نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد کی احتساب عدالت نے گذشتہ برس دسمبر میں میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ضمانت میں توسیع سے متعلق نظرثانی کی درخواست مسترد کردی ہے۔ عدالت نے ان کی بیرون ملک جا کر علاج کروانے سے متعلق دائر کی جانے والی درخواست کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ’اس عرصے کے دوران سابق وزیر اعظم کا علاج تو نہیں کروایا گیا البتہ اس عرصے کے دوران مجرم کے صرف ٹیسٹ، ٹیسٹ اور ٹیسٹ ہی کروائے گئے۔‘

نواز شریف کو سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی 6 ہفتوں کی ضمانت 7 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے‘

العزیزیہ کیس: نواز شریف کی درخواستِ ضمانت مسترد

نواز شریف جیل میں رہنے پر بضد

میاں صاحب تو ڈیل کے موڈ میں نہیں: بلاول

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپریم کورٹ نے 26 مارچ کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں میاں نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ نے 26 مارچ کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں میاں نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعے کو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی ضمانت میں توسیع سے متعلق نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی تو میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل کی طبیعت میں بہتری نہیں آئی لہذا ان کی ضمانت کی مدت میں مزید 8 ہفتوں کی توسیع کی جائے۔

جس پر بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا اس عرصے کے دوران ان کے موکل کا علاج شروع کیا گیا جس پر میاں نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران عارضہ قلب کا علاج تو نہیں ہوسکا البتہ ان کی شوگر اور گردوں کے امراض کا علاج ضرور کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کوٹ لکھپت کا قیدی نمبر 4470

’ایسے وزیراعظم کے ہوتے ہوئے دشمنوں کی کیا ضرورت ہے‘

ڈان لیکس میں کب کیا ہوا

نواز شریف آخر چاہتے کیا ہیں؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شریف میڈیکل کمپلکس کے بورڈ کی رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف کی انجیوگرافی کی جانا بہت ضروری ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ کہا گیا کہ نواز شریف کی زندگی کو شدید خطرات ہیں اور اسی بنیاد پر عدالت نے شریف میڈیکل کملپکس کے میڈیکل بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں ان کو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی۔

بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے میاں نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ عدالت نے جو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی اس میں میاں نواز شریف کے عارضہ قلب کا علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟

جس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ انجیو گرافی کا متبادل کارڈیک ایم آر آئی ہے جس کی سہولت پاکستان میں موجود نہیں ہے اس لیے ان کے موکل کا علاج شروع نہیں ہوسکا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سابق وزیر اعظم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت زندگی بچانے کے لیے دی جاتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسی بھی عدالتی مثالیں موجود ہیں کہ اگر کسی ملزم کو علاج کی غرض سے ضمانت دی گئی اور اُنھوں نے علاج نہیں کروایا تو عدالت نے اس کی ضمانت منسوخ کردی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت کی منسوخی کوئی انہونی بات نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپریم کورٹ نے 26 مارچ کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں میاں نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی (فائل فوٹو)

بینچ کے سربراہ نے مجرم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک نقطہ یہ ہے کہ ان کے موکل کی طبعیت ناساز ہے جس پر عدالت نے اُنھیں چھ ہفتے دیے جبکہ دوسرا نقطہ یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم بیرون ملک جا کر علاج کروانا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کی جو میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں کچھ ڈاکٹروں کی رائے بھی لف کی گئی ہے تاہم جن ڈاکٹروں نے میاں نواز شریف کا علاج بیرون ملک کروانے کا مشورہ دیا ہے اُنھوں نے یہ بات حتمی نہیں کہی اور نہ ہی یہ کہا ہے کہ اس بیماری کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے۔

سابق وزیر اعظم کی ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج کراونے کے اجازت دینے سے متعلق خواجہ حارث عدالت کو مطمئن نہ کرسکے جس کے بعد سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے گذشتہ برس دسمبر میں میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سابق وزیر اعظم لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔

قانونی ماہرین کے مطابق 7 مئی کے بعد میاں نواز شریف کو دوبارہ جیل جانا پڑے گا اور ضمانت کے لیے مجرم کو دوبارہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے میں سپریم کورٹ سے میاں نواز شریف کی نظرثانی کی درخواست مسترد ہونے کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ نواز کو سیاسی طور پر بھی نقصان ہوگا۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق میاں نواز شریف کے دوبارہ جیل جانے اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے پارٹی میں قیادت کے بحران کا خطرہ ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کو آمدن سے زیادہ اثاثہ جات میں ضمانت قبل از گرفتاری دے رکھی ہے

اسی بارے میں