غیرمحفوظ سرنج یا منتقلیِ خون:رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کیسے پھیلا

رتو ڈیرو
Image caption علاقے میں منشیات کے عادی افراد اور سیکس ورکرز میں وائرس کی موجودگی تو پہلے ہی تھی لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ عام آبادی میں یہ وائرس سامنے آیا ہے

لاڑکانہ کی تحصیل رتو ڈیرو تقریباً دو لاکھ افراد پر مشتمل ہے جس کے تحصیل ہسپتال میں ان دنوں خواتین اور بچوں کا ہجوم رہتا ہے۔

یہاں آنے والی شمیم (فرضی نام) اور ان کے تین سالہ بیٹے کی زندگی ایک ٹیسٹ کے بعد بدل سی گئی ہے۔ علاقے میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے بعد ہونے والے ٹیسٹ میں شمیم اور ان کے بیٹے دونوں کا نتیجہ پازیٹو آیا ہے۔

شمیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک برس سے بخار میں مبتلا تھیں اور مسلسل ان کی ٹانگوں میں درد رہتا تھا۔ وہ اس سلسلے میں مقامی ڈاکٹروں سے دوا بھی لی مگر افاقہ نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

سرگودھا کا گاؤں ایچ آئی وی ایڈز کی لپیٹ میں کیسے آیا؟

ایچ آئی وی کے مریض اب نارمل زندگی جی سکتے ہیں

’سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ سے ایچ آئی وی کے آثار ختم‘

ایچ آئی وی: ’انقلابی‘ دوا کے تجربات شروع

ان کا کہنا ہے کہ پہلے انھیں رتو ڈیرو میں ٹیسٹ کے لیے کہا گیا اور اب لاڑکانہ میں ہسپتال جانے کو کہا گیا ہے۔

رتو ڈیرو میں ہی ٹیسٹ کروانے کے لیے آنے والی غلام صغراں تو ایچ آئی وی نیگیٹو نکلیں لیکن یہ وائرس ان کے ایک رشتہ دار کے بیٹے کی جان لے چکا ہے۔

رتو ڈیرو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپریل سے اب تک رتوڈیرو میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے زیادہ ہو چکی ہے

ایچ آئی وی کا پتا کیسے چلا؟

ایچ آئی وی وائرس کے پھیلاؤ کا پتا سب سے پہلے ڈاکٹر عمران عاربانی نے لگایا جو گزشتہ پندرہ سالوں سے رتو ڈیرو میں پریکٹس کر رہے ہیں۔ ان کے پاس فروری میں تیز بخار کا شکار مریض بچوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا اور ان کے خون کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی۔

ڈاکٹر عمران نے بتایا کہ فروری کے وسط میں ایک بچی ایمان فاطمہ آئی تھی جسے تیز بخار تھا۔ انھوں نے 22 فروری کو اس کی بلڈ سکریننگ کے لیے کہا اور یکم مارچ کو اس کے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کی تصدیق ہو گئی۔

’اس کے بعد دیگر بچے بھی آتے گئے اور میں ان سب کی بلڈ سکریننگ کرواتا گیا اور یوں 24 اپریل تک پندرہ بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹو کا پتہ چلا جبکہ ان سب کے والدین نیگیٹو تھے۔‘

15 ماہ کی ایمان فاطمہ کے والد سید نذیر حسین نے بتایا کہ ان کی بچی کو زکام اور بخار تھا جس کا علاج کرایا اور وہ ٹھیک ہو گئی لیکن چند دنوں کے بعد مسلسل بخار میں مبتلا ہو گئی۔ ان کے مطابق وہ اسے دوبارہ مقامی ڈاکٹروں کے پاس لے گئے لیکن افاقہ نہیں ہوا۔

ان کے مطابق وہ لاڑکانہ چانڈکا ہسپتال بھی گئے مگر وہاں بھی کوئی تشخیص نہیں کر سکا اور بچی کی طبیعت دن بدن خراب ہو رہی تھی بالاخر ڈاکٹر عمران نے انھیں ایچ آئی وی ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا جس میں رزلٹ پازیٹو آیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’ایچ آئی وی سے متاثرہ خواجہ سراؤں کا وائرس قابو میں ہے‘

نذیر حسین نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر عمران سے رابطے میں رہے جنھوں نے انھیں بتایا کہ مزید 15 بچے اس وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے فیس بک پر اس بارے میں بات کی اور مقامی صحافیوں نے جب ان سے رابطہ کیا تو اس کے بارے میں باہر کی دنیا کو معلوم ہوا۔

رتو ڈیرو سب سے زیادہ متاثر

اپریل سے اب تک رتوڈیرو میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یہاں کے تحصیل ہسپتال میں بلڈ سکریننگ کے لیے آٹھ کاؤنٹر بنائے گئے ہیں جن میں سے سات خواتین اور بچوں کے لیے مختص ہیں۔

صبح نو بجے سے لے کر تین بجے تک یہاں لوگ ایچ آئی وی کے بارے میں اپنا شبہ دور کرنے آتے ہیں اور صرف یہاں روزانہ دو ہزار افراد کی سکریننگ کی جاتی ہے جنھیں پہلی بلڈ سکریننگ پر ایچ آئی وی پازیٹو یا نگیٹو کے بارے میں بتا دیا جاتا ہے۔

کیمپ کے انچارج ڈاکٹر غوث محمد کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے آنے والوں کی رجسٹریشن کرتے ہیں جس کے بعد مریض کا کٹ ون (بایو لائن) پر ایچ آئی وی ٹیسٹ ہوتا ہے اگر اس میں سے کوئی پازیٹو آتا ہے تو اس کو پیتھالوجسٹ کی طرف بھیجا جاتا ہے تاکہ دوسری کٹ (یونی گولڈ) پر اس کا دوسرا ٹیسٹ ہو جبکہ تیسرے ٹیسٹ (ایلسا) کے لیے لاڑکانہ چانڈکا ہسپتال روانہ کر دیا جاتا ہے۔

لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کا مرض نئی چیز نہیں ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف لاڑکانہ میں 32 خواجہ سرا ایچ آئی وی پازیٹو ہیں۔

ایچ آئی وی ٹیسٹ
Image caption تحصیل ہسپتال میں بلڈ سکریننگ کے لیے آٹھ کاؤنٹر بنائے گئے ہیں جن میں سے سات خواتین اور بچوں کے لیے مختص ہیں

پرھ نامی غیرسرکاری تنظیم مقامی خواجہ سراؤں کے خون کی سکریننگ کرتی ہے اور اگر مثبت نتیجہ آئے تو ان کا نام سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام میں درج کر دیا جاتا ہے۔

تنظیم کی کارکن سمرن خان نے بی بی سی کو بتایا کہ خواجہ سرا کمیونٹی کے جتنے لوگ متاثر ہیں وہ دوائی پر ہیں اور ان کا وائرل لوڈ قابو میں ہے۔

لاڑکانہ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق خواجہ سراؤں سمیت 1521 افراد میں ایچ آئی وی وائرس جنسی طریقے سے منتقل ہوا جن میں 1182 مرد اور 309 خواتین شامل ہیں۔

غیر محفوظ انجکشن سے منتقلی

آغا خان یونیورسٹی میں بچوں میں ایچ آئی وی کی ماہر ڈاکٹر فاطمہ میر ان دنوں لاڑکانہ میں رضاکارانہ طور پر فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں منشیات کے عادی افراد اور سیکس ورکرز میں وائرس کی موجودگی تو پہلے ہی تھی لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ عام آبادی میں یہ وائرس سامنے آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بچوں میں تین طرح سے ہو سکتا ہے۔ یا اس کی ماں کو تھا اور زچگی کے دوران یا بریسٹ فیڈنگ میں بچے کو منتقل ہوا تاہم ہمارے پاس جتنے بھی بچے آئے ہیں ان میں زیادہ تر کی مائیں نیگیٹو ہیں اور انتہائی کم ہیں جن کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹو ہیں یعنی ورٹیکل منتقلی ( بذرتعہ ماں وائرس کی منتقلی) نہیں لگ رہی۔

’دوسرے نمبر پر وہ بچے آ جاتے ہیں جن کو خون لگا ہو اور وہ خون غیر محفوظ ہو لیکن یہاں خون کی منتقلی بھی انتہائی کم ہے۔ ایک ہاتھ کی انگلیوں پر انھیں گنا جا سکتا ہے۔'

ایڈز کنٹرول پروگرام
Image caption لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کا مرض نئی چیز نہیں

ڈاکٹر فاطمہ کے مطابق اس صورتحال میں غیرمحفوظ سرنج کے ذریعے وائرس کی منتقلی ہی ایک ممکنہ وجہ معلوم ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ پولیس نے رتو ڈیرو میں بچوں کے امرض کے ماہر ڈاکٹر مظفر گھانگھرو کو وائرس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے اور ان پر سرنج کے ذریعے ایچ آئی وی پھیلانے کا ہی الزام ہے۔

ڈاکٹر فاطمہ کے مطابق ’اگر کسی نے اس ایک ڈاکٹر سے علاج کرایا ہے یا کہیں انجکشن لگوایا ہے تو وہ سب سکریننگ کے لیے آ رہے ہیں اور یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ ایسے لوگوں میں یہ وائرس مل بھی رہا ہے اس لیے ابھی تک ہمیں غیر محفوظ انجیکشن ایک ممکنہ وجہ معلوم ہوئی ہے۔‘

ایچ آئی وی منتقلی کی تحقیقات

بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کے مریض سامنے آنے اور قومی ذرائع ابلاغ پر اس بارے میں خبر عام ہونے کے بعد حکومت بھی حرکت میں آئی اور اس معاملے کی تحقیقات شروع کی گئیں۔

سندھ کے محکمۂ صحت کے مطابق اب تک 500 عطائی ڈاکٹروں کے کلینکس بند کروا دیے گئے ہیں جبکہ گرفتاری صرف ڈاکٹر مظفر گھانگرو کی ہی عمل میں لائی گئی ہے۔

ڈاکٹر گھانگرو سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں تاہم وہ نجی پریکٹس بھی کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے سارے مریض تو ان کے کلینک پر نہیں آئے۔

ان کے مطابق ڈپٹی کمشنر ان کے کلینک پر آئے تھے اور ہیلتھ کمیشن بھی لیکن انھیں کوئی ایسی مشتبہ یا مشکوک چیز نہیں ملی۔ انھوں نے ان کا ایچ آئی وی ٹیسٹ کرایا تو وہ پازیٹو آیا اور خود پریشان ہیں کہ یہ کیسے پازیٹو ہوا۔

رتو ڈیرو
Image caption ایچ آئی وی کا شکار بچوں کی قوت مدافعت مزید کم ہو جاتی ہے

پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے۔ ڈی آئی جی عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ کہانی سامنے آئی تھی کہ مذکورہ ڈاکٹر کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے اور چونکہ وہ خود ایچ آئی وی ہے اس لیے اس نے معاشرے سے بدلہ لینے کے لیے یہ منتقل کیا ہے۔

ان کے مطابق تحقیقات میں یہ باتیں ثابت نہیں ہو رہیں تاہم ’یہ ضرور ہے کہ مروجہ ضوابطِ کار کی پیروی نہیں کی گئی شاید اسی وجہ سے کئی مریض ایچ آئی وی میں مبتلا ہوئے اور پولیس کی کوشش ہے کہ ان وجوہات کی طرف جائیں جس کی وجہ سے یہ وائرس پھیلا۔‘

عرفان بلوچ کا کہنا تھا کہ ’مشکل یہ ہے کہ ہم ماہر صحت نہیں اس لیے صحت کے شعبے سے تین ارکان شامل کیے گئے ہیں۔ مجرمانہ غفلت ہو تو ہمیں مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ ڈاکٹر مظفر کے خلاف جان سے مارنے کی کوشش کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے لیکن جب تک جے آئی ٹی مکمل نہیں ہو جاتی کچھ کہہ نہیں سکتے۔‘

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا بھی یہ ہی کہنا ہے کہ جب تک جینیاتی تجزیہ نہیں کر لیا جاتا اس وقت تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے کہ اس کا آغاز کہاں سے ہوا ہے۔

ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر اسد میمن کے مطابق 'میرا یہ خیال ہے یہ وائرس ہائی رسک آبادی میں تھا تو انھوں نے عطائی ڈاکٹروں سے رجوع کیا ہے جنھوں نے ایک سرنج سے چار، چار لوگوں کو انجیکشن لگایا ہے۔‘

رتو ڈیرو
Image caption نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ 65 ہزار لوگ ایچ آئی وی پازیٹو ہیں

ان کے مطابق اگر ایک ایچ آئی وی پازیٹو سرنج پانچ لوگوں کو لگے گی تو اس میں زیادہ تر خطرہ یہی ہوتا ہے کہ وائرس منتقل ہو جائے گا۔

غریب مریض اور مہنگا علاج

رتوڈیرو ہسپتال سے صرف پانچ کلومیٹر فاصلے پر ایک گاؤں میں 200 افراد کی سکریننگ کی گئی جن میں 17 ایچ آئی وی پازیٹو کیسز سامنے آئے۔

شہربانو ( فرضی نام ) کے شوہر اور تین سالہ بیٹی سمیت گھر کے سات افراد بھی ان میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑوں کو تو لاڑکانہ سے دوائیں مل رہی ہیں لیکن بچی کی دواؤں کے لیے کراچی جانا پڑتا ہے اور ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہر بار کراچی جائیں واپس آئیں۔

ان کے مطابق ایک چکر پر دس ہزار روپے تک لگ جاتے ہیں اور ان کا شوہر دیہاڑی دار مزدور ہے۔

آغا خان یونیورسٹی میں بچوں میں ایچ آئی وی کی ماہر ڈاکٹر فاطمہ میر کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کا شکار بچوں کی قوت مدافعت مزید کم ہو جاتی ہے جس سے ان کے دیگر بیماریوں سے متاثر ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

ان کے مطابق ایسے بچوں کو بار بار حفاظتی ٹیکے لگانے ہوں گے اور ان کی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ ’یہ کافی نہیں کہ صرف تشخیص کرواتے پھریں۔ ان کے گھر کے قریب جو بھی بڑا ہسپتال ہے اس میں انھیں ہر مہینے، دوسرے مہینے کلینک میں دکھانا ہو گا اور یہ ہماری حکومت، صحت کے نظام اور ان والدین پر ایک اضافی بوجھ ہے۔‘

رتو ڈیرو
Image caption سندھ کے نو شہروں میں ٹریٹمنٹ سینٹر ہیں جن میں لاڑکانہ، نواب شاہ، سکھر اور کراچی شامل ہیں

ایچ آئی وی کا علاج

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ 65 ہزار لوگ ایچ آئی وی پازیٹو ہیں جن میں 75 ہزار پنجاب اور 60 ہزار صوبہ سندھ میں ہیں۔

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سکندر میمن کا کہنا ہے کہ بچوں کی دوائیں ہوں یا بڑوں کی یہ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام فراہم کرتا ہے جس کی مالی معاونت گلوبل فنڈ کر رہا ہے۔

سندھ کے نو شہروں میں ٹریٹمنٹ سینٹر ہیں جن میں لاڑکانہ، نواب شاہ، سکھر اور کراچی شامل ہیں جہاں مریضوں کے دوبارہ ٹیسٹ کر کے علاج شروع کیا جاتا ہے اور ان مراکز میں دس ہزار سے زائد مریض رجسٹرڈ ہیں۔

ڈاکٹر فاطمہ میر گزشتہ دس سالوں سے ایچ آئی وی کلینک چلا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ایچ آئی وی ذیابیطس کی طرح ہے ایک مرتبہ ہو گئی تو آپ اس کے ساتھ ساری زندگی گزارتے ہیں۔‘

’کراچی میں میرے پاس 62 بچے رجسٹرڈ ہیں۔ وہ سکول جاتے ہیں، نارمل زندگی گزارتے ہیں۔ اگر آپ دوائی کھا رہے ہیں تو آپ کے خون میں یہ وائرس نہیں ملے گا اور تین ماہ کی دوائی کے بعد اس صورتحال پر آ جاتے ہیں اگر آپ دوائی نہیں کھا رہے تو آپ سے یہ وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔‘

۔

اسی بارے میں