پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام: اصل ہدف کون ہے، ن لیگ کا پرانا نظام یا خود ن لیگ؟

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یاد رہے کہ اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے نیا بلدیاتی نظام متعارف کروایا تھا۔ تاہم وہاں ایک مرتبہ پھر پنجاب ہی جیسا نیا قانون کیوں لایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام نافذ کرنے کے قوانین صوبائی اسمبلی نے منظور کر لیے ہیں۔ گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد پنجاب لوکل گورنمنٹ 2019 اور پنجاب ولیج پنچائیت اور نیبرہوڈ کاؤنسلز 2019 کے بل صوبے میں لاگو ہو جائیں گے۔

نئے بلدیاتی نظام کے تحت دیہات میں تحصیل اور پنچایت کونسلیں جبکہ شہروں میں میٹروپولیٹن اور میونسپل کارپوریشن اورنیبرہوڈ کونسلیں بنیں گی۔ شہری اور تحصیل کونسلز کے انتخابات جماعتی اور نیبرہوڈ کونسلز، پنچایت کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔

صوبے بھر میں 22 ہزار وِلیج کونسلز اور 2500 سے زائد نیبرہوڈ کونسلز قائم ہوں گی۔ ہر سال ترقیاتی بجٹ کا 30 سے 40 فیصد حصہ بلدیاتی اداروں کو دیا جائے گا۔

مبصرین کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے ایسے اقدامات خوش آئند ہیں۔ تاہم کیا ان پر عمل ہو پائے گا؟ اس حوالے سے خدشات موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’بیوروکریسی بلدیاتی نظام کی مخالف ہے‘

پنجاب میں ڈپٹی کمشنر کا نظام دوبارہ رائج کرنے کا فیصلہ

’پنجاب کے وزیرِاعلیٰ سے تو وزیرِاعظم بھی ڈرتا ہے‘

ان خدشات کا محور یہ تاثر ہے کہ نئے بلدیاتی نظام کا واحد مقصد صوبہ پنجاب میں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے بلدیاتی سطح پر موجود اثر و رسوخ اور انتخابی طاقت کو ختم کرنا ہے۔

حال ہی میں وسطی پنجاب کے چند علاقوں سے ن لیگ کے امیدوار بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔

تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس قانون کو محض سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا تو وہ اپنی افادیت کھو بیٹھے گا۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ نئے قانون کے ذریعے غیر سیاسی عناصر اور ٹیکنوکریٹس کو ضرورت سے زیادہ اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔ ٹیکنوکریٹ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے وہ ماہرین ہوتے ہیں جو منتخب ہو کر نہیں آتے یا سیاسی حلقہ نہیں رکھتے۔

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبہ پنجاب کے وزیرِ اطلاعات صمصام بخاری کا اصرار تھا کہ نئے قانون سے حکومت کا واحد مقصد نظام کو بہتر کرنا ہے۔

'اگر ن لیگ کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہوتا تو اسمبلی کے پاس نئے انتخابات کروانے کے اختیارات ہیں اور اس کے لیے وزیرِ اعلٰی کی بھی ضرورت نہیں، وزیرِ بلدیات کر سکتا ہے۔ لیکن ہم ایسے نظام میں یقین نہیں رکھتے۔ ہمارا ماننا ہے کہ اختیار نچلی سطح تک جائیں۔'

تاہم سوال یہ ہے کہ نئے قانون میں ایسا کیا ہے جس سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے؟

یاد رہے کہ اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے نیا بلدیاتی نظام متعارف کروایا تھا۔ تاہم وہاں ایک مرتبہ پھر پنجاب ہی جیسا نیا قانون کیوں لایا جا رہا ہے۔ نیا قانون کس حد تک قابلِ عمل ہے؟ اگر ہے تو پھر خدشات کیا ہیں، اور وہ کیوں پیدا ہوئے؟

نئے قانون میں نیا کیا ہے؟

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجیسلیٹو ڈویلپمنٹ یعنی پِلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب اور ان کا ادارہ پاکستان میں ہونے والی قانون سازی پر گہری نظر رکھتا ہے۔

احمد بلال محبوب کا ماننا ہے کہ پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون میں اس بات سے قطع نظر کہ اس پر عمل ہو پاتا ہے یا نہیں، دو انتہائی مثبت شقیں شامل کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'اختیار دینا پڑے گا، یا پھر لڑائی ہو گی'

احمد بلال محبوب کے مطابق نئے قانون کے تحت ناظم اور میئر وغیرہ کا انتخاب براہِ راست ہو گا۔ اس سے بلدیاتی نظام کہیں زیادہ مضبوط ہو گا۔

'آپ اندازہ کریں نہ کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں ایک شخص اگر پچاس لاکھ ووٹ لے کر آتا ہے تو اس کو پھر آپ اِدھر اُدھر گھما پھرا نہیں سکتے۔ اس کو اختیار دینا پڑے گا، یا پھر لڑائی ہو گی۔'

ان کا ماننا ہے کہ یہ ایک انتہائی بڑا قدم ہے اور اگر اس پر 'پوری طرح عمل ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے جن کا دائرہ قومی اور صوبائی حکومتوں تک بھی جا سکتا ہے۔'

'سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں گی'

پِلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کے مطابق قانون میں شامل دوسری مثبت چیز یہ ہے کہ 'مقامی حکومتوں کے کونسلر متناسب نمائندگی کے اصول پر منتخب ہوں گے۔'

اس کا مطلب یہ ہو گا کہ لوگ براہِ راست کونسلر کے نام پر ووٹ نہیں دیں گے بلکہ جماعت کو ووٹ دیں گے۔ اس طرح ایک سیاسی جماعت کو جتنے ووٹ ملیں گے، اس تناسب سے اس کے کونسلر کونسل میں آ جائیں گے۔

ان کا ماننا ہے کہ 'اس سے سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں گی۔' ساتھ ہی 'خوف کا پہلو یہ ہے کہ اگر کسی جماعت میں جمہوریت نہ ہو، جیسا کہ ابھی کچھ حماعتوں میں ہے، تو جماعت مضبوط ہونے کے بجائے جماعت کے سربراہ کے ہاتھ میں بے جا اختیارات آ جاتے ہیں۔'

صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق دیہات اور شہروں کی سطح پر الگ الگ کمیٹیوں اور کارپوریشنوں کی بحالی بھی ایک مثبت قدم ہو گا۔ تو پھر خدشات کیا ہیں؟

'اوپر بھی صدارتی نظام لانا چاہتے ہیں اور نیچے بھی؟'

سہیل وڑائچ کے مطابق قانون میں جو نمایاں تبدیلی کی جا رہی ہے جس پر انہیں اعتراض ہے وہ ٹیکنوکریٹس کی شمولیت ہے۔ یعنی جو میئر ہوگا اس کی کابینہ میں آدھا حصہ منتخب جبکہ آدھا ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہو گا۔

'یہ تو منتخب افراد کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔ اس کے بجائے ٹیکنوکریٹس کو ملازم رکھتے۔ یہ جب ایک دفعہ ان کی کابینہ میں شامل ہو جائیں گے تو یہ ایک طرح سے حکمران بن جائیں گے۔'

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بدھ کے روز ایوانِ وزیرِ اعلٰی پنجاب میں دی جانے والی پریس بریفنگ کے دوران اپنا یہ اعتراض صوبائی وزرا کے سامنے بھی رکھا تھا اور انہوں نے اس کو تسلیم بھی کیا تھا۔

'میں نے کہا اوپر بھی آپ صدارتی نظام لانا چاہتے ہیں اور نیچے بھی صدارتی نظام؟ یہ غلط ہے۔'

'پولیس ان کے ماتحت کیوں نہیں؟'

سہیل وڑائچ کا ماننا ہے کہ بظاہر بلدیاتی نظام کو کافی اختیارات منتقل کیے جا رہے ہیں یعنی پارکنگ سے لے کر ٹیکس وصولی تک۔ 'لیکن جو اصل اختیار ہے کہ کیا پولیس ان کے ماتحت ہو گی یا نہیں، وہ نہیں دے رہے۔'

نئے قانون کے مطابق پولیس بدستور صوبائی حکومت کے ماتحت ہو گی۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اگر دیگر ملکوں کی مثالیں دیکھی جائیں تو وہاں پولیس بھی بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت ہوتی ہے۔

کیا نئے قانون کا واحد مقصد ن لیگ کا خاتمہ ہے؟

سہیل وڑائچ کا ماننا ہے کہ اس قانون کے لانے کا پاکستان تحریکِ انصاف کا دوہرا مقصد ہو گا۔ وہ سیاسی فائدہ بھی اٹھانا چاہے گی تاہم ان کے خیال میں 'ایسا نہیں ہے کہ اس کا واحد مقصد ہی ن لیگ کی مقامی سطح پر طاقت کو ختم کرنا ہو گا۔'

ان کا ماننا ہے کہ قانون میں موجود چند شقیں اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ اسے سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر قانون کے اطلاق کے ساتھ ہی موجودہ نظام ختم ہو جائے گا اور بلدیاتی نمائندوں کی جگہ ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیے جائیں گے۔ اس کے ایک سال کے اندر حکومت نئے انتخابات کروائے گی۔

ماضی میں ن لیگ کی حکومت نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے میں دو برس کی تاخیر کی تھی جبکہ منتخب نمائندوں سے حلف مزید دو برس کی تاخیر سے لیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'اگر ن لیگ کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہوتا تو اسمبلی کے پاس نئے انتخابات کروانے کے اختیارات ہیں اور اس کے لیے وزیرِ اعلٰی کی بھی ضرورت نہیں، وزیرِ بلدیات کر سکتا ہے۔‘: صوبہ پنجاب کے وزیرِ اطلاعات صمصام بخاری

تو کیا پی ٹی آئی کی حکومت بھی ویسا ہی کرنا چاہے گی؟

سہیل وڑائچ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت سیاسی بنیادوں پر انتخابات کروائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ پنچائیت اور محلہ کونسلوں سے لے کر دیگر نمائندوں میں ان کی اکثریت ہو۔

'اس میں ہو سکتا ہے وہ ہر جگہ کامیاب نہ ہوں۔ یعنی ہو سکتا ہے لاہور میں کامیاب نہ ہوں مگر ہو سکتا ہے فیصل آباد میں ہو جائیں۔ تو اس طرح انہیں نیچے تک ایک منتخب بنیاد مل جائے گی۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ن لیگ خود ہمیشہ اسی سے فائدہ اٹھاتی رہی ہے۔ یہ جو مقامی حکومتیں ہیں یہی اس کی جماعت کی تنظیم بھی تھی۔'

تاہم ان کے خیال میں جہاں مقامی طور پر اپنا مضبوط نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کو اس قانون کی ضرورت ہے وہیں پاکستان اور صوبہ پنجاب کو بھی اس کی ضرورت ہے۔

حکومتِ پنجاب کا کہنا کیا ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبہ پنجاب کے وزیرِ اطلاعات صمصام بخاری کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نئے بلدیاتی قانون کے ذریعے نظام کو مزید بہتر کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ قانون میں نئے انتخابات کروانے کے لیے ایک سال کا وقفہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت اس سے سیاسی فائدہ اٹھائے۔

'یہ محض قیاس آرائی ہے۔ انتخابات کی تیاری کا عمل اسی وقت سے شروع ہو جائے گا جیسے ہی قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔ ایک سال سے قبل ہو جائیں گے انشا اللہ۔'

تاہم ن لیگ کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز نے اپنی جماعت کے ساتھیوں سمیت اسمبلی میں بل کی منظوری کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اسمبلی کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اس قانون کے خلاف عدالت جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

صمصام بخاری کا کہنا تھا کہ عدالت کے طرف جانا ن لیگ کا جمہوری حق ہے لیکن 'ہمیں تو اپنا کام کرنا ہے اس وقت تک کہ معزز عدالت ہمیں کچھ اور نہ کہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں