پرل کانٹینینٹل ہوٹل گوادر: حملے میں ہلاک ہونے والے فرہاد برچہ کی کہانی

فرہاد برچہ تصویر کے کاپی رائٹ DEEDAR BARCHA
Image caption فرہاد برچہ پرل کانٹی نینٹل ہوٹل گوادر میں فوڈ اینڈ بیوریج منیجر تھے

40 سالہ فرہاد برچہ کا تعلق ضلع ہنزہ کے گاؤں حسین آباد سے تھا۔ وہ گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

وہ پرل کانٹینینٹل ہوٹل گوادر میں فوڈ اینڈ بیوریج مینیجر تھے۔

اُن کے چھوٹے بھائی دیدار برچہ کے مطابق فرہاد برچہ نے ہوٹل پر حملے سے ٹھیک 20 منٹ قبل دبئی فون کر کے اُن سے خیریت دریافت کی اور پھر کچھ ہی دیر بعد ہوٹل پر حملہ ہوگیا۔

حملے کی اطلاع ملتے ہی دیدار برچہ اور بڑے بھائی عالم جان برچہ سمیت دیگر دوستوں نے مستقل رابطے کرنے کی کوشش کی لیکن کال موصول نہ ہوسکی۔

دیدار برچہ بھی دبئی کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرہاد برچہ ایک ملنسار اور شفیق انسان تھے، وہ بہن بھائیوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے یقین نہیں آتا کہ ہمارے بھائی گوادر میں پیش آنے والے دہشتگرد واقع میں ہم سے بچھڑ چکے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

گوادر کا پرل کانٹینیٹل ہوٹل، سب سے بڑی سرمایہ کاری

گوادرحملہ: تین حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک

’چین کو گوادر میں سعودی عرب کی آمد پر کوئی خدشہ نہیں‘

فرہاد برچہ کے بڑے بھائی عالم جان برچہ کے مطابق اُن کے بھائی پرل کانٹینینٹل ہوٹل گوادر میں 2007 سے 2016 تک فوڈ اینڈ بیوریج کے شعبے میں کام کرتے رہے۔

فرہاد برچہ کو 2017 میں سوڈان کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں نوکری ملی لیکن صرف ایک سال بعد وہ واپس پاکستان آئے اور 2018 میں ایک مرتبہ پھر پرل کانٹینینٹل ہوٹل گوادر میں بطور فوڈ اینڈ بیوریج مینیجر ملازمت شروع کر دی۔

فرہاد برچہ کے بڑے بھائی عالم جان برچہ کے مطابق 8 بہن بھائیوں میں فرہاد برچہ کا نمبر دوسرا تھا۔ اُن کے بھائی کا مزید کہنا تھا کہ 2008 میں انھوں نے گوادر میں ہی شادی کی، ان کے دو بیٹے ہیں، بڑے بیٹے کی عمر 10 سال جبکہ چھوٹے کی عمر 7 سال ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بچوں کی معیاری تعلیم اور بہتر مستقبل کی خاطر فرہاد برچہ نے اپنی فیملی کو کراچی منتقل کیا تھا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’والد عالم خان برچہ سن 71 میں بنگال میں جنگی قیدی رہ چکے ہیں۔ گھر کے مالی حالات بہتر نہ ہونے کے باعث ہم دونوں بھائیوں نے گھر کی ذمہ داریاں کم عمری میں ہی اٹھانی شروع کر دی تھیں۔‘

فرہاد برچہ 1995 میں ہنزہ سے میٹرک پاس کر کے مزید تعلیم کے لیے کراچی چلے گئے تھے۔ چونکہ فرہاد برچہ کو خود ہی رہائش اور تعلیمی اخراجات کا انتظام کرنا تھا تو ایک دوست کی سفارش پر انہیں ہوٹل انڈسٹری میں نوکری ملی تھی۔

والد عالم خان کا کہنا تھا ’فرہاد برچہ کی آنکھوں میں ایک خواب تھا، وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے پاکستان کی سب سے بڑے تعلیم ادارے جامعہ کراچی میں داخلہ لینا چاہتا تھا۔

’انھوں نے دن رات محنت کی اور انٹر پاس کرنے کے بعد جامعہ کراچی کے شعبہ عمرانیات میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوئے۔ وہ دن کے وقت پڑھائی کرتا اور رات کو نوکری۔ فرہاد برچہ نے جامعہ کراچی سے بی اے آنرز اور پھر ایم اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔‘

راقم کی فرہاد برچہ سے 1995 میں اس وقت ملاقات ہوئی جب وہ ہنزہ سے میٹرک پاس کر کے مزید تعلیم کے لیے کراچی آئے۔ میں بھی اُن دنوں کراچی میں زیر تعلیم تھا اور بیچلر زندگی گزار رہا تھا اور یوں فرہاد بھی ہمارے روم میٹ بن گئے اور جامعہ کراچی سے فارغ ہونے تک ایک ہی فلیٹ میں رہے۔

ہوٹل پر شدت پسندوں کے حملے سے ایک دن قبل میری فرہاد برچہ سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی، میرا اصرار تھا کہ وہ گوادر چھوڑ کر گلگت بلتستان میں ہوٹلنگ کا کام شروع کریں۔ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’بڑے بھائی عالم جان برچہ بیرون ملک سے واپس آکر ہوٹلنگ کا کاروبار شروع کر چکے ہیں، میری بھی یہی خواہش ہے کہ ہوٹل انڈسٹری کے تجربے کا فائدہ اٹھایا جائے۔‘

جامعہ کراچی میں ان کے ہم جماعت جلال الدین اور ظفر اقبال کہتے ہیں کہ فرہاد برچہ کی مستقل مزاجی کا یہ عالم تھا کہ ’وہ تعلیم، غیررسمی سرگرمیاں اور روزگار سب کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔‘

فرہاد برچہ کی میت پیر کو اسلام آباد لائی گئی، گاؤں کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے راولپنڈی اسلام آباد میں مقیم اُن کے دوستوں، رشتہ دار اور ہوٹل انتظامیہ کی ایک بڑی تعداد ائیر پورٹ پر موجود تھی۔

اسلام آباد ائیر پورٹ پر غم سے نڈھال برچہ کی خالہ کا کہنا تھا کہ ہمارا بیٹا سیلف میڈ تھا، وہ ہر شخص سے محبت کرتا تھا، ان کے بیوی بچوں کا کیا بنے گا؟ اُن کی بیوہ مریم اور بیٹے ریاست سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ آخر ان کے سر سے سایہ کیوں چھن گیا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں