سردار علی محمد خان مہر کا سیاسی سفر

تصویر کے کاپی رائٹ SOCIAL MEDIA

پاکستان میں محکمہ انسداد منشیات کے وفاقی وزیر اور سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ سردار علی محمد خان مہر انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 52 برس تھی۔ انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

علی محمد مہر ضلع گھوٹکی میں واقع اپنے آبائی قصبے خانگڑھ میں موجود تھے، جہاں منگل کی صبح انھیں دل کی تکلیف ہوئی اور وہ جانبر نہ ہوسکے۔

علی محمد مہر کی پیدائش 12 جنوری 1967 میں ہوئی، انھوں نے صادق پبلک سکول سے تعلیم حاصل کی تھی، اسمبلی رکنیت کے لیے جب گریجوایشن کو لازمی قرار دیا گیا تو انھوں نے علامہ اوپن یونیورسٹی کا سرٹیفیکیٹ جمع کرایا تھا۔

مزید پڑھیے

پاکستان کی نئی وفاقی کابینہ کے 16 وزیروں نے حلف اٹھا لیا

سردار علی محمد کے بھائی سردار علی گوہر مقامی سیاست اور قبائلی معاملات میں سرگرم رہے ہیں جبکہ علی محمد کا کوئی متحرک کردار نہیں رہا۔ وہ 2002 میں گھوٹکی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے نشستوں سے کامیاب ہوئے۔ بعد میں انھوں نے صوبائی اسمبلی کی نشست رکھی اور قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہوگئے۔

سندھ میں وزیر اعلیٰ کا منصب طاقتور سیاسی شخصیت یا بڑی سیاسی جماعتوں کے قریبی گھرانوں کے پاس رہا ہے، علی محمد مہر غیر معمولی حالات میں اس منصب پر پہنچ گئے تھے۔ وہ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں تھے اور نہ ہی ان کے خاندان کا سندھ پر سیاسی اثر رسوخ تھا۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ میجر جنرل احسان کی ان کے ماموں کے ساتھ دوستی تھی جن کے ذریعے وہ جنرل پرویز مشرف کے قریب پہنچ گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Social Media

علی محمد مہر صرف ڈیڑہ سال وزیر اعلیٰ کے منصب پر رہے اور مستعفی ہوگئے۔ ان کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت نے ان پر بد اعتمادی کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ وہ مسائل کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہو رہے۔

تاہم کچھ عرصے کے بعد ان کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ قومی مالیاتی ایوارڈ اور کالا باغ ڈیم منصوبے پر مخالفت کی وجہ سے انہیں پسند نہیں کیا گیا۔

علی محمد کا خاندان اکثر غیر مقبول حکومتوں کے ساتھ رہا ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل ضیاالحق اور اس کے بعد پرویز مشرف دور حکومت میں کسی نہ کسی طرح یہ خاندان حکومت میں شامل رہا۔ علی محمد مہر بھی پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف میں رہے۔

روایتی سرداروں سے علی محمد مہر کچھ قدر مختلف طبیعت کے مالک تھے۔ ان کی دوستی تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ تھی تاہم وہ جرگہ نظام کے حمایتی تھے اور ان کا کہنا تھا کہ عدالتی نظام میں تاخیر کی وجہ سے ہی لوگ جرگے کا راستہ اپناتے ہیں۔

ان کے دور حکومت میں شائسہ عالمانی اور مہر کا معاملہ ہوا جس میں پسند کی شادی کرنے پر دونوں قبائل ایک دوسرے کے سامنے آگئے تھے اور بعد میں دونوں نے بیرون ملک پناہ لی۔

گھوٹکی میں یونیورسٹی کے کیمپس، کیڈٹ کالج کے قیام کے علاوہ انھوں نے علاقے میں علی محمد فاؤنڈیشن قائم کیا۔

گھوٹکی کے اس خاندان کے خلیجی ممالک سے دوستانہ تعلقات رہے جو ان کے پاس گھوٹکی میں ہر سال شکار کے لیے آتے ہیں اور مہر خاندان نے ایک نجی شکار گاہ بھی بنائی ہے، دبئی کے شیخ مبارک کو وہ اپنا دوست قرار دیتے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں