ویڈیو سکینڈل: ’یہ چیئرمین نیب کے خلاف پراپیگنڈا ہے‘

چیئرمین نیب جاوید اقبال تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چیئرمین نیب جاوید اقبال صحافی جاوید چوہدری کو دیے گئے ایک مبینہ انٹرویو کے بعد پہلے ہی گزشتہ چند روز سے خبروں میں ہیں

پاکستان کے قومی احتساب بیورو نے نجی ٹی وی چینل نیوز ون پر چیئرمین نیب کے حوالے سے نشر ہونے والی خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی، من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈہ قرار دیا ہے۔

جمعرات کو نیوز ون چینل نے ایسی ویڈیو اور آڈیو نشر کی جس میں مبینہ طور پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ایک خاتون سے نازیبا گفتگو کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

ویڈیو نشر کیے جانے کے بعد جمعرات کی شب نیب کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کے حوالے سے یہ خبر بلیک میلنگ کر کے نیب ریفرنس سے فرار کا راستہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خبر کے پیچھے ایک بلیک میلرز کا گروپ ہے اور اس عمل کا مقصد ادارے اور چیئرمین نیب کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے۔

نیب کے بیان کے مطابق تمام تر دباؤ اوربلیک میلنگ کو پس پشت ڈالتے ہوئے ادارے نے اس گروہ کے دو افراد کو نہ صرف گرفتار کیا ہے بلکہ ریفرنس کی بھی منظوری دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جاوید اقبال جانتے ہیں کہاں ہاں کہنی ہے اور کہاں ناں

جسٹس (ر) جاوید اقبال نیب کے نئے سربراہ مقرر

نیا نیب، پرانا ہیرا

خیال رہے کہ چینل کی جانب سے ویڈیو اور آڈیو نشر کیے جانے کے کچھ دیر بعد معذرتی پیغام بھی نشر کیا گیا جس میں کہا گیا کہ یہ خبر سیاق و سباق سے ہٹ کر چلائی گئی جس پر ادارہ چیئرمین نیب سے معدزت خواہ ہے۔

تاہم اس وقت تک پاکستانی سوشل میڈیا پر چیئرمین نیب کا نام ٹرینڈ کر رہا تھا اور لوگ اس ویڈیو کے بارے میں بھانت بھانت کے تبصرے کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NAB

چیئرمین نیب جاوید اقبال صحافی جاوید چوہدری کو دیے گئے ایک مبینہ انٹرویو کے بعد پہلے ہی گزشتہ چند روز سے خبروں میں ہیں۔

جاوید چوہدری نے رواں مہینے کی 16 اور 17 تاریخ کو روزنامہ ایکسپریس میں ’چیئرمین نیب سے ملاقات‘ کے عنوان سے دو کالم تحریر کیے تھے جس میں انھوں نے انٹرویو میں کی گئی باتوں کا تفصیلی ذکر کیا تھا۔

تاہم قومی احتساب بیورو کی جانب سے اس انٹرویو کی تردید جاری کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ چیئرمین نیب کے حوالے سے بیانات درست نہیں اور کالم میں حقائق کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے۔

نیب کی پریس ریلیز میں کہا گیا تھا ’کالم نگار نے حقائق کو درست انداز میں پیش نہیں کیا بلکہ بعض افراد اور مقدمات کے حوالے سے غلط نتائج بھی اخذ کیے ہیں۔‘

اس سے قبل چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کچھ روز قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ جمہوریت احتساب سے نہیں بلکہ اعمال کی وجہ سے خطرے میں آتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں لیکن نیب اور کرپشن ساتھ نہیں چل سکتے تاہم قومی ادارہ اپنا کام کرتا رہے گا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

پاکستان میں ٹوئٹر پر اس وقت ہیش ٹیگ چیئرمین نیب ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ صارفین بڑی تعداد میں اس ویڈیو کو شیئر بھی کر رہے ہیں جبکہ کچھ اسکی مذمت بھی کر رہے ہیں۔

طارق محمود ملک نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ہے ’چیئرمین نیب سے متعلق یہ سکینڈل پورے نظام کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔‘

سندھ سے تعلق رکھنے والے صارف امیر تیمور ڈومکی کے مطابق اس ویڈیو کے منظرعام پر آنے میں تحریک انصاف کی حکومت کا ہاتھ ہے۔

انھوں نے لکھا ہے ’نیوزون کے مالک ملک طاہر خان وزیراعظم کے خصوصی مشیر ہیں۔ یہ ویڈیو پرویز خٹک اور تحریک انصاف کے دیگر وزرا کی ممکنہ گرفتاریوں سے بچنے کے لیے لیک کی گئی ہے۔‘

رضوان یوسف گل نامی صارف نے نیوزون کی جانب سے پہلے یہ خبر چلانے اور بعد میں اس کی تردید کو یوٹرن کا نام دیا۔

انھوں نے اپنی ٹویٹ میں نیوزون پر چیئرمین نیب کو بلیک میل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پیمرا سے چینل پر پابندی کی درخواست کی ہے۔

اسی بارے میں