ناصر خان جان کے ساتھ جانبدارانہ سلوک: سما اینکر نے معافی مانگ لی

ناصر خان جان تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption محمد شعیب نے اپنے معذرتی بیان میں کہا ’میں اپنے مہمان ناصر خان جان کا احترام نہیں کر سکا، میں نے کچھ سوال کیے، جو غلط تھے، میرا طریقہ غلط تھا، میرا انداز غلط تھا‘

پاکستانی ٹوئٹر پر ناصر خان جان اس وقت ٹاپ ٹرینڈ بن گئے جب انھوں نے نجی ٹی وی چینل سما کے پروگرام نیا دن میں شرکت کی اور پروگرام کے اینکرز کی جانب سے نہ صرف ان کے ساتھ ہتک آمیز سلوک بلکہ ان کی تضحیک بھی کی گئی۔

تاہم سوشل میڈیا پر اس قدر شدید تنقید کے بعد سما کے پروگرام اینکر محمد شعیب نے ناصر خان جان سے معذرت کر لی ہے۔

محمد شعیب نے اپنے معذرتی بیان میں کہا ’میں اپنے مہمان ناصر خان جان کا احترام نہیں کر سکا، میں نے کچھ سوال کیے، جو غلط تھے، میرا طریقہ غلط تھا، میرا انداز غلط تھا۔ جس سے ناصر خان جان، ان کے مداحوں اور ہمارے دیکھنے والوں کی دل آزاری ہوئی۔ میں آپ سب سے معذرت خواہ ہوں کیونکہ جو مجھ سے ہوا وہ انتہائی غلط تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

فصیح احمد کا ٹوئٹر طوفان

قندیل بلوچ قتل اور مفتی عبدالقوی: کب کیا ہوا؟

ٹوئٹر کا گٹر

نہ صرف یہ بلکہ پروگرام اینکر محمد شعیب نے دوبارہ اپنے پروگرام میں ناصر خان جان کو کال پر لے کر بھی اپنے رویے پر معافی مانگی۔ جس پر ناصر خان جان نے نہ صرف انھیں معاف کر دیا بلکہ اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ اگر مستقبل میں بھی انھیں کسی ٹی وی شو میں مدعو کیا گیا تو وہ ضرور شرکت کریںگے۔

اینکر محمد شعیب کی جانب سے معذرت کے بعد سوشل میڈیا صارفین کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ صارفین نے سما ٹی وی اور اینکر محمد شعیب کے اس اقدام کو سراہا ہے۔

شانزے خان نے لکھا ’انھیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور معافی مانگنے سے وہ بڑے آدمی بن گئے۔ براوو۔‘

سید داؤد شاہ نے لکھا ’بہت اچھی روایت قائم کی ہے۔ معافی مانگنے سے کوئی انسان چھوٹا نہیں ہوتا۔‘

ناصر خان جان سوشل میڈیا پر مشہور ہیں اور فیس بُک اور یوٹیوب پر ان کی مزاحیہ ویڈیوز بہت دیکھی جاتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر تنقید

پروگرام کے کلپ سما نیوز کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے ہیں، جن میں پروگرام اینکر محمد شعیب نے ناصر خان جان پر رکیک جملے کسے، جس کو سوشل میڈیا پر صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

عائشہ خالد نے لکھا 'اینکر بھائی صاحب کو موقع مل گیا پارسا بننے کا، اتنا ہی بُرا ہے یہ انسان تو کیوں مہمان بنایا؟ ریٹنگ کھینچنے کے لیے؟ یا اُس کی بے عزتی کر کے اپنے آپ کو بہتر انسان ثابت کرنے کے لیے؟'

مرزا اقبال بیگ نے لکھا ' کیسے کیسے لوگ اینکر بن جاتے ہیں،خدا خیر کرے۔'

ارم مدثر نے لکھا 'اینکر کو صرف ریٹنگ سے مطلب ہے۔ اس کو نیچا دکھانے کے چکر میں خود ہی نظروں سے گر گیا فضول اینکر۔'

لوگ نہ صرف ناصر خان جان کے حوصلے اور ہمت کی داد دے رہے ہیں کہ انہوں نے حوصلے سے اپنے اوپر تنقید کا سامنا کیا بلکہ سما نیوز سے مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ ان کے انیکر اور چینل ناصر خان جان سے معافی مانگے۔

نبیل کھوکھر کہتے ہیں کہ 'سما جیسے چینل اس اخلاقی پوزیشن میں نہیں کہ وہ دوسروں کو تہذیب سکھائیں۔ انہیں ناصر خان جان سے معذرت کرنی چاہیے اس اخلاقی پولیسنگ پر۔ یہ بہت مضحکہ خیز ہے۔'

مگر ضیا رحمان نے ناصر خان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا 'کیا ملک ہے جس میں سوشل میڈیا پر ناصر خان جان ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ ہم کیسی ثقافت کی ترویج کر رہے ہیں۔'

ارباز بن عادل کا کہنا تھا کہ 'مجھے نہیں پتا کہ لوگ ناصر خان جان کو اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں۔ اینکر نے جو بھی کی وہ غلط تھا مگر جو ناصر خان جان کرتا ہے وہ غلیظ اور گھٹیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Nasirkhanjan
Image caption ناصر خان جان کے فیس بک پر تقریباً پونے تین لاک فینز ہیں اور ان کی ویڈیوز بہت مقبول ہوتی ہیں۔

مگر اس ویڈیو نے ان لوگوں کی رائے بھی بدلی جو ناصر کو ناپسند کرتے تھے۔

جیسا کہ ضدی خٹک نے لکھا 'مجھے پہلی بار ناصر خان جان پسند آیا جب اس نے اپنے جذبات پر کنٹرول رکھا ساری بحث کے دوران۔ غلط یا صحیح میں اس کا فیصلہ نہیں کروں گا مگر کس قسم کی بے وقوفانہ میزبانی تھی یہ؟'

اور پھر اس گفتگو میں زیرِ بحث ناصر خان جان کی جانب سے جسم کی نمائش پر فراز نے پوچھا 'اس اینکر نما بندے سے پوچھیں وہ۔جو سلمان خان اور رنبیر کپور کرتے ہیں وہ فحش ہے یا نہیں، میں سنی لیون کا ذکر نہیںکرنا چاہتا پورا پاکستان سرچ کرتا ہے اسے۔'

نامعلوم نے لکھا 'یاد ہے قندیل کے ساتھ کیا ہوا تھا جب بہت سے نام نہاد پاک دامن اینکر انہیں اپنے شو پر بلاتے تھے اپنے شو کی ریٹنگ کے لیے۔ ان دونوں اینکروں نے بھی اپنی ذہنیت بار بار دکھائی۔'

عبدالسلام علی نے لکھا ' ہر شاخ پہ اینکر بیٹھا ہے، انجام صحافت کیا ہو گا۔'

اینکر کا ردعمل

سوشل میڈیا پر بحث چھڑنے کے بعد اینکر محمد شعیب نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’سوشل میڈیا پر ٹرولز کی میں پروا نہیں کرتا اور ناصر خان پروگرام کے بعد بہت مطمئن تھے اور لوگ جو تنقید کر رہے ہیں انہوں نے پورا پروگرام نہیں دیکھا اور اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جو مجھے اخلاقیات کا درس دے رہے ہیں وہ اپنے الفاظ پر غور کریں کہ مجھے کس طرح مخاطب کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں