نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطل کرنے کی درخواست سماعت کے لیے منظور

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ 21 مئی کو اس درخواست کی سماعت کرے گا۔ واضح رہے کہ اسی بینچ نے میاں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر دائر کی گئی ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس کے خلاف سابق وزیر اعظم سپریم کورٹ گئے تھے جہاں سے اُنھیں چھ ہفتوں کی عبوری ضمانت ملی تھی۔

میاں نواز شریف نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں احتساب عدالت کی طرف سے ملنے والی سات سال قید کی سزا کو معطل کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر عدالت سے رجوع کیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو گزشتہ سال دسمبر میں سات برس قید کی سزا سنائی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق احتساب عدالت کی سزا کی معطلی کی درخواست میاں نواز شریف کی صحت کی خرابی کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

مزید پڑھیے

العزیزیہ کیس: نواز شریف کی درخواستِ ضمانت مسترد

نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات برس قید، فلیگ شپ میں بری

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل واپسی

پیر کے روز نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں قومی احتساب بیورو کے علاوہ احتساب عدالت کے جج اور سپرٹینڈنٹ کوٹ لکھپت جیل لاہور کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ ڈاکٹرز کی رائے ہے کہ نواز شریف کو متعدد جان لیوا امراض لاحق ہیں جن کے علاج کے لیے ان کا جیل سے باہر ہونا بہت ضروری ہے۔

اس درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان بیماریوں کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہیں جبکہ ڈاکٹروں نے بھی میاں نواز شریف کو بیرون ملک جا کر علاج کروانے کی رائے دی ہے۔

اس درخواست کے ساتھ مجرم نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس اور ان کی بیماریوں سے متعلق ڈاکٹرز کی رائے کو بھی منسلک کیا گیا ہے۔

سابق وزیر اعظم کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیاسی مخالفین اور حکمراں اتحاد میں شامل افراد نے پروپیگنڈا کیا کہ علاج کے لیے ضمانت کی درخواست این آر او ہے۔

درخواست گزار کے مطابق سزا معطلی کی درخواست کو این آر او کہنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ pmln

میاں نواز شریف کی درخواست میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اگر عدالت عالیہ العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سزا معطل کرتی ہے تو اس سے پراسیکیوشن کے کیس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سزا کے خلاف اپیل پر فیصلے تک احتساب عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزا معطل کر کے طبّی بنیادوں پر ضمانت دی جائے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سے قبل نواز شریف کی طبّی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست مسترد کی تھی اور کہا تھا کہ مجرم کو جو امراض لاحق ہیں اس کا علاج جیل میں بھی ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے علاج کی غرض سے نواز شریف کو چھ ہفتوں کے لیے سزا معطل کی تھی اور بعدازاں اعلیٰ عدالت نے اس میں توسیع کی درخواست مسترد کی جس کے بعد انھیں واپس کوٹ لکھپت جیل جانا پڑا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر سابق وزیر اعظم چاہیں تو طبّی بنیادوں پر سزا کی معطلی کے لیے دوبارہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں