چین میں بلوچ طلبہ سے حکام کی ’غیر معمولی پوچھ گچھ‘

چین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین کے دارالخلافہ بیجنگ اور دو اور صوبوں میں مقیم 10 بلوچ طالب علموں سے تفتیش ہوچکی ہے

چین میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے رہائش پذیر چند پاکستانی بلوچ طلبہ سے حال ہی میں چینی حکام نے مبینہ طور پر بلوچستان کے بارے میں پوچھ گچھ کی ہے۔ یہ اطلاع سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شیئر کی گئی جس کے بعد سے اس پر خاصی بحث ہو رہی ہے۔

ان طلبہ کے مطابق ’تفتیش کاروں کی پوچھ گچھ کا زیادہ تر زور بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی اور طلبہ کے مذہبی خیالات جاننے سے متعلق تھا۔‘

اب تک کی اطلاعات کے مطابق، چین کے دارالحکومت بیجنگ اور دو دیگر صوبوں میں مقیم 10 بلوچ طالب علموں سے تفتیش ہو چکی ہے۔ جبکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایسے طلبہ کی تعداد 16 بتائی جارہی ہے۔

یہ نھی پڑھیے

گوادرحملہ: تین حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک

بلوچ مزاحمت کار آخر چین کے مخالف کیوں؟

چین سے مذاکرات نہ ہوئے ہیں نہ ہوں گے: اللہ نذر بلوچ

بلوچ مزاحمتی تحریک اب کوئی مسئلہ نہیں: چینی سفیر

گوادر کا پرل کانٹینیٹل ہوٹل، سب سے بڑی سرمایہ کاری

اس بارے میں چین میں مقیم ایک بلوچ طالب علم نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کی۔

27 سالہ طالب علم پچھلے تین سال سے چین کے ایک صوبے میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پچھلے تین برسوں میں پہلی مرتبہ مجھ سے تفتیش کی گئی ہے۔‘

طالب علم کا کہنا تھا کہ تقریباً ایک ہفتے پہلے ان کو کلاس سے باہر بلایا گیا اور یونیورسٹی کے ایک دفتر میں بٹھا دیا گیا۔ اس دفتر میں ان سے ایک گھنٹے تک بات کی گئی۔

’وردی میں ملبوس ایک چینی افسر نے مجھ سے بات کی۔ پہلے مجھ سے موبائل ایپ وی چیٹ پر خود کو شامل کرنے کا کہا تاکہ ہم دونوں ایک دوسرے کی بات سمجھ سکیں۔ پھر مجھ سے میرے گھر والوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی کہ گھر والے کیا کرتے ہیں، چین کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، اور پھر یہ کہ کیا آپ روزہ رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں یا نہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میں روزہ تو نہیں رکھتا لیکن سوال سُن کر تھوڑا عجیب ضرور لگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ تفتیش گوادر کے پرل کانٹیننٹل ہوٹل میں ہونے والے حملے کے کچھ روز بعد کی گئی جو پچھلے دو دنوں میں سامنے آئی ہے

طالب علم نے بتایا کہ ہر سوال کا جواب چینی افسر ایک نوٹ بُک میں درج کر رہا تھا۔

’اس کے بعد انھوں نے مجھے ایک فارم پکڑا دیا جس میں والد کا نام، میرا پتہ اور میں چین میں کیا پڑھنے آیا ہوں، اس قسم کی اطلاعات درج کرنے کو کہا گیا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان سے بی ایل اے کے بارے میں سوال کیے گئے تو طالب علم نے ’نو کمینٹس‘ کہہ کر بات کا رُخ دوسری طرف موڑ دیا اور بتایا کہ ’مجھ سے ہمارے قبائلی گروہ، اس کے رسم و رواج، بلوچستان میں مستقل شورش کی وجہ کے بارے میں پوچھا گیا۔ پوچھ رہے تھے کہ حالات ایسے کیوں ہیں؟‘

جب ان کو بتایا گیا کہ کسی بھی ملک میں ہونے والی کسی بھی قسم کی تفتیش سے پہلے آپ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ مجھ سے یہ سوالات کیوں کیے جارہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’میں نے یہ کہنا اس لیے مناسب نہیں سمجھا کیونکہ میں اس خیال میں تھا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے سبھی طالب علموں سے یہ سوال کیے جارہے ہوں گے۔‘

ساتھ ہی انھیں بتایا گیا کہ ’یہ سوالات چین میں ہونے والی ایک تحقیق کے لیے ہیں۔‘

لیکن گھنٹے بھر کی تفتیش کے بعد جب طالب علم نے اپنے ایک اور دوست سے بات کی تو اس نے بتایا کہ ’سوالات صرف بلوچ طلبہ سے کیے جارہے ہیں۔ کئی لوگوں کو کھانے کی دعوت پر اور کئی کو تحقیق کے نام پر سوال کیے جا رہے ہیں۔‘

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر خبر پھیلنے کے بعد چین میں مقیم کئی دوسرے پاکستانی طالب علموں سے جب اس بارے میں بات کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا تو زیادہ تر نے بات کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ کئی طالب علموں نے اپنے فون بند کر دیے۔

یاد رہے کہ یہ تفتیش گوادر کے پرل کانٹیننٹل ہوٹل میں ہونے والے حملے کے کچھ روز بعد کی گئی اور اس کی خبریں پچھلے دو دنوں میں سامنے آئی ہیں۔

پاکستانی فوج کے مطابق، گوادر کے ہوٹل پر ہونے والے حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری بلوچ شدت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ چار حملہ آوروں نے پی سی ہوٹل میں رہائش پذیر چینی اور بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کو نشانہ بنایا۔

بی بی سی سے بات کرنے والے ایک اور طالب علم نے بتایا کہ ’حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے چینی پولیس یہ جاننا چاہ رہی تھی کہ مقامی لوگوں کے چینی لوگوں کے بارے میں کیا تاثرات ہیں۔‘

اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس معاملے سے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہیں اور اگر ان کو بھیج دی جائیں تو وہ چینی حکام سے اس بارے میں بات کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عام طور پر طالب علموں سے اس قسم کی معلومات نہیں لی جاتیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں