داتا دربار کے باہر دھماکہ، چار پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک

داتا دربار تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دھماکے میں 10 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں صوفی بزرگ داتا گنج بخش کے مزار کے باہر ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے، جبکہ دو خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہیں۔

نامہ نگار عمر دراز کے مطابق پنجاب پولیس کے آئی جی عارف نواز نے بتایا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں داتا دربار کے باہر سکیورٹی پر مامور ایلیٹ فورس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں مزاروں پر حملوں کی تاریخ

داتا دربار: ہمارے نامہ نگار نے کیا دیکھا

لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق دھماکہ صبح پونے نو بجے ہوا۔ داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 پر تعینات ایلیٹ فورس کی گاڑی کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔

دھماکے کے نتیجہ میں 10 ہلاکتیں ہوئیں جن میں پانچ شہری بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 21 ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں میں گوجرانوالہ کے رہائشی ہیڈ کانسٹیبل محمد سہیل، مصطفی آباد قصور سے تعلق رکھنے والے ہیڈ کانسٹیبل شاہد نذیر اور لاہور کے علاقے باغبانپورہ کے رہائشی کانسٹیبل محمد سلیم شامل ہیں۔ داتا دربار لاہور میں اندرون شہر کے گنجان آباد علاقے میں واقع ہے اور یہاں روزانہ ہزاروں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔

پولیس کے مطابق اس واقعے میں 25 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں چار اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو میو اور لیڈی ویلنگڈن ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حملے کا ہدف بظاہر پولیس اہلکار تھے

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین، ایک راہگیر اور ایک سکیورٹی گارڈ بھی شامل ہیں۔

حملے کے بعد جاری ایک بیان میں پنجاب پولیس کے سربراہ عارف نواز خان نے کہا کہ ’پنجاب بھر میں سماج دشمن عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس پر حملہ دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ کی علامت ہے۔‘

بیان کے مطابق حملے کے بعد صوبے بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

شدت پسند تنظیم حزب الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان ڈاکٹر عبدالعزیز یوسفزئی نے ایک بیان میں اس کارروائی کو آپریشن شامزئی کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا ہدف پولیس اہلکار ہی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لاہور کا مشہور داتا دربار اندرون شہر کے گنجان آباد علاقے میں واقع ہے اور یہاں روزانہ ہر مسلک سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں

لاہور کے داتا دربار کو ماضی میں بھی دہشت گرد حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

دو جولائی 2010 کو دو خودکش بمباروں نے دربار کے احاطے میں داخل ہوکر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 42 افراد ہلاک اور 175 زخمی ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں