کیا قمرالزمان کائرہ کو بیٹے کے حادثے کی اطلاع غلط انداز میں دی گئی؟

ٹویٹر تصویر کے کاپی رائٹ @kashmalamna/Twitter

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزمان کائرہ کے نوجوان بیٹے کی گذشتہ روز ٹریفک کے حادثے میں ہلاکت کی خبر آتے ہی سوشل میڈیا پر جہاں ایک طرف سوگوار خاندان کے لیے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوا، وہیں سماجی شخصیات، صحافیوں اور ٹوئٹر صارفین نے مختلف زاویوں سے بحث کا آغاز کر دیا۔

تعزیتی پیغامات

قمرالزمان کائرہ کے بیٹے کی ہلاکت کی خبر کے فوراً بعد سوگوار خاندان کے لیے تعزیتی پیغامات بھیجے گیے۔ ان پیغامات کو بھیجنے والوں میں سیاسی حالیف، سیاسی حریف، سماجی شخصیات، صحافی اور عام صارفین شامل تھے جنہوں نے اس ناقابل تلافی نقصان پر انتہائی افسوس اور صدمے کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیے!

قمر زمان کائرہ پیپلز پارٹی پنجاب کے نئے صدر

چار مطالبات پورے نہ ہوئے تو لانگ مارچ: بلاول

پاکستان پیپلز پارٹی کا تلوار اور تیر سے رشتہ

پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے ٹویٹ کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں قمرالزمان کائرہ کے بیٹے کی ہلاکت پر افسوس کیا اور اس ناقابل تلافی نقصان پر اہلِخانہ کو صبر کی دعا کی۔

وزیراعظم عمران خان، چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، اور آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قمر الزمان کائرہ کے بیٹے کی وفات پر اظہار افسوس اور غمزدہ والدین کے صبر کی دعا کی۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب وسطی کے صدر قمر الزمان کائرہ کو اپنے جواں سال بیٹے کی ٹریفک حادثے میں ہلاک ہونے کی خبر اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ملی تھی۔

صحافتی اقدار پر بحث

ٹوئٹرصارفین نے قمرالزمان کائرہ کو ان کے بیٹے کے ٹریفک حادثے کی خبر دینے والے صحافی کے انداز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایک ٹوئٹر صارف مہر بانو قریشی کا کہنا تھا کہ قمرالزمان کائرہ کے بیٹے کی موت سے بہت صدمہ ہوا لیکن ان کا کہنا تھا کہ جس سنگدلی سے اس حادثے کی انھیں اطلاع دی گئی ہے اس نے انھیں بہت طیش دلایا ہے.

انھوں نے ٹویٹ میں کہا: ’ہمارے نیوز چینلز کو ذمے داری کا کوئی احساس نہیں ہے. اتنے بڑے نقصان کا ایک تماشا بنانے پر شرم کرنی چاہیے۔‘

چند صارفین نے تو جذبات میں آکر نجی میڈیا کے اس رپورٹر کو اخلاقیات کا درس بھی دیا اور چند نے اس کو نوکری سے فارغ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

البتہ ایک ٹوئٹر صارف اور صحافی عدنان طارق نے رپورٹرز کی حساسیت کے حوالے سے ٹریننگ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی والد کو ان کے بیٹے کی ہلاکت کے خبر اس انداز میں دینے کا یہ کوئی مناسب طریقہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ @adnaantariq/twitter

اسی حوالے سے صحافتی اقدار پر بات کرتے ہوئے عینی نامی ایک ٹوئٹر صارف نے ٹویٹ میں کہا کہ جس طرح سے آج قمرالزمان کائرہ کو ایک افسوس ناک خبر دی گئی اس پر میڈیا نیوز رومز اور صحافتی اکیڈمیوں میں بات ہونی چاہیے۔

اس بحث میں جامع نقطہ پیش کرتے ہوئے خضرا منیر نامی ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ جس بے دردی سے قمرالزمان کائرہ کو ان کے بیٹے کی ہلاکت کی خبر دی گئی اس پر کوئی معافی نہیں ہے مگر وہ صرف رپورٹر کے لیے ناقابل معافی ہی نہیں جو کسی جرنلزم سکول سے نہیں پڑھا بلکہ اس فرسودہ نظام کے لیے بھی ناقابل معافی ہے جو ناکام ہو چکا ہے۔

البتہ خضرا نے لکھا کہ وہ رپورٹر کو نوکری سے نکالے جانے کے مطالبے سے متفق نہیں ہیں۔

سیاسی اختلافات و عدم برداشت

پاکستان کے نوجوان طبقے میں سیاسی بلوغت کی کمی بھی دیکھنے میں آئی جب اس افسوسناک واقعے پر قمرالزمان کی سیاسی جماعت کے حریفوں نے ان کے ناقابل تلافی نقصان سیاسی اختلافات کے بیانے کی نظر کر دیا۔

ایک ٹوئٹر صارف نے سیاسی تنقید اور طنز کرتے ہوئے اس حادثے کو ان کی جماعت کی جانب سے کی گئی مبینہ کرپشن کے الزامات کا نتیجہ اور مکافاتِ عمل قرار دیا۔

اس پر صحافی ندیم فاروق پراچہ سمیت دیگر صارفین نے ان خیالات کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

اسی بارے میں