انڈیا پاکستان میں میوزک کی چوری: ’امجد صابری کو سلمان خان کا فون آیا اور معاملات طے پاگئے‘

کاپی رائٹس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2015 میں پاکستانی قوال امجد صابری انڈیا جانا چاہتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ سلمان خان نے اپنی فلم بجرنگی بھائی جان میں صابری برادران کی مشہور زمانہ قوالی ’بھر دو جھولی‘ بغیر کسی اجازت کے استعمال کی تھی

دنیا بھر میں آج ’انٹلیکچوئل پراپرٹی‘ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

سنہ 2000 سے ہر سال منائے جانے والے اس دن کا مقصد تخلیق کاروں کے تخلیقی کاموں کا اعتراف اور اس کی پذیرائی کرنا ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں انٹلیکچوئل پراپرٹی کو اتنی فوقیت نہیں دی جاتی اور یہاں کسی تخلیق کار کی تخلیق کو نقل اور چوری کرنا ایک معمول کی بات ہے جبکہ اس حوالے سے موجود قوانین پر عملدرآمد بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اگر بات پاکستان اور انڈیا کی ہو تو دوسری درجنوں مشترک قدروں کے علاوہ موسیقی ایک ایسی چیز ہے جو ان ہمسایہ ممالک میں بسنے والوں کو جوڑتی ہے۔

تاہم گاہے بگاہے دونوں ممالک میں موسیقی تخلیق کرنے والے اپنے اپنے تخلیقی کام کی نقل یا چوری کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے رہتے ہیں۔

حالیہ مثال یہ ہے کہ رواں ماہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک انڈین رکنِ پارلیمان پر آئی ایس پی آر کی جانب سے حال ہی میں ریلیز کیے گئے گیت کو نقل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

دوسری جانب انڈیا کی ریاست تلنگانہ میں بی جے پی کے رکن اسمبلی ٹھاکر راجہ سنگھ نے، جن پر گانا نقل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’وہ پاکستان کا گیت کیوں کاپی کریں گے‘ اور یہ کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کے ’پاکستان نے ان کے گانے کی کاپی کی ہو گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان زندہ باد یا ہندوستان زندہ باد؟

سلیبریٹیز کو اپنی ہی تصاویر شیئر کرنے پر مقدموں کا سامنا

'ہیپی برتھ ڈے' کی کاپی رائٹ فیس کا تنازع حل ہو گیا

بی بی سی نے اس شعبے کے ماہرین سے بات کر کے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ موسیقی کے شعبے میں انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کیا ہیں، ان کی خلاف ورزی کیا ہے، خلاف ورزی کو جانچا کیسے جا سکتا ہے، کسی دوسرے ملک میں خلاف ورزی ہونے کی صورت میں قانونی چارہ جوئی کا طریقہ کار کیا ہے اور قانون میں کسی دوسرے کا کام نقل کرنے کی سزا کیا ہے؟

انٹلیکچوئل پراپرٹی اور خلاف ورزی

پاکستان میں انٹلیکچوئل پراپرٹی کا قانون کاپی رائٹس آرڈینینس 1962 موجود ہے اور میوزک یا گانے میوزیکل ورک یا موسیقی کی کیٹگری میں رجسٹر ہوتے ہیں۔

پاکستان میں انٹلیکچوئل پراپرٹی سے متعلقہ قوانین کے ماہر قانون دان ماجد بشیر کہتے ہیں کہ ایک گانے کے کاپی رائٹس کے مالک افراد چار سے پانچ ہو سکتے ہیں۔

مثلاً گانے کے بول لکھنے والا، گانے کا کمپوزر یا موسیقار، گانے والا یا گلوکار، اور ری مکِسنگ کرنے والا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption تلنگانہ میں بی جے پی کے رکن اسمبلی ٹھاکر راجہ سنگھ پر گانا نقل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا

ماجد بشیر کا کہنا ہے کہ ’تاہم اگر ایک فرد، کمپنی یا ادارہ ان تمام افراد کی خدمات پیسوں یا کسی اور چیز کے عوض لیتا ہے تو عموماً ایک معاہدہ کیا جاتا ہے جس کے تحت یہ افراد اپنے تمام حقوق سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور گانا مکمل طور پر اس فرد، کمپنی یا ادارے کی ملکیت بن جاتا ہے۔‘

میوزک کمپنی ای ایم آئی پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر ذیشان چوہدری کا کہنا ہے کہ آپ کسی دوسرے کے گانے کو مختلف انداز سے گا سکتے ہیں مگر اس کے لیے اجازت ضروری ہے۔

٭٭٭’ایک گانا جس کے رائٹس کسی مخصوص کمپنی یا فرد کے پاس ہیں اس کی اجازت سے کوئی بھی شخص اس گانے کی ریورژننگ (نئے انداز سے گانا) کر سکتا ہے جس کو ’کور سانگ‘ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اجازت اس بات کی بھی لے سکتے ہیں کہ آپ گانے کی کمپوزیشن وہی رکھیں گے مگر اس کے بول ایمپرووائز کریں گے اور یہ کاپی رائٹس کی اڈپٹیشن (موافقت) کہلاتی ہے۔ اسی طرح کسی گانے کی کمپوزیشن میں ایک خاص سُر کو آپ اپنے نئے گانے کے لُوپ میں چلا سکتے ہیں اور اس کو ’سیمپلنگ‘ کہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت آپ کسی کا گانا کسی بھی طرح استعمال کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے اس گانے کے حقوق رکھنے والے کی اجازت درکار ہوتی ہے اور اگر آپ یہ نہیں لیتے تو آپ کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں جو پاکستان میں جرم ہے۔

کیا گانا رجسٹر کروانا ضروری ہے؟

ماجد بشیر کہتے ہیں کہ پاکستانی قوانین کے تحت جس وقت ایک گانا تخلیق ہوتا ہے تو اس کو بنانے والا اس کے کاپی رائٹس کا مالک بن جاتا ہے۔

’اگر گانا کسی ادارے سے رجسٹر نہیں بھی کروایا تو کاپی رائٹس اس کو سب سے پہلے بنانے والے کا ہی ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان اور انڈیا میں موسیقی تخلیق کرنے والے اپنے اپنے تخلیقی کام کی نقل یا چوری کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے رہتے ہیں

اس کی تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ دعوے کی حد تک ہوتا ہے اور اگر کسی کے خلاف کاپی رائٹس کی خلاف ورزی پر قانونی چارہ جوئی کرنی ہو تو اس کے لیے گانے کو رجسٹر کروانا ضروری ہوتا ہے۔ اس رجسٹریشن کی بنیاد پر آپ عدالت جا سکتے ہیں اور آپ کا کیس مضبوط ہوتا ہے۔

خلاف ورزی کی صورت میں عدالتی کارروائی

اگر ایک گانے کے کاپی رائٹس کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس گانے کے ملکیتی حقوق رکھنے والا شخص یا کمپنی عدالتی کارروائی شروع کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔

ماجد بشیر سے پوچھا گیا کہ اگر ایک گانا پاکستان میں بنا ہے مگر اس کے کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کسی اور ملک میں ہوئی ہے تو عدالتی کارروائی کا طریقہ کار کیا ہو گا۔

’اگر آپ اس گانے پر پابندی چاہ رہے ہیں یا یہ چاہ رہے ہیں کہ آپ کا گانا گا کر کسی نے پیسے کمائے ہیں اور آپ اس رقم پر دعویٰ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس ملک کی عدالت جانا ہو گا جہاں خلاف ورزی کی گئی ہے۔

’آپ کے پاس دو قانونی آپشنز ہیں یا تو کاپی رائٹ کی رجسٹریشن کی بنیاد پر آپ پاکستانی عدالت سے حکم امتناعی لے سکتے ہیں کہ پاکستان میں اس گانے کو چلنے سے روکا جائے اگر کسی اور ملک میں روکنا ہے تو آپ کو اس ملک کی عدالت سے حکم نامہ لینا پڑے گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس نوعیت کے کیسز کو دیکھنے کے لیے پاکستان میں اور انڈیا میں بھی انٹلیکچوول پراپرٹی ٹرائبیونلز ہیں جن میں خصوصی جج تعینات کیے جاتے ہیں جن کو کاپی رائٹس کی سمجھ بوجھ ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری قانونی شکل یہ ہے کہ اگر گانا چوری کرنے والے شخص نے اس کو ریلیز کر کے کوئی مالی فائدہ لیا ہے تو آپ اس پر دعویٰ کر سکتے ہیں۔

’مالی فائدے کی ریکوری کے لیے آپ کو سول عدالت میں کیس فائل کرنا پڑے گا اور اس کے لیے آپ کو اس ملک کی عدالت جانا ہو گا۔‘

ذیشان چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر کسی کے پاس اپنے ملکیتی گانے کا کاپی رائٹس سرٹیفیکیٹ نہیں ہے تو عدالت میں شواہد کے طور پر وہ معاہدے دکھا سکتے ہیں جو آپ نے کمپوزر، بول لکھنے والے یا گانے والے کے ساتھ کیے تھے اور اس کے علاوہ اوریجنل پلیٹ (جس پر پہلی دفعہ گانا ریکارڈ ہوا ہوتا ہے) وہ بھی شواہد میں شامل ہے جبکہ جدید دور میں ہارڈ ڈسک اور سی ڈی بھی ہو سکتی ہے۔

امجد صابری اور بجرنگی بھائی جان

ذیشان چوہدری کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی کسی کمپوزر یا گلوکار کو انڈیا جا کر کیس لڑتے نہیں دیکھا اس کے باوجود کہ یہاں ایک دوسرے کے کام کی ’چوری‘ شاید دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’جو کیسز عدالت میں جاتے بھی ہیں ان میں بھی شکایت کنندہ کسی نہ کسی موقع پر کیس واپس لے لیتا ہے اور ’آؤٹ آف کورٹ سیٹلمینٹ‘ کے امکان زیادہ ہوتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان میں کاپی رائٹس کو کوئی اتنی اہمیت نہیں دیتا۔‘

ماجد بشیر کہتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں کوئی کسی کا تخلیقی کام چوری یا نقل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ سخت قوانین کی وجہ سے چوری کرنے والا اپنی پوری عمر کی جمع پونجی خرچ کر کے بھی عدالتی کارروائی سے بچ نہیں پاتا۔

انھوں نے بتایا کہ سنہ 2015 میں پاکستانی گلوکار اور قوال امجد صابری انڈیا جانا چاہتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ سلمان خان نے اپنی فلم بجرنگی بھائی جان میں صابری برادران کی مشہور زمانہ قوالی ’بھر دو جھولی‘ بغیر کسی اجازت کے استعمال کی تھی۔

’اس فلم کی پاکستان میں ریلیز پر حکم امتناعی کی درخواست دی گئی جبکہ امجد صابری انڈیا جا کر مزید قانونی چارہ جوئی کا ارادہ رکھتے تھے جس کے لیے انھوں نے ویزے کے درخواست بھی دے دی تھی۔ بعدازاں ان کو سلمان خان کا فون آ گیا اور معاملات طے پا گئے تھے۔‘

پاکستان میں صورتحال کیا ہے؟

پاکستان میں کاپی رائٹس رجسٹر کرنے والے ادارے انٹلیکچول پراپرٹی رائٹس آرگنائزیشن کے اہلکار سیف اللہ خان کا کہنا تھا کہ عام لوگوں کو تو چھوڑیے بعض اوقات گلوگار بھی اپنے گانوں کو رجسٹر کروانا مناسب نہیں سمجھتے۔

انٹلیکچول پراپرٹی رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق گذشتہ 12 برسوں (سنہ 2006 سے سنہ 2018) کے دوران تخلیقی کاموں کو رجسٹر کرنے کی صرف 61331 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ یاد رہے کہ تخلیقی کام میں صرف گانا نہیں بلکہ فلم، ڈرامہ، دستاویزی فلم، کتابیں، میگزین، لیکچر، ناول، کمپیوٹر پروگرام، پینٹنگز، ڈرائنگز، چارٹ، کیلی گرافی ورک، لوگو، ڈیزائن، مونو گرام، نقشے، ہر طرح کا آڈیو ویڈیو ورک وغیرہ شامل ہیں۔

61331 درخواستوں کے عوض کاپی رائٹس سرٹیفیکٹ صرف 27935 کیسز میں دیے گئے۔

سیف اللہ خان کا کہنا تھا کہ ’ان درخواستوں میں شاید پانچ فیصد سے بھی کم درخواستیں گانوں کی رجسٹریشن کی ہوں گی یا شاید اس سے بھی کم۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں