پاکستان کو ملنے والی آئی ایم ایف کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلیٹی کیا ہے؟

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں کئی مہینوں پر محیط غیر یقینی معاشی صورتحال کے بعد گزشتہ ہفتے حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے چھ ارب ڈالر قرض کے معاہدے پر اتفاقِ رائے ہوا اور جمعرات کو آئی ایم ایف کی جانب سے یہ بتایا گیا ہے کہ یہ رقم ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی‘ (ای ایف ایف) کے تحت دی جائے گی۔

عام پاکستانی کے کان میں جیسے آئی آیم ایف کی آواز آتی ہے تو اس کے ذہن میں پہلا لفظ قرض اور دوسرا شرائط کا آتا ہے۔

آئی ایم ایف کے پاس قرض کے لیے دس مختلف قسم کے منصوبے ہیں اور ادارہ ہر ملک کی ضرورت اور اس کو درپیش معاشی مشکلات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس ملک کے لیے کون سا پروگرام بہتر ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم کہاں خرچ ہو گی؟

پاکستان امریکی ڈالر سے جان چھڑا بھی سکتا ہے یا نہیں

اہم عہدوں پر بدلتے چہرے، سرمایہ کاری کیسے ہو گی؟

آئی ایم ایف کے پاس جانے کے تین فائدے اور تین نقصان

دوست ملک اور آئی ایم ایف سے قرض لینے میں کیا فرق ہے؟

پاکستان کے معاشی حالات کے تناظر میں ان میں سے دو پروگرام بہت اہم ہیں جو کہ ’سٹینڈ بائی ارینجمنٹ‘ (ایس بی اے) اور ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی' (ای ایف ایف) ہیں۔

ان دونوں کی شرح سود کا تعین عالمی منڈی کی تبدیلوں سے منسلک ہوتا ہے۔

پاکستان اب تک 21 مرتبہ عالمی مالیاتی ادارے کے پاس قرض لینے جا چکا ہے اور ان میں سے 12 مرتبہ ایس بی اے جبکہ پانچ دفعہ ای ایف ایف کے تحت قرض ملا۔

تین دفعہ ’ایکسٹینڈڈ کریڈٹ فیسیلیٹی‘ (ای سی ایف) اور ایک دفعہ ’سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ فیسیلیٹی کمٹمنٹ‘ کے تحت قرض حاصل کیا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کی طرف سے لیا گیا آخری قرضہ بھی ای ایف ایف کے تحت لیا گیا تھا۔

ایس بی اے اور ای ایف ایف میں فرق

ان دونوں منصوبوں میں بڑا فرق دورانیے کا ہے۔ ایس بی اے، آئی ایم ایف کا ترقی پذیر معیشتوں کے لیے مرکزی منصوبہ ہوتا ہے۔ عموماً یہ ان ملکوں کو دیا جاتا ہے جنھیں کم وقت میں ادائیگیوں میں توازن لانے کے لیے قرضے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ منصوبہ دو سے تین سال کا ہوتا ہے اور رقم کی واپسی بھی ادائیگی کے بعد تین سے پانچ برسوں میں ہوتی ہے۔

اس کی شرح سود عالمی مارکیٹ کے مطابق ہوتی ہے لیکن آئی ایم ایف کے مطابق یہ ہمیشہ دوسرے نجی قرضوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

ایس ڈی پی آئی کے جوائٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایس بی اے کی مدت بھی کم ہوتی ہے، اس میں شرائط بھی کم ہوتی ہیں اور یہ اس وقت دیا جاتا ہے جب آپ پہلے سے اصلاحاتی پروگرام پر چل رہے ہوتے ہیں لیکن اس کو مکمل کرنے کے لیے آپ کو کچھ مزید مدد چاہیے ہوتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے بتایا کہ ماضی میں ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ ممالک جنھوں نے آئی ایم ایف سے اصلاحاتی قرضہ لیا لیکن اس کی شرائط میں طے کیے گئے ہدف پورے نہ کر سکے تو انھیں سہارے کے لیے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت مزید قرض دیا گیا۔

اس کے برعکس ای ایف ایف وسط مدتی پروگرام ہے جس کا مقصد صرف ادائیگیوں میں توازن نہیں بلکہ اس کی خاص توجہ ملک کی معاشی ڈھانچے میں اصلاحات پر بھی ہوتا ہے۔

یہ منصوبہ تین سال کا ہوتا ہے لیکن اسے ایک برس تک کی توسیع مل سکتی ہے جبکہ رقم کی واپسی چار سے دس سال کے عرصے میں کی جاتی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق ملک کی معیشت کی خراب صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ٹھیک راہ پر لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں جس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اسی وجہ سے ای ایف ایف کا دورانیہ زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کریڈٹ ریٹنگ میں کمی ’معاشی عدم استحکام کی نشانی‘

ڈالر کی بڑھتی قیمت کے پیچھے کیا وجہ ہے؟

آئی ایم ایف مذاکرات: ’اس مرتبہ امریکہ پاکستان کا سفارشی نہیں‘

بڑھتی ہوئی شرح سود کا مطلب کیا ہے؟

’حفیظ شیخ عمران کا نہیں کسی اور کا انتخاب ہیں‘

ڈاکٹر وقار ای ایف ایف کے متعلق بتاتے ہیں کہ یہ قرضہ اس وقت دیا جاتا ہے جب ’بجٹ کا خسارہ بڑھ جائے، غیر ملکی ادائیگیوں اور برآمدات اور درآمدات کے درمیان فرق بہت بڑھ جائے اور آپ کے پاس کوئی چارہ نہ ہو اور آپ کو ایک لمبے عرصے کے لیے آئی ایم ایف کی نگرانی چاہیے ہو تو ای ایف ایف آپ خود لگاتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ای ایف ایف کے تحت تین بڑی مرکزی اصلاحات کرنے پر توجہ دی جاتی ہے جن میں توانائی کا شعبہ، ٹیکس کے نظام میں تبدیلیاں اور سرکاری کمپنیاں بشمول خسارے میں چلنے والے اداروں میں اصلاحات شامل ہیں۔

اس پروگرام کے تحت آئی ایم ایف نہ صرف رقم دیتا ہے بلکہ ساتھ میں تکنیکی معاونت بھی کی جاتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے دیے گئے پیسے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں جاتے ہیں اور حکومت ان پیسوں سے ترقیاتی منصوبے نہیں شروع کر سکتی جبکہ اس رقم کے بدلے آئی ایم ایف حکومت کے اقدامات اور اخراجات پر مختلف شرائط لگاتی ہے۔

ای ایف ایف کے منصوبے کے تحت قرض لینے والے ملک کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ طے شدہ شرائط اور اصلاحات پر عملدرآمد کروائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسد عمر آئی ایم ایف کے پاس قرض کی درخواست لے کر گئے تھے لیکن پھر انھیں تبدیل کر دیا گیا

قرض کی نوعیت کا فیصلہ کون کرتا ہے؟

آئی ایم ایف کے قرض کے پروگراموں میں سے چار ایسے منصوبے بھی ہیں جو بلاسود ہیں اور یہ ایسے ملکوں کے لیے ہوتے ہیں جو بحران کا شکار ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان کو یہ آسان شرائط والے قرضے کیوں نہیں ملے اور کون فیصلہ کرتا ہے کہ کس منصوبے کے تحت قرض ملے گا۔

ڈاکٹر وقار کہتے ہیں کہ پروگرام کے بارے میں آئی ایم ایف اور قرض لینے والے ملک کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں۔ آئی ایم ایف اپنی طرف سے جائزہ لیتا ہے کہ کیا اس ملک کو ایس بی اے بہتر ہو گا یا ای ایف ایف اور دوسری طرف سے بھی جائزہ لیا جاتا ہے کہ انھیں اس موقع پر کیسا قرض چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’آخر میں یہ آپ کی سودا کرنے کی قوت پر ہوتا ہے۔ آپ کسی بھی بینک سے قرضہ لینے جاتے ہیں تو آپ کی تیاری کیسی ہے، آپ کی اپنی فزبیلیٹی کتنی مضبوط ہے جس پر آپ مذاکرات کر رہے ہیں اس سے فرق پڑتا ہے۔‘

ڈاکٹر وقار نے کہا کہ حالیہ پروگرام کے سلسلے میں ’پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ ہماری طرف سے دو تین ٹیموں نے مذاکرات کیے ہیں جس میں سے ایک ٹیم کو ہم نے خیرباد کہہ دیا اور پھر ایک نئی ٹیم مذاکرات کرنے آ گئی تو وہ ہماری طاقت رہی نہیں۔‘

اسی بارے میں