پاکستانی مدارس میں چینی طلبہ: ’واپس جا کر مذہبی تعلیم خفیہ طریقے سے ہی دیں گے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستانی مدارس کے چینی طلبا کی صحیح تعداد مدارس کے حکام کو معلوم نہیں

22 سالہ عثمان (اصل نام نہیں) کے لیے اپنے آبائی ملک چین میں ماہ رمضان میں روزے رکھنا، تراویح اور نماز کی ادائیگی اتنا آسان نہیں لیکن کراچی میں وہ یہ مذہبی فرائض بغیر کسی روک ٹوک کے ادا کر رہے ہیں۔

چین میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں، کئی علاقوں میں رواں سال بھی رمضان میں روزے رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی، انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل نے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے مسلم ممالک سے آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے۔

عثمان کراچی کے ایک مدرسے میں زیرِ تعلیم ہیں۔ پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے ملک کے مدارس میں غیر ملکی طلبا کے داخلے پر پابندی عائد کی تھی لیکن اب یہ سلسلہ دوبارہ بحال ہوگیا ہے۔

حال ہی میں وفاقی کابینہ نے مدارس اصلاحات میں غیر ملکی طلبا کو بھی ویزے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چین میں اویغور آبادی 'ریاستی جبر' کا شکار

’عمران انکل میری امی اور بھائی کو واپس لا دیں‘

’اسلامائزیشن‘ سے چین متفکر

اویغور مسلمانوں کے لیے ’سوچ کی تبدیلی‘ کے مراکز

وفاق المدارس کے میڈیا کوآرڈینیٹر طلحہ رحمانی کا کہنا ہے کہ یہ تعداد تو دستیاب نہیں کہ فی الوقت کتنے غیر ملکی یا چینی طالب علم پاکستانی مدارس میں زیر تعلیم ہیں تاہم کراچی کے ایک مدرسے کی انتظامیہ نے بتایا کہ ان کے پاس 25 چینی طلبا پڑھ رہے ہیں۔

عثمان گزشتہ پانچ برسوں سے کراچی کے ایک مدرسے میں زیر تعلیم ہیں جہاں وہ قرآن، حدیث، عربی ادب اور منطق کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

Image caption امتحانات کے بعد یہ طالب علم واپس چلے جاتے ہیں اور بعض تبلیغ سے وابستہ ہوجاتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ان کے والدین کی خواہش تھی کہ اپنے بیٹے کو عالم بنائیں جس کی وہ بچپن سے ترغیب دیتے رہے اس لیے وہ سکول سے فارغ ہوکر یہاں آ گئے۔

ان کے مطابق ’چین میں دینی تعلیم کے مواقع بہت کم ہیں۔ وہاں تعلیم اور موضوع محدود ہیں۔ صرف جمعہ کے دن مولوی صاحب منبر پر بیٹھ کر کچھ بیان کر لیتے ہیں۔ اس کےعلاوہ انٹرنیٹ سے تھوڑی تھوڑی معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔`

دیگر غیر ملکی طالب علموں کی طرح چینی طلبا میں سے بھی کچھ اسلام کی بنیادی معلومات کے لیے ایک سالہ کورس کرتے ہیں، کچھ طلبہ عالم اور مفتی بنتے ہیں اور بعض چند ماہ کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

مدارس کے امتحانات کے بعد یہ طالبعلم واپس چلے جاتے ہیں اور بعض تبلیغ سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔

عثمان کے مطابق ’ہم وہاں مذہب کی تعلیم کا فروغ خفیہ طریقے سے کریں گے۔ پہلے اپنے گھر والوں کو تعلیم دی جاتی ہے اس کے بعد قریبی رشتے دار۔ کھلم کھلا مدرسہ بنا لیں ایسا ممکن نہیں۔‘

Image caption مفتی محمد نعیم کا کہنا ہے کہ چین میں مسلمانوں کے پاس چینی زبان میں نماز کی کتاب بھی مرتب نہیں روزہ مرتب نہیں ہے

چینی زبان کی تعلیم

کراچی یونیورسٹی اور نجی اداروں کی طرح جامعہ بنوریہ العالمیہ میں چینی زبان سکھانے کا ادارہ بھی قائم کیا گیا ہے۔

مذہبی عالم اور جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم کا کہنا ہے کہ ’چین میں بعض علاقوں میں مسلمانوں پر بہت سختیاں ہیں چینی شہری جب یہاں آتے ہیں، کھلے عام گھومتے پھرتے ہیں تو انہیں بھی ہمارے مسلمانوں کو مذہبی آزادی دینی چاہیے۔ ‘

ان کے مطابق چین میں ایک بہت بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے لیکن وہاں بہت سے مسلمان ایسے ہیں جن کے پاس چینی زبان میں نماز کی کتاب بھی مرتب نہیں، روزہ مرتب نہیں ہے اور زبان سیکھیں گے تو کتابیں بھی لکھی جائیں گی۔

چین: مسلمانوں کی گرفتاریوں کی خبریں بے بنیاد ہیں

چین: اویغوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں کیا جا رہا ہے؟

ان کا کہنا ہے کہ چینی سیکھنے کے لیے صرف مدرسے کے طلبا ہی نہیں بلکہ تاجر اور نجی کمپنیوں سے وابستہ لوگ بھی آتے ہیں تاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے سلسلے میں کام اور تجارت میں بول چال کے لیے آسانی پیدا ہو۔

عثمان مدرسے میں دیگر چینی طلبہ کے ہمراہ رہتے ہیں، جس دن ان سے ملاقات ہوئی اس روز ان کے یہاں مہمان چینی طلبا آئے ہوئے تھے جو مختلف مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔

عثمان نے بتایا کہ ان کی حکومت مدارس میں پڑھنے کی اجازت نہیں دیتی تاہم جامعات میں پڑھنے کی اجازت ہے۔ بقول ان کے وہ جو دینی کتاب پڑھ اور سیکھ رہے ہیں اس سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں بنتا۔

چین میں مسلمانوں کی اکثریتی آبادی سنکیانگ یا شنجیانگ صوبے میں رہتی ہے جسے پہلے ترکستان کہا جاتا تھا۔ اس صوبے کی سرحدیں پاکستان اور انڈیا سمیت منگولیا، روس، قازقستان، افغانستان وغیرہ سے ملتی ہیں۔ صوبے کا دارالحکومت ارومچی ہے جبکہ کاشغر سب سے بڑا شہر ہے۔

گذشتہ سال اگست میں اقوام متحدہ کی کمیٹی نے کہا تھا کہ سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں اور دیگر مسلم فرقوں کے دس لاکھ افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی 'ری ایجوکیشن' یعنی ازِسر نو تعلیمی پروگرام کے تحت ان کی تربیت کی جا رہی ہے۔

Image caption سابق صدر پرویز مشرف نے مدارس میں غیر ملکی طلبہ پر پابندی عائد کردی تھی لیکن اب یہ سلسلہ دوبارہ بحال ہوگیا ہے

اسلامی ممالک کی تنظیم بھی چینی مسلمانوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔

پاکستان میں چین کے ڈپٹی چیف آف مشن نے حال میں سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر واضح کیا ہے کہ چین میں 35 ہزار مساجد ہیں اور دو کروڑ مسلمان ملکی قوانین کے تحت مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے آزاد ہیں۔

ان کے مطابق ’ہم آزادی مذہب کی پالیسی کی پیروی کرتے ہیں، ہم مذہبی شدت پسندی کا مقابلہ کر رہے ہیں عام مذہبی سرگرمیوں کی قانون کے مطابق اجازت ہے۔‘

تاہم چین نے پاکستان میں مدارس میں زیر تعلیم چینی مسلمانوں اور خاص طور پر سنکیانگ کے طلبہ پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔

محکمہ داخلہ کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ چین نے حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ جتنے بھی طالب علم ہیں اور جنھیں ویزے جاری کیے جا رہے ہیں، مہینے میں دو بار ان کی تفصیلات اور سرگرمیوں سے آگاہ کیا جائے۔

اسی بارے میں