صحافی شاہ زیب جیلانی کے خلاف مقدمہ ناکافی شواہد کی بنا پر خارج

شاہ زیب جیلانی تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption شاہ زیب جیلانی سینئر صحافی ہیں، اس وقت وہ مقامی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام 'آج کامران خان کے ساتھ' کے سینیئر پروڈیوسر ہیں

کراچی کی ایک عدالت نے سینیئر صحافی شاہ زیب جیلانی پر پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف تبصرہ کرنے کے الزام میں قائم مقدمہ ناکافی شواہد کی بنا پر خارج کر دیا ہے۔

سنیچر کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے مقدمہ کو ’سی کلاس‘ قرار دیا جس کا مطلب ہے کہ ایف آئی آر میں درج الزامات کمزور ہیں اور مقدمہ قابل سماعت نہیں ہے۔

اس سے قبل چھ اپریل کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے مولوی اقبال حیدر نامی وکیل کی مدعیت میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس میں ان پر پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف تبصرہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے!

صحافی شاہ زیب جیلانی کی ضمانت قبل از گرفتاری

’لاپتہ صحافی کے خاندان کو علم ہے وہ کہاں ہے‘

گرفتار صحافی رضوان رضی کی ضمانت منظور

’جس کے خلاف خبر چھپتی ہے وہ دشمن بن جاتا ہے‘

شاہ زیب جیلانی کا موقف

عدالتی فیصلے کے بعد صحافی شاہ زیب جیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مقدمہ تقریباً پچھلے ڈیڑھ ماہ چلا اور ہم اس کیس میں چودہ، پندرہ مرتبہ عدالت میں پیش ہوئے۔ پہلے دن سے ہم نے عدالت کے ساتھ پورا تعاون کیا کیونکہ ہم شروع ہی سے قائل تھے کہ یہ ایک جھوٹا کیس ہے اور ہم نے کوئی قانون نہیں توڑا۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس پورے عرصے کے دوران ایف آئی اے جس نے یہ کیس داخل کیا تھا، ان کے نمائندے صرف تین دفعہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ اکثر تو وہ آتے بھی نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آخری پیشی جس میں ایف آئی اے کے وکلا اور انویسٹی گیشن افسر بھی آئے تھے، جج صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ایک صحافی پر سائبر دہشت گردی، نفرت انگیز مواد پھیلانے کے سنگین الزامات لگائے تھے اور پھر خود ہی واپس لے کر اب کہہ رہے ہیں کہ ان پر ہتک عزت کا مقدمہ چلایا جائے تو ہتک عزت کے مقدمے کے معیار پر یہ الزامات پورا نہیں اترتے تو آپ کیا کہیں گے جس پر ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

’اس کے بعد معزز جج کو یہ واضح ہو چکا تھا کہ یہ ایک بے بنیاد کیس ہے۔ جس کے بعد عدالت نے ناکافی شواہد کی بنا پر اس مقدمے کو خارج کر دیا۔‘

عدالت کی جانب سے مدعی یا ایف آئی اے کو کمزور کیس داخل کرنے پر کوئی وارننگ دیے جانے کے سوال پر شاہ زیب جیلانی کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات تک عدالت نے انھیں کوئی وارننگ نہیں دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت کی جانب سے ان کو وارننگ دی جانی چاہیے کیونکہ لوگ الٹے سیدھے مقدمات لے کر چلے جاتے ہیں اور مضحکہ خیز بات ہے کہ یہ درج بھی ہو جاتے ہیں۔‘

شاہ زیب جیلانی نے کہا کہ ان قوانین کا مثبت تنقید کو دبانے کے لیے غلط استعمال نہ کیا جائے۔

انھوں نے ایف آئی اے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت ان کا بہت اہم کام ہے، روزانہ ملک میں متعدد خواتین کو انٹرنیٹ پر ہراساں کیا جاتا ہے، ان کی کردار کشی کی جاتی ہے، لوگوں کے عقیدے کے حوالے سے نفرت انگیز مواد موجود ہے ایف آئی اے کو چاہیے کہ ان کیسز پر اپنی توجہ مرکوز کرے، نہ کہ صحافیوں کی زبان بندی کے لیے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات پر مقدمات قائم کرے۔‘

انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس تجربے کے بعد ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے بھی کچھ سیکھا ہو گا۔

مقدمے کا پس منظر

واضح رہے کہ 11 اپریل کو کراچی کی ایک عدالت نے صحافی شاہ زیب جیلانی کی ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے کے عوض قبل از گرفتاری عبوری ضمانت منظور کرلی تھی۔

مولوی اقبال حیدر نامی وکیل نے ایف آئی اے کے درج مقدمے میں موقف اپنایا تھا کہ مقامی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام 'آج کامران خان کے ساتھ' میں میزبان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے شاہ زیب جیلانی نے پاکستان کے 'مقدس' اداروں کے خلاف توہین آمیز ریمارکس دیے ہیں۔

اور یہ تاثر دیا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے لوگوں کی جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption ایف آئی اے نے وکیل مولوی اقبال حیدر کی مدعیت میں ان پر پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف تبصرہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ 18 مارچ کے پروگرام میں ایک حساس نوعیت کے سوال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سیاسی نظام میں مداخلت کا الزام لگایا گیا اور یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم عمران خان موجود نہیں رہیں گے۔

اگر وہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے تو اسٹیبلشمنٹ ان سے ناراض ہوجائے گی۔ ایف آئی اے کو 28 مارچ کو یہ درخواست موصول ہوئی تھی۔

شاہ زیب جیلانی تین برس تک دنیا نیوز کے ساتھ بطور سینئر ایگزیکیٹو کام کرتے رہے تھے تاہم اس درخواست کے سامنے آنے کے بعد 19 اپریل کو انھیں نوکری سے برخاست کر دیا گیا اور اس کی وجہ چینل پر ’دباؤ‘ بتائی گئی۔

دنیا نیوز سے قبل شاہ زیب بی بی سی اردو اور بی بی سی ورلڈ سروس سے بھی منسلک رہ چکے ہیں۔

عدالتی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا کا ردعمل

شاہ زیب جیلانی پر بنائے جانے والے مقدمہ کو عدالت کی جانب سے خارج کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ٹوئٹر صارفین نے عدالتی فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور شاہ زیب جیلانی کو ثابت قدم رہنے پر داد دی۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مرتضیٰ سولنگی نے ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’شاہ زیب جیلانی کے خلاف بدنیتی پر قائم جھوٹا اور من گھڑت مقدمہ خارج ہو گیا ہے۔ اور ان کی بہادری اور استقامت نے ثابت کیا ہے کہ فاسشسٹ ٹھگوں کے گروہ کی حکمرانی میں اب بھی اس ملک میں سب کچھ نہیں کھویا.‘

صحافی عمر چیمہ نے بھی اپنی ٹویٹ میں شاہ زیب جیلانی کو مقدمہ خارج ہونے پر مبارکباد دی اور اس مقدمہ کے حوالے سے ان کے حوصلے کی داد دی۔

جبکہ صحافی ماہم مہر نے عدالت کے باہر شاہ زیب جیلانی کی مسکراتے ہوئے تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’میں بہت خوش ہوں کہ شاہ زیب جیلانی آزاد ہیں‘

سینیئر صحافی مبشر زیدی نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے شاہ زیب جیلانی پر درج مقدمہ کے خارج اور ان پر ایف آئی اے کی جانب سے سائبر دہشت گردی کے تحت لگنے والے الزامات سے بری ہونے پر اسے آزادی صحافت سے تشبیہ دی ہے۔

اسی بارے میں