اسلام آباد میں 10 سالہ بچی کے ریپ کیس کو نسلی رنگ کیوں دیا گیا؟

مقتولہ بچی تصویر کے کاپی رائٹ ISLAMABAD POLICE

اسلام آباد کے علاقے علی پور فراش میں دس سالہ بچی کے ریپ کے بعد قتل کیے جانے کے واقعے کو پاکستان میں بعض لوگ اس تناظر میں دیکھتے ہیں کہ اس بچی کا تعلق چونکہ ایک پشتون گھرانے سے تھا، اس لیے نہ صرف پولیس بلکہ میڈیا نے بھی اسے اہمیت نہیں دی۔

دوسری جانب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ اُنھوں نے جان بوجھ اس واقعے کو نسلی تعصب کا رنگ دیا۔

صحافی ضرار کھوڑو نے اس واقعے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’اگر کسی کو لگتا ہے کہ لسانی مسئلہ ہے تو یہ اُن کی غلط فہمی ہے، یہ بیماری ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ چکی ہے اور اس کا علاج کرنے کی ہم نے کوشش تک نہیں کی ہے۔‘

ادھر پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل نے اپنے ذرائع سے نشر کی جانے والی ایک خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی ایم نے اس واقعے پر اس لیے زیادہ شور مچایا، کیوں کہ بقول اُن کے اس بچی کے خاندان کا تعلق افغانستان سے ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد: بچی کا ریپ اور قتل، عدالتی تحقیقات کے حکم پر احتجاج ختم

اسلام آباد: دو سالہ بچی کا ریپ، ملزم گرفتار

قصور ریپ کیسز: عائشہ سے زینب تک

اس سے قطع نظر کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پاکستان کے کئی شہروں سے رپورٹ ہوئے ہیں اور اُن میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ بچی کا تعلق کہاں سے ہے۔

بی بی سی نے ان سوالوں کے جواب جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا پولیس نے بچی کے والد کی بات اس لیے نہیں سنی کیوں کہ وہ پشتون تھے؟ اور بچوں کے ریپ اور قتل جیسے اندوہناک واقعات کو نسلی تعصب کا نام دینا معاشرے کو کس طرف لے جارہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ NAYYAB

پی ٹی ایم رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ الزام لگاتے ہیں کہ پولیس اور پاکستانی میڈیا نے اس لیے اس واقعے کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی کیوں کے اُن کے مطابق بچی کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا۔

لیکن بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات تو صرف پختونوں کے ساتھ نہیں ہو رہے بلکہ دیگر صوبوں اور شہروں سے بھی ایسے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں اور اُن میں بھی جب تک واقعے کے خلاف احتجاج نہیں ہوتا، کوئی بھی کارروائی نہیں ہوتی؟

محسن داوڑ اس کے جواب میں کہتے ہیں، وہ اسے لسانی رنگ نہیں دے رہے، لیکن ریاست اپنے ردعمل سے اسے لسانی رنگ دینا چاہتی ہے۔

’آپ خود دیکھ لیں کہ اس سے پہلے اس نوعیت کے واقعات پر چیف جسٹس نے بھی سوموٹو لیا ہے، فوج کے سربراہ نے بھی اپنے ترجمان کے ذریعے بیان دیے، پارلیمان اور میڈیا نے بھی اُن واقعات پر شدید احتجاج کیا ہے۔ جہاں تک اس بچی کی بات ہے تو اگر ہم لاش کے ساتھ پورا دن احتجاج نہ کرتے، تو کیا کوئی اُن کی بات سنتا؟‘

یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا اہم ہے کہ محسن داوڑ کے اس انٹرویو کے وقت تک تو نہیں تاہم اُس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے 22 مئی کی شب کو اس واقعے کے حوالے ٹویٹ کرتے ہوئے فوج کی مدد کی پیشکش کی تھی۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ گذشتہ ہفتے پیش آیا تھا اور بچی کے والد کی جانب سے گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے کے چار دن بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کرائی۔

محسن داوڑ کے مطابق پولیس بھی اسی لیے بچی کے والد کی ایف آئی آر درج نہیں کررہی تھی کیوں کہ وہ ایک غریب اور پختون تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISLAMABAD POLICE
Image caption پولیس ایف آئی آر

اس بارے میں سابق آئی جی پولیس سندھ شعیب سڈل کا کہنا ہے کہ پولیس تھانے میں اطلاع رپورٹ درج کرتے وقت طریقہ کار اور اہلکار کی نااہلی ہوسکتی ہے، تاہم اُن کے مطابق پولیس یہ نہیں دیکھتی کہ رپورٹ درج کرنے والے کا تعلق کس نسل سے ہے۔

’ایف آئی آر رجسٹریشن کے طریقہ کار مختلف ہوسکتے ہیں، اہلکار کی نااہلی ہوسکتی، جس طرح اس واقعے میں ہوا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ اُس کو معطل کیا، تاہم ایسے واقعات کو یہ رنگ دینا کہ رپورٹ درج کرانے والا کوئی پختون اور بلوچ ہے، اسی لیے نہیں ہوا، تو میرے خیال میں یہ مناسب نہیں۔‘

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن فرزانہ باری کہتی ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل جیسے اندوہناک واقعات کو نسلی رنگ دینا انتہائی غلط ہے لیکن اُن کے مطابق ہر علاقے کے باسیوں کے احتجاج میں اسی علاقے کے رکن اسمبلی ہی جاتے ہیں۔

اُن کے مطابق ایسے واقعات کو یہ رنگ دینا کہ یہ بچی پشتون تھی، اسی لیے اُن کے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہے، تو یہ غلط ہوگا۔

’اس بچی کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ جرم کرنے والوں کے اندر ایک حیوانگی اور درندگی ہے۔ اور ایسا بھی نہیں کہ اس طرح کے واقعات پنجاب میں نہیں ہوتے۔‘

فرزانہ باری کے مطابق سماج تقسیم در تقسیم ہے اور ہر واقعے کے بعد مختلف باتیں کی جاتی ہیں۔

’ایسے واقعات میں اگر متاثرہ شخص کا تعلق بلوچ، پشتون یا سندھ سے ہے، جو پنجاب کے مقابلے میں یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی قومیت کی وجہ سے اُن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، تو یہ عنصر اس میں خصوصی طور پر شامل ہوجاتا ہے۔‘

اسی بارے میں