ضمانت کے لیے نئے سرے سے متعقلہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنا ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف کی بیماری پر سپریم کورٹ نے کیا کہا؟

’بائیکاٹ چغتائی لیب‘ اور نواز شریف کی رپورٹس

العزیزیہ کیس: نواز شریف کی درخواستِ ضمانت مسترد

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر سابق وزیر اعظم کی درخواست مسترد کردی تھی۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی نظرثانی کی درخواست میں سابق وزیر اعظم کو لاحق بیماریوں سے متعلق بھی بتایا گیا ہے۔

سابق وزیر اعظم کے وکیل کے مطابق ان کے موکل دل اور گردوں کے عارضے میں مبتلا ہیں اور ان کا علاج اسی ڈاکٹر سے ممکن ہے جن سے میاں نواز شریف نے لندن میں علاج کروایا تھا۔

نظرِ ثانی کی اس درخواست کے ساتھ سابق وزیر اعظم کی میڈیکل رپورٹس بھی لف کی گئی ہیں جس میں میاں نواز شریف کی بیماری کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔

میاں نواز شریف کی چھ ہفتوں کی ضمانت کی مدت آئندہ ماہ (مئی) کے دوسرے ہفتے میں ختم ہو رہی ہے اور عدالتی حکم کے مطابق ان کو دوبارہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل جانا پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف تین ریفرنس دائر ہوئے ہیں جن میں سے احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم کو دو مقدمات میں قید کی سزا سنائی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ احتساب عدالت کی طرف سے ایون فیلڈ ریفرنس میں دی گئی سزا کو معطل کر کے میاں نواز شریف کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دا تھا۔

اسی بارے میں