انڈیا الیکشن 2019: کیا بھاری اکثریت مودی کی پاکستان کے بارے میں سوچ بدل پائے گی؟

Narendra Modi تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انڈیا میں وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی عام انتخابات میں فتح کے باقاعدہ اعلان کے بعد پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے انھیں تہنیت کا پیغام بھیجتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے وہ ان (مودی) کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔

نریندر مودی کا جواب مثبت تھا۔ انھوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ’اچھی خواہشات‘ پر وہ عمران خان کے مشکور ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے خطے میں امن اور ترقی کو ہمیشہ فوقیت دی ہے۔‘

14 فروری 2019 کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد دونوں ممالک کے مابین جنم لینے والی کشیدگی کی لہر ابھی تھمی نہیں جبکہ دوسری جانب اپنی الیکشن مہم میں پاکستان کے حوالے سے نریندر مودی کے خیالات اور سخت زبان بھی خبروں کی زینت بنتی رہی ہیں۔

تاہم مودی سرکار کی انتخابات میں بھاری اکثریت سے فتح کے بعد عام پاکستانی اس تذبذب کا شکار ہیں کہ مودی کا دوبارہ چناؤ پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ آیا حالات جوں کے توں رہیں گے، بہتری کی جانب گامزن ہوں گے یا مزید خراب؟

یہ بھی پڑھیے

نریندر مودی: ’جیت کو عوام کے قدموں میں رکھتے ہیں‘

مودی کو سپرسٹار بنانے والے امت شاہ کون ہیں؟

’جنتا مالک ہے، مالک نے آرڈر دیا ہے، مودی جی کو مبارک‘

بی بی سی نے اس رپورٹ میں ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

دو طرفہ تعلقات میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے؟

سابقہ سفارت کار اور سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد کہتے ہیں کہ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو بی جے پی کے مختلف ادوار میں پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں مثبت تبدیلیاں آتی رہی ہیں جبکہ کانگرس کی ادوار میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ ’بلکہ کانگرس کے ادوار میں دونوں ممالک میں تعلقات کے حوالے سے بڑے بڑے سانحات پیش آئے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے مژدہ سنایا تھا کہ اگر مودی منتخب ہو جاتے ہیں تو انڈیا اور پاکستان کے تعلقات بہتر ہو جائیں گے تو انھوں نے کچھ غلط بات نہیں کی تھی بلکہ تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ حکومت بی جے پی کی آئی ہے مگر پاکستان کے لیے مودی کا بحیثیت وزیراعظم آپشن ہمیشہ سے ’تشویش‘ کا باعث رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ ان کی پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کو لے کر چلنے کا طریقہ کار اور فرقہ واریت پر مبنی سیاست کو ہوا دینا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شاید مودی صاحب کو اتنی اکثریت حاصل ہو جائے کے وہ اٹل بہاری واجپائی کی طرح تعلقات میں بہتری کے لیے بڑے فیصلے کر سکیں مگر ’مختصر بات یہ ہے کہ پاکستان کو اچھے کی امید رکھنی چاہیے مگر برے حالات کے لیے تیار بھی رہنا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’مودی جیت چکے ہیں اور ایک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ واجپائی جیسا کوئی کارنامہ سرانجام دے پائیں گے‘ (فائل فوٹو)

شمشاد احمد کہتے ہیں کہ انڈیا میں انتخابات کے موقع پر ’پاکستان کے ساتھ تعلقات‘ کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے اور اس بنیاد پر ووٹ بھی لیے جاتے ہیں تاہم اکثریت حاصل کرنے کے بعد مودی کی خطے کے حوالے سے سیاست تبدیل ہو گی یا نہیں یہ دیکھنے کے لیے انتظار کرنا ہو گا۔

شمشاد احمد کہتے ہیں کہ آئندہ تعلقات کا دارومدار بیرونی قوتوں پر بھی ہو گا۔

’تاریخی اعتبار سے جب انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اس میں بڑی طاقتوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ سنہ 1950 میں لیاقت علی خان اور نہرو کے درمیان صلح کی بات ہو یا نہرو اور ایوب خان کے درمیان بات چیت، بھٹو اور سردار سوران سنگھ کے درمیان مذاکرات ہوں یا ضیا الحق کے دور میں کرکٹ ڈپلومیسی کے ذریعے تعلقات بہتر کرنا، کارگل واقعے سے پہلے ہونے والے مذاکرات یا مشرف کے زمانے میں مذاکرت کی بحالی ہر مرتبہ بیرونی قوتوں بشمول امریکہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن چاہا ہے اور پاکستان اب بھی امن چاہتا ہے اور اس کی مثال عمران خان کے انڈیا کے حوالے سے بیانات ہیں کہ اگر آپ ایک قدم بڑھائیں گے تو ہم دو۔

’تاہم مودی کے منتخب ہونے کے بعد پاکستان کو کسی قسم کی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں، ہمیں بات چیت کے لیے بھی تیار رہنا ہو گا اور کسی بڑے چیلنج کے لیے بھی۔‘

سکیورٹی صورتحال اور حالیہ کشیدگی

سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا کہتے ہیں کہ حالیہ دنوں میں قرغستان میں انڈین اور پاکستانی وزرائے خارجہ کی غیر رسمی ملاقات ہوئی ہے اور اشارہ یہی ہے کہ معاملات آگے بڑھیں گے مگر کن مسائل پر بات چیت ہو گی اور آیا کوئی بڑی پیش رفت کی طرف جایا جائے گا اس کا تعین کرنا قبل از وقت ہو گا۔

ان کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد سے اب تک دونوں ممالک میں افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور اعتماد کی بحالی کی جانب پہلا قدم یہ ہو سکتا ہے کے اس حوالے سے صورتحال کو معمول پر لایا جائے۔

’بی جے پی کی حکومت اس مرتبہ زیادہ مینڈیٹ کے ساتھ آئی ہے اور ان پر اب ایسا اندرونی دباؤ نہیں ہو گا جو کم اکثریت سے بننے والی حکومتوں پر عموماً ہوتا ہے تاہم اب دیکھنا ہو گا کہ حاصل ہونے والی اس اکثریت کی جھلک مودی سرکار کی فیصلہ سازی میں نظر آئے گی یا نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان کا کہنا ہے کے جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے وہ مودی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ عرصے میں انڈیا میں ’ہائپر نیشنل ازم‘ کی عمومی ذہنیت پروان چڑھی ہے اور بی جے پی اس ذہنیت کی صحیح معنوں میں عکاسی کرتی ہے تاہم نئی حکومت کے پاس اب پانچ سال ہیں اور ان کو سوچنا ہو گا کے معاملات کیسے آگے بڑھیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان نے کالعدم مذہبی جماعتوں کے خلاف ایکشن لیا ہے اور ظاہری طور پر عالمی برادری اس ایکشن پر مطمئن ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ انڈیا بھی اس سے مطمئن نہ ہو۔

مصنف اور تجزیہ کار نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ کہا جا رہا تھا کہ الیکشن میں عوامی پذیرائی کے لیے مودی نے اپنا لب و لہجہ اور پالیسیاں پاکستان کے حوالے سے سخت رکھی ہیں مگر اب وہ جیت چکے ہیں اور ایک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ واجپائی جیسا کوئی کارنامہ سرانجام دے پائیں گے۔

’واجپائی بھی آر ایس ایس کی گود میں پیدا ہوئے تھے مگر وقت کے ساتھ ان کی سوچ تبدیل ہوئی تھی اور وہ خطے میں امن اور خوشحالی کے خواہاں تھے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک موجودہ راستہ ہے، جو کہ آسان ہے، جس میں قومی سلامتی، نعرے بازی اور جارحیت کو ہوا دینا ہے دوسرا یہ ہے کے عمران خان کے خیر سگالی کے پیغامات کا مثبت جواب دیا جائے۔

’پاکستان کو انتظار کرنا اور دیکھنا ہو گا الیکشن کے بعد ان کی سوچ اور سیاست کس نہج پر ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا واضح طور پر امریکہ کا سٹرٹیجک اتحادی ہے اور دیکھنا یہ بھی ہو گا کہ امریکہ کی پاکستان اور خطے کے حوالے سے کیا پوزیشن ہے۔ ’اگر امریکہ کی پاکستان کے بارے میں پوزیشن کو دیکھا جائے تو وہ تسلی بخش نہیں ہے۔‘

مسئلہِ کشمیر اور دیگر بین الاقوامی تنازعات

شمشاد احمد کہتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کے تصادم اور مقابلے بازی پر مبنی تعلقات کی ایک طویل لیگیسی (میراث) ہے اور دونوں ممالک کے مسائل بہت پیچیدہ ہیں اور ان مسائل میں مرکزیت کشمیر کے مسئلے کو حاصل ہے۔

