خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان جاری تنازع کی وجہ کیا ہے؟

پشاور احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ Dr. Rizwan, President YDA
Image caption جمعرات کو تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ہڑتال کی گئی

خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان تناؤ شدت اختیار کر گیا۔ ڈاکٹروں نے جمعرات کو تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ہڑتال کی اور حکومت کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں ’اصلاحات‘ ضرور ہوں گی۔

پشاور کے بڑے ہسپتال میں احتجاج اور وزیر صحت اور ان کے گارڈ کے ایک ڈاکٹر پر ’تشدد کے واقعات‘ پر دونوں جانب سے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

جمعرات کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں احتجاج پر بیٹھے ڈاکٹروں کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ہسپتالوں کا بائیکاٹ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔

یہ بھی پڑھیے

دوا سازوں کا احتجاج کیوں؟

اب سکیورٹی گارڈ مریضوں کا ’معائنہ‘ کریں گے؟

خیبر ٹیچنگ ہسپتال: نرس کو ہراساں کرنے پر ڈاکٹر برخاست

تصویر کے کاپی رائٹ Dr. Rizwan, President YDA

مسئلہ ہے کیا؟

بظاہر تو اس مسئلے کی وجہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں وزیر صحت ہشام انعام اللہ اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالدین کے درمیان تلخ کلامی یا وزیر کا ڈاکٹر کے احتجاج کے طریقے پر غصہ ہونا تھا جس سے بات تشدد تک پہنچی اور سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیو اور تصویریں ایسی وائرل ہوئیں کہ دیگر میڈیا بھی اس کی کوریج اپنے اپنے طریقوں سے کرنے لگا۔

خیبر پختونخوا میں ڈاکٹر پاکستان تحریک انصاف کے صحت کے شعبے میں کیے گئے بڑے فیصلوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کو ایم ٹی آئی یعنی میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ کا نظام قبول نہیں ہے۔

ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟

ینگ ڈاکٹرز ایوسی ایشن کے صوبائی صدر ڈاکٹر رضوان کنڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا پہلا مطالبہ تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ایم ٹی آئی کے بارے میں جو انکوائری ہوئی ہے اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ انھیں کوئی اصلاحات نظر نہیں آ رہیں۔

دوسرا مطالبہ ہے کہ حکومت اب تمام اضلاع کے ہسپتالوں میں نئے قانون کے نام پر نجکاری کر رہی ہے اور وہ ہسپتالوں کی نجکاری نہیں چاہتے کیونکہ ایم ٹی آئی کے نام پر ہسپتالوں میں غریبوں کے لیے علاج مہنگا کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے بنیادی سہولیات جیسے ایکسرے اور دیگر ٹیسٹ مفت ہو جاتے تھے لیکن اب ہر ٹیسٹ اور ایکسرے کی فیس لی جاتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہی نظام اب دیگر شہروں میں نئے قانون کے تحت لایا جا رہا ہے۔‘

نیا قانون کیا ہے؟

ڈاکٹر رضوان کنڈی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) اور ریجنل ہیلتھ اتھارٹی (آر ایچ اے) ایکٹ کے نام سے قانون لایا جا رہا ہے جس سے اضلاع میں تمام سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکز کو نجی تحویل میں دیے جانے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ اس قانون کو پوشیدہ رکھا جا رہا ہے۔ جب ڈاکٹر مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ قانون پبلک کے سامنے لایا جائے تو ایسا نہیں کیا جاتا جس سے ان میں تشویش پائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Dr. Rizwan, President YDA

کیا مسئلہ ڈاکٹروں کے اپنے علاقوں میں تبادلوں کا بھی ہے؟

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈاکٹر ان شہروں میں تعینات ہوں گے جہاں کا ان کا ڈومیسائل ہے اور اس سلسلے میں بڑی تعداد میں ڈاکٹروں کے تبادلے کر بھی دیے گئے ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ڈاکٹر حکومت کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔

ڈاکٹر رضوان کنڈی نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہے، ڈاکٹر ہر جگہ کام کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ وہاں اس متعلقہ شعبے کی تمام سہولیات موجود ہوں‘۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر ایک دل کی بیماریوں کے سرجن کو کسی ضلعی ہسپتال میں تعینات کر دیں اور وہاں اس شعبے کی سہولت ہو ہی نہیں تو ڈاکٹر وہاں جا کر کیا کرے گا۔ اگر ان شہروں میں متعلقہ ڈاکٹروں کے لیے بنیادی ضروریات مکمل ہوں تو ڈاکٹر کیوں ان شہروں میں نہیں جائیں گے۔‘

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے خلاف پشاور میں چند سینئر ڈاکٹروں نے استعفے بھی دیے ہیں۔ یہ سینئر ڈاکٹر ان ’اصلاحات‘ کے حق میں نہیں تھے۔

حکومت کیا کہتی ہے؟

ادھر جمعرات کو صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے صوبائی سیکرٹری صحت کے ہمراہ ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا، دیگر عملے کی بھی تعیناتی ہوئی اور ان کے لیے مراعات میں بھی اضافہ کیا گیا اور اب بھی حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’صحت کے شعبے میں اصلاحات ضرور ہوں گی، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا لیکن اگر ڈاکٹروں کو کوئی مشکلات ہیں اور ان کے کوئی مطالبات ہیں تو حکومت ان پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ ڈاکٹروں کے تبادلے تو کیے جا رہے ہیں لیکن ان علاقوں میں صحت کی سہولیات نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کے یہ بتادلے بنیادی طور پر کم سے کم دو برسوں کے لیے ہیں اور جہاں متعلقہ شعبے کی سہولیات دستیاب نہیں ہوں گی تو وہاں ان ڈاکٹروں کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس فیصلے کا مقصد انتہائی واضح ہے تمام ماہر ڈاکٹر پشاور اور ایک آدھ دوسرے شہر میں ہیں جبکہ تیس کے لگ بھگ اضلاع میں ڈاکٹر جانے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام اضلاع میں صحت کی تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ڈاکٹروں سے بھی درخواست ہے کہ وہ ان علاقوں میں جا کر انسانیت کی خدمت کریں۔‘

خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں ’اصلاحات‘ کا سلسلہ پی ٹی آئی کے گذشتہ دور سے شروع ہوا جس میں مختلف اصلاحات تجویز کی گئی تھیں اور ان پر عمل درآمد کے خلاف ڈاکٹر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان ڈاکٹروں کا الزام ہے کہ اصلاحات کے نام پر صحت کے شعبے کو تباہ کیا جا رہا ہے اور ہسپتالوں میں علاج مزید مہنگا کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں