ایڈز: پاکستان میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI

پاکستان میں قومی اسمبلی کے ارکان کو بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں اس وقت ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار سے زیادہ ہے۔

یاد رہے کہ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق ملک میں ایڈز کے شکار افراد کی تعداد 165000 ہے جبکہ ان میں سے صرف 23757 افراد نے متعقلہ سینٹر میں اپنے آپ کو رجسٹر کروایا ہے۔ قومی اسمبلی میں ایڈز کے مرض میں مبتلا افراد کی پیش کی جانے والی تعداد میں صرف انہی افراد کا ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے اپنی رجسٹریشن کروائی ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ افراد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ ان کے اس مرض میں مبتلا ہونے کی کیا وجوہات ہیں۔

مزید پڑھیے

ایڈز کے بارے میں آٹھ غلط تصورات

'ہم مسلمان ہیں، ہمیں ایڈز کیسے ہو سکتا ہے؟'

بلوچستان میں ایڈز سے متاثرہ 637 مریض رجسٹرڈ

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption فائل فوٹو

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام میں ایسے افراد کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ ہے جو انجیکشن کے ذریعے ڈرگ لینے کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا ہوئے۔

اس ادارے نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ رجسٹرڈ ہونے والے 23757 افراد میں سے 15000 سے زیادہ افراد کا علاج کیا جارہا ہے۔

قومی اسمبلی میں ایڈز کے مریضوں کے تعداد کے بارے میں سوال حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی طرف سے پوچھا گیا تھا۔

ان مریضوں میں 18220 مرد ہیں جبکہ خواتین مریضوں کی تعداد 4170 ہے اس کے علاوہ 564 بچے اور426 بچیاں بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق ایڈز کے مریض خواجہ سراؤں کی تعداد 379 بتائی جاتی ہے۔

ایوان میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں ان وجوہات کا ذکر تو نہیں جس کی وجہ سے اتنے زیادہ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں تاہم وزارت صحت کے حکام کے مطابق غیر محفوظ سیکس کے علاوہ خون کی تبدیلی میں استعمال شدہ سرنج کا استعمال اور سرنج کے ذریعے نشے کا استعمال بھی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

ایڈز کی روک تھام کے منصوبے میں کام کرنے والے ایک اہلکار غلام سرور کے مطابق ایڈز کے 12 ہزار سے زیادہ مریضوں کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔

وزارت صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ ان مریضوں کے علاج کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں جن میں مریض کو ادویات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ والدین سے بچوں میں منتقل ہونے والے اس مرض کی روک تھام کے لیے اقدامات بھی شامل ہیں۔ وزارت صحت کی طرف سے دیے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں 35 مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں پر ایڈز کےمریضوں کا علاج ہو رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں