فرشتہ کیس میں احتجاج: سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کے خلاف مقدمہ

گلالئی اسماعیل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گلالئی اسماعیل پر اس سے پہلے بھی کیس ہو چکے ہیں

اسلام آباد کی پولیس نے 10 سالہ بچی فرشتہ کے واقعے پر احتجاج میں شامل سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کے خلاف مختلف الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج ہونے والے اس مقدمے میں گلالئی اسماعیل پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ’اس واقعے کی آڑ میں لوگوں کو حکومت وقت اور فوج کے خلاف بھڑکایا ہے‘۔

اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں۔

یہ مقدمہ کسی پولیس اہلکار یا سرکاری ملازم کی مدعیت میں نہیں بلکہ ایک عام شہری کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔

گلالئی اسماعیل کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُنھوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ’اپنی تقریر کے دوران پاکستان مخالف جملے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پشتونوں کے دلوں میں پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کا بھی کام کیا۔‘

اس مقدمے میں ملزمہ پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُنھوں نے اپنی تقریر کے دوران ’جان بوجھ کر پشتون قوم کے دلوں میں باقی قوموں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی۔‘

قانونی ماہرین کے مطابق انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اطلاق اگرچہ سرکار کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں ہوتا ہے لیکن اگر ریاست یا حکومت وقت کے خلاف تقاریر کی گئی ہوں تو عام شہری بھی اس کے خلاف متعقلہ تھانے میں درخواست دے سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ ایسی درخواست پر درج ہونے والے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اطلاق صرف ڈپٹی کمشنر کے حکم پر ہوتا ہے۔

اس سے پہلے بھی ’حکومت مخالف تقاریر‘ کے الزام پر گلالئی اسماعیل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس وقت اپنی حراست میں لیا تھا جب وہ بیرون ملک سے پاکستان واپس آرہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کو رہا کر دیا گیا

سماجی کارکن گلالئی اسماعیل شخصی ضمانت پر رہا

اس کے علاوہ انھیں اس سال فروری میں پی ٹی ایم کے رہنما ارمان لونی کے قتل پر احتجاج کرنے کے بعد بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ پر الزام ہے کہ وہ اس بچی کے واقعے کو لیکر اپنی سیاست چمکانے کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہے تاہم پی ٹی ایم کی قیادت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Islamabad Police

فرشتہ کیس میں پیش رفت

اسلام آباد پولیس نے دس سالہ بچی فرشتہ کو ریپ کے بعد قتل کیے جانے کے مقدمے میں حراست میں لیے گئے تین مشتبہ افراد کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ان ملزمان میں ناصر، عباس اور منشی شامل ہیں جبکہ چوتھے مشتبہ شخص کی گرفتاری نھیں ڈالی گئی ہے۔ پولیس نے ان تینوں ملزمان کو متعقلہ عدالت میں پیش کر کے اُن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے۔

فرشتہ قتل مقدمے کی تفتیش اسلام آباد پولیس کا سی آئی اے کا محکمہ کر رہا ہے۔ مقامی پولیس ناصر نامی شخص کو اس واقعے کا ماسٹر مائنڈ قرار دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد: بچی کا ریپ اور قتل، عدالتی تحقیقات کے حکم پر احتجاج ختم

اسلام آباد ریپ کیس کو نسلی رنگ کیوں دیا گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Islamabad Police
Image caption پولیس ایف آئی آر

اُدھر وزیر اعظم عمران خان نے بھی دس سالہ بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفتیش میں سست روی کا مظاہرہ کرنے پر رات گئے ڈی ایس پی شہزاد ٹاؤن سرکل عابد حسین کو معطل جبکہ ایس پی رورل سرکل عمر خان کو او ایس ڈی بنا دیا ہے۔

اس کے علاوہ اسلام آباد پولی کلینک کی انتظامیہ نے مقتولہ کے پوسٹمارٹم میں تاخیر کرنے پر میڈیکو لیگل افسر عابد شاہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

ان پولیس افسران کو معطل اور او ایس ڈی بنانے سے پہلے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی 22 مئی کی شب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فرشتہ کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ نوجوان نسل کو بچانے کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا ہونا ہوگا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ فوج مقدمے کی تفتیش میں کسی بھی معاونت کے لیے تیار ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ برگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے دس سالہ فرشتہ کے قتل سے متعلق رپورٹ وزیر اعظم عمران خان کو پیش کی ہے جس میں تھانہ شہزاد ٹاؤن کے انچارج اور تفتیشی عملے کی کوتاہی کا ذکر کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

واقعے کا پس منظر

پولیس ذرائع کے مطابق متقولہ فرشتہ کے والد گل نبی جب 15 مئی کو اپنی بچی کی گمشدگی کے بارے میں متعقلہ تھانے میں رپورٹ درج کروانے کے لیے گئے تو تھانے کے ایس ایچ او اور اس مقدمے کے تفتیشی افسر اُنھیں مذاق میں یہ کہتے تھے کہ 'فرشتہ کو کوئی فرشتہ لے گیا ہوگا۔'

مقامی پولیس کے مطابق فرائض سے غفلت برتنے پر اس مقدمے کے تفتیشی افسر کو گرفتار کرلیا گیا ہے تاہم ان کے جسمانی ریمانڈ کے لیے اُنھیں متعقلہ عدالت میں ابھی تک پیش نہیں کیا گیا۔

معطل کیے گئے ایس ایچ او غلام عباس نے مقامی عدالت سے 31 مئی تک ضمانت قبل از گرفتاری لے لی ہے۔

ان پولیس افسران کے خلاف مقدمہ مقتولہ فرشتہ کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

مقتولہ کے والد نے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر سے بھی ملاقات کی تھی اور قومی اسمبلی کے سپیکر نے اُنھیں انصاف کی مکمل فراہی کا یقین دلایا ہے۔

وفاقی حکومت نے مقتولہ فرشتہ کے والدین کے لیے 20 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ امداد اُن مطالبات میں سے ہے جو کہ مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے سامنے رکھے تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال پنجاب کے شہر قصور میں کمسن بچی زینب کو ریپ کے بعد قتل کیے جانے کے واقعے پر اُس وقت کی حزب اختلاف اور موجودہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد 'زینب الرٹ بل' کے علاوہ ایسا کوئی بھی بل پارلیمنٹ میں لیکر نہیں آئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں