کوئٹہ: پولیس موبائل کے قریب دھماکہ، چار افراد ہلاک، 11 زخمی

کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم کے ایک دھماکے میں پولیس کے کم از کم چار اہلکار ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کا واقعہ کوئٹہ شہر کے علاقے سیٹلائیٹ ٹاﺅن میں پیش آیا۔

جائے وقوعہ کے قریب میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کو نماز تراویح کی ادائیگی کے دوران مساجد کی سیکورٹی کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سیٹلائیٹ ٹاﺅن میں منی مارکیٹ کے قریب مسجد الہدیٰ کے باہر جب بلوچستان کانسٹیبلری کے ریپیڈ ریسپانس گروپ (آر آر جی) کی دو گاڑیوں میں سیکورٹی اہلکار آئے تو دونوں گاڑیوں کے درمیان ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

گوادرحملہ: تین حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک

کوئٹہ: ایف سی کے مددگار سینٹر پر حملہ ناکام

کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز پر تین خودکش حملے

کوئٹہ: پولیس کی گاڑی پر فائرنگ سے ایس پی ہلاک

انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں آر آر جی کے چار اہلکار ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

عبد الرزاق چیمہ نے بتایا کہ ابتدائی شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک آئی ای ڈی دھماکہ تھا جو ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں پولیس کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے کوئٹہ میں بھی بم دھماکوں کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آ رہے ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں حالات میں بہتری آئی ہے۔

دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

رمضان میں شدت پسندی کے واقعات

واضح رہے کہ رمضان کے مہینے میں یہ ملک میں شدت پسندی کا تیسرا واقعہ ہے۔

دو روز قبل بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں فائیو سٹار ہوٹل 'پرل کانٹیننٹل' پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں نیوی کے ایک اہلکار اور چار سکیورٹی گارڈز ہلاک ہو گئے تھے تاہم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین شدت پسند بھی مارے گئے تھے۔

رواں ماہ آٹھ مئی کو لاہور میں داتا دربار کے باہر خودکش دھماکے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں