پبلک اکاؤنٹس کمیٹی: میاں شہباز شریف کی جگہ رانا تنویر حسین چیئرمین نامزد

میاں شہباز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میاں شہباز شریف ان دنوں علاج کی غرض سے لندن میں ہیں (فائل فوٹو)

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعرات کو جماعت کے پارلیمانی اجلاس میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی جگہ رانا تنویر حسین کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

اس سے پہلے رانا تنویر حسین قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر تھے۔

یہ بھی پڑھیے

میری حکومت، میرا ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چیئرمین؟

تحریکِ انصاف شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی دینے پر آمادہ

پیپلز پارٹی کا شہباز کو بچانے کا اعلان

رانا تنویر حسین کی جگہ اب خواجہ محمد آصف کو قومی اسمبلی میں پارٹی کا پارلیمانی لیڈر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خواجہ محمد آصف اور رانا تنویر حسین پاکستان مسلم لیگ نواز کے آخری دور حکومت میں وزارت خارجہ اور دفاعی پیداوار کے وزیر بھی رہے ہیں اور ان دونوں رہنماؤں کے شریف خاندان کے ساتھ بہت قریبی تعلقات ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے متعلق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے مشاورت کی گئی تھی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف ان دنوں علاج کی غرض سے لندن میں ہیں اور پارٹی ذرائع کے مطابق ان کے وطن واپس آنے میں ایک ہفتے کی تاخیر ہوسکتی ہے۔

طے شدہ شیڈول کے مطابق میاں شہباز شریف کی 8 مئی کو وطن واپسی متوقع تھی لیکن پارٹی ترجمان کے بقول ان کا لندن میں علاج چل رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی پاکستان آمد میں چند دنوں کی تاخیر متوقع ہے۔

مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی خرم دستگیر سمیت اس جماعت کے دیگر ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ فی الوقت اس بات کے امکانات نہیں ہیں کہ میاں شہباز شریف کو قائد حزب اختلاف کے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کا رد عمل

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور وزیر مواصلات مراد سعید نے میاں شہباز شریف کی پی اے سی کی چیئرمین شپ چھوڑنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان مسلم لیگ نواز نے محض اپنی قیادت کی کرپشن چھپانے کے لیے میاں شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنوایا‘۔

اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ ’قائد حزب اختلاف کے خلاف منی لانڈرنگ کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جس کی بنا پر وہ بیرون ملک چلے گئے ہیں۔‘

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ میاں شہباز شریف کے وطن واپس آنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

واضح رہے کہ قائد حزب اختلاف کو آشیانہ ہاؤسنگ اور رمضان شوگر ملز کے ریفرنس میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت مل چکی ہے جس کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے۔

لاہور میں نیب کی عدالت نے ان دونوں مقدمات میں میاں شہباز شریف پر فرد جرم بھی عائد کر رکھی ہے۔

وزیراعظم عمران خان پہلے پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بنانا چاہتے تھے جس پر حزب مخالف کی جماعتیں بھی بضد تھیں کہ جب تک میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین نہیں بنایا جاتا اس وقت تک وہ کسی بھی قائمہ کمیٹی کا حصہ نہیں بنیں گے جس پر وزیر اعظم عمران خان کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا اور میاں شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کردیا گیا تھا۔

وزیر اعظم نے بارہا کہا ہے کہ میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانا ان کی سب سے بڑی غلطی تھی جس کے بعد اُنھوں نے اپنی جماعت کو ہدایت دی کہ وہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو، جو کہ میاں شہباز شریف کے صاحبزادے ہیں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نہ بنائیں۔

نجی ٹی وی چینل جیو کے لاہور کے بیورو چیف رئیس انصاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میاں شہباز شریف نے اپنے خاندان کے معاملات کو حل کرنے کے لیے ’بیک ڈور ڈپلومیسی‘ شروع کی جس پر میاں نواز شریف بھی خاموش رہے لیکن اس ضمن میں میاں شہباز شریف کو زیادہ کامیابی نہیں ملی‘۔

رئیس انصاری کے مطابق ’شریف خاندان کو درپیش مسائل کے حل میں وزیر اعظم عمران خان سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز اور داماد علی عمران بھی بیرون ملک ہیں اور سلمان شہباز پر بھی منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔

رئیس انصاری کا کہنا تھا کہ میاں شہباز شریف کی ’بیک ڈور ڈپلومیسی میں ناکامی‘ کے بعد رانا تنویر حسین اور خواجہ آصف کو یہ نئی ذمہ داریاں دی گئی ہیں اور ان دونوں رہنماؤں کا شمار سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔

اسی بارے میں