’عمومی طور پر الیکش کے بعد انڈیا میں وزرائے اعظم کا رویہ تھوڑا بہت تبدیل ہوتا ہے مگر مودی کے سلسلے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ واجپائی صاحب کو میں نے قریب سے دیکھا ہے اور جب وہ لاہور تشریف لائے تھے تو دیکھا جا سکتا تھا کہ وہ مذاکرات میں بہت سنجیدہ ہیں تاہم کارگل کی وجہ سے مذاکرات ختم ہو گئے وگرنہ کشمیر کے حوالے سے ایک لائحہ عمل بھی تیار ہو چکا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کے مودی کی حکومت میں میرا نہیں خیال کے ہم واپس اس روڈ میپ کی طرف جا سکتے ہیں کیونکہ مودی کا اپنا ہی ’فرقہ واریت پر مبنی ایک ایجنڈہ ہوتا ہے جو مشکل اور بھیانک ہے‘۔

نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ ماضی میں بھی بین الاقوامی قوتیں انڈیا کو پسِ پردہ کشمیر کے مسئلے پر بات چیت کی ترغیب دیتی رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں کشمیر کے مسئلہ حل کرنے کا بنیادی لائحہ عمل طے پا گیا تھا کیا مودی اس کو لے کر آگے بڑھیں گے (فائل فوٹو)

’ماضی میں بھی پرویز مشرف کے دور کے چار پوائنٹس کو آگے لے کر چلنے کی بات کی گئی اور میں اس بات کو خارج از امکان نہیں سمجھتی کے کشمیر پر پھر سے بات چیت شروع ہو۔‘

پاکستان اور انڈیا کے مابین کئی تنازعات بین الاقوامی فورمز پر حل طلب ہیں چاہے وہ انڈس واٹر ٹریٹی ہو، سمجھوتہ ایکسپریس یا کلبھوشن کیس۔

پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کہتے ہیں کہ بین الاقوامی فورمز پر حل طلب کیسوں کے حوالے سے صورتحال پہلے جیسی ہی رہے گی۔ ’انڈیا ان معاملات پر اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتا تاہم جہاں وہ اپنا کچھ فائدہ دیکھتے ہیں تو یو ٹرن بھی لے لیتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کانگرس کا رویہ مفاہمانہ ہوتا ہے اور وہ معاشی ترقی پر زیادہ توجہ دیتی ہے اور اگر کانگرس حکومت بناتی تو شاید اس حوالے سے صورتحال میں واضح فرق پڑتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کے پاکستان اپنی ڈپلومیسی کو بہتر کرے اور اس میں پانی اور انسانی حقوق سے متعلقہ مسائل اور تنازعات کو احسن طریقے سے اٹھائے۔

تجارت

معاشی امور پر لکھنے والے صحافی شہباز رانا کہتے ہیں کے سنہ 1996 میں انڈیا نے پاکستان کو تجارت کے لیے ’پسندیدہ ممالک‘ کی فہرست میں شامل کیا تھا تاہم یہ سٹیٹس پلوامہ حملے کے بعد واپس لے لیا گیا اور اب پاکستانی برآمدات پر 200 فیصد تک ڈیوٹی (ٹیکس) عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں اور بھاری ڈیوٹی عائد ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین تجارت کا مجموعی حجم لگ بھگ 2.5 ارب ڈالر تک ہے جبکہ سنہ 2018 کے اختتام پر جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق اگر تجارت کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہ ہوں تو دونوں ممالک 37 ارب ڈالر تک کی تجارت کر سکتے ہیں۔

’ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کے نئی انڈین حکومت پاکستان کو پسندیدہ ممالک کی فہرست میں واپس شامل کر لے گی مگر اعتماد کی بحالی کے اقدامات کے طور پر ڈیوٹی کی شرح کم کی جا سکتی ہے۔‘

شہباز رانا کا کہنا تھا کہ تجارتی معاملات پر دونوں ممالک میں بات چیت اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب دوسرے بڑے درپیش مسائل پر بات ہو اور اعتماد کی فضا بحال کی جائے۔ ’دونوں ممالک میں نئی حکومتیں ہیں اور امن اور تجارت ہی آگے بڑھنے کا واحد ذریعہ ہو گا۔‘

اسی بارے میں