پنجاب کے سابق سینیئر وزیر علیم خان کی ضمانت منظور

عبدالعلیم خان

پاکستان کی لاہور ہائی کورٹ نے حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور صوبہ پنجاب کے سابق سینیئر وزیر عبدالعلیم خان کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل بنچ نے عبدالعلیم خان کو دس دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم بھی دیا ہے۔ علیم خان کو نیشنل اکاؤنٹیبیلٹی بیورو یعنی نیب نے آمدن سے زائد اثاثے رکھنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں رواں برس فروری میں گرفتار کیا تھا۔

عبدالعلیم خان پنجاب کابینہ میں سینیئر وزیر کے عہدے پر فائز تھے اور بلدیات کے محکمے کا قلمدان بھی ان کے پاس تھا۔ علیم خان نے نیب کی جانب سے گرفتاری پر اپنے صوبائی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

علیم خان کی گرفتاری، توجہ ہٹانے کی کوشش؟

کیا پنجاب کے حقیقی وزیرِاعلیٰ عبدالعلیم خان ہیں؟

ابتدائی تفتیش مکمل ہونے کے بعد مارچ میں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

گرفتاری کے فوراً عبدالعلیم خان وزارت سے مستعفی ہو گئے تھے تاہم وہ نیب کی حفاظتی تحویل میں پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔

درخواست ضمانت پر کارروائی کے دوران نیب کے تفتیشی افسر نے عدالت کے استفسار پر اب تک ہونے والی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے گواہان کے بیانات پڑھ کر سنائے۔ ان بیانات کے ذریعے تفتیشی افسر نے ظاہر کرنے کے کوشش کی کہ علیم خان نے اپنے پراپرٹی کے کاروبار کے لیے مہنگے داموں زمین خریدی جبکہ اسے سستا ظاہر کیا۔

تاہم عبدالعلیم خان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ نیب نے علیم خان پر جتنے الزامات عائد کیے ان میں سے کوئی بھی ثابت نہیں ہو پایا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب اس قدر پرانے الزامات پر تاحال کرپش کا ریفرنس بھی عدالت میں نہیں لا سکا۔

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ علیم خان اپنے تمام تر اثاثہ جات کور کمپنیوں کے حوالے سے معلومات ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کر چکے ہیں۔ عدالت نے ان کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

علیم خان کے اثاثوں کی تفصیل ؟

نیب نے علیم خان پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں صوبائی اسمبلی کا ممبر ہوتے ہوئے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اپنے ذرائع سے زائد اثاثہ جات اکٹھے کیے۔

نیب کے مطابق علیم خان نے پراپرٹی کے کاروبار کے لیے 1500 کنال اراضی خریدی تاہم جس رقم سے یہ زمین خریدی گئی علیم خان اس کے حوالے سے اپنے ظاہرشدہ ذرائع آمدن سے اس کی وضاحت دینے میں مبینہ طور پر ناکام رہے۔

عبدالعلیم خان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے آمدن سے زائد ذرائع بنانے کے لیے 2005 اور 2006 میں متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں آف شور کمپنیاں قائم کیں۔

مبینہ طور پر ان کی برٹش ورجن آئی لینڈ میں آف شور کمپنی ہیکسام ( Hexam) اور متحدہ عرب امارات میں ان کے زیر انتظام چلائی جانے والی آف شور کمپنی اے اینڈ اے ( A&A) بھی شامل ہے جن کے بارے میں نیب حکام تفتیش کر رہے ہیں۔

نیب حکام کی تفتیش کے مطابق لندن میں چار فلیٹس مبینہ طور پر علیم خان کی ملکیت ہیں۔

اسی بارے میں