مریم نواز: ’ببانگِ دہل کہتی ہوں کہ بیانیہ ایک ہی ہے کہ ووٹ کو عزت دو‘

تصویر کے کاپی رائٹ PMLN
Image caption پی ایم ایل این کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس

پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ ببانگ دہل کہتی ہیں کہ ’بیانیہ ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ووٹ کو عزت دو۔'

پیر کو مسلم لیگ ن کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’نواز شریف کا بیانیہ پاکستان کے اچھے مستقبل کی ضمانت ہے اور اِس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو آئین کی روح سے متصادم ہو۔‘

انھوں نے یہ بات ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی جس میں اُن سے پوچھا گیا کہ بیانیہ نواز شریف کا چلے گا یا شہباز شریف کا۔

اسی بارے میں

کسی کے خلاف نہیں پاکستان کے حق میں جمع ہوئے: بلاول

ضمانت کی سیاست اور سال 2019

ڈیل اور ڈھیل، دونوں ختم۔۔۔

ان کے مطابق ’بیانیہ ایک ہی ہے لیکن سب کا اپنا اپنا انداز ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ شہباز شریف دل سے نواز شریف کو اپنا لیڈر مانتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PMLN
Image caption اتوار کو حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی جانب سے دی گئی افطار دعوت میں شرکت کی تھی

مریم نواز نے مزید کہا 'اگر پہلے یہ دو رائے بھی ہو گی کہ بیانیہ ایسا نہیں ایسا ہونا چاہیے تو بھی اب سب اسی بیانیے پر آ گئے ہیں۔‘

انہوں نے نیشنل اکاؤنٹیبیلیٹی بیورو یا نیب پر کڑی تنقید کی اور وزیراعظم عمران خان پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ انھیں وزیراعظم نہیں مانتی۔

یہ بھی پڑھیے

’میاں صاحب، اب کیا ہو گا؟‘

‘نواز شریف کے پاس ریلیف کے راستے اب بھی موجود ہیں‘

میاں صاحب تو ڈیل کے موڈ میں نہیں: بلاول

انھوں نے کہا کہ ’حکومت کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں یہ خود ہی خود کو گرا دے گی۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا 'ہم تو وہ لوگ ہیں جو اِس جعلی احتساب اور سزاؤں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم تو آگ کے دریا میں سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ ہم وہ لوگ نہیں ہیں جن پر مقدمات ہوں، اشتہاری ہوں اور بھاگے ہوئے ہوں۔‘

پیر کو ہونے والا اجلاس مسلم لیگ نون کی حالیہ تنظیم سازی کے بعد پہلا اجلاس تھا جس میں تمام نئے عہدیداروں نے شرکت کی۔

گزشتہ روز حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی جانب سے دی گئی افطار دعوت میں شرکت کی تھی جس میں بلاول بھٹو کے بقول ملک کو درپیش مسائل پر بات چیت کی گئی۔ اِس اجلاس میں مریم نواز اور بلاول بھٹو توجہ کا مرکز تھے۔ سیاسی مبصرین کی جانب سے دونوں کی ملاقات کو ایک اہم پیش رفت سمجھا گیا ہے۔

ملاقات کے بعد تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی جس میں بتایا گیا ملاقات کا مقصد پاکستانی عوام کو درپیش مشکلات پر غور و فکر کرنا تھا۔