پشاور میں سکندر اعظم کے دور کی ورکشاپ دریافت

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پشاور میں چار ثقافتوں کی قدیم گزرگاہ

پاکستان میں بدھ مت دور کے آثار قدیمہ تو بہت دریافت ہوئے ہیں لیکن اب پہلی مرتبہ انڈو گریک یعنی یونانی دور کے آثار پشاور میں دریافت ہوئے ہیں۔ ان آثار میں لوہے کی ورکشاپس یا لوہاروں کی بھٹیاں شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ آثار قدیمہ کوئی 2200 سال قدیم ہیں جو چار سو سال پر محیط تین بڑے ادوار سے ہیں۔

حیران کن طور پر یہ دریافت خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے انتہائی جدید اور بڑے رہائشی علاقے حیات آباد میں ہوئی ہے۔ ماضی میں ہندوستان سے پاکستان کے راستے افغانستان اور وسطی ایشا تک تجارت کا ایک بڑا راستہ پشاور سے طورخم کا راستہ تھا اور یہ ورکشاپس اسی راستے کے قریب دریافت ہوئی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیے

جمرود میں آثار قدیمہ کی اہم دریافت

ہار جو انڈیا پاکستان کی تقسیم سے جدا ہوا

خیبر پختونخوا میں بودھ مذہب کی صدیوں پرانی یادگار

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ آرکیالوجی کے پروفیسر گل رحیم نے بتایا کہ حیات آباد کی جدید آبادی کے بیچوں بیچ یہ بہت بڑی دریافت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انھیں ایسا لگا کہ یہ بھی بدھ مت کے ہی کوئی آثار قدیمہ ہیں لیکن کھدائی کے دوران انھیں جو سکے اور برتن ملے، ان پر کندہ کیے گئے نشانات سے معلوم ہوا کے یہ یونانی دور کے آثار ہیں۔

پروفیسر گل رحیم نے بتایا کہ یہاں لوہا پگھلانے والی بھٹیاں اور پھر لوہے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جگہیں بھی دریافت ہوئی ہیں۔ اس مقام پر ایک نہیں بلکہ کئی چھوٹی چھوٹی ورکشاپس دریافت ہوئی ہیں جو ساتھ ساتھ ہی واقع ہیں۔

ان ورکشاپس کے ساتھ کچن اور کچھ برتن بھی ملے ہیں جن پر تحقیق کی جا رہی ہے۔

یہ دریافت انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ماہرین کے مطابق یہاں سے ملنے والی اشیاء سے لگتا ہے کہ چونکہ اسی راستے سے افغانستان، وسط ایشیاء، ایران اور یونان سے قافلے آئے اور یہاں جنگیں لڑی گئیں اور یہاں ہی انھوں نے حکومتیں کی ہیں اس لیے اس جگہ سے تین مختلف ادوار کے آثار ملے ہیں۔

Image caption کھدائی کے دوران لوہا پگھلانے والی بھٹیاں اور پھر لوہے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جگہیں بھی دریافت ہوئی ہیں

ان میں وسط ایشیائی، یونانی اور کوشان دور کے آثار پائے جاتے ہیں اور یہ انتہائی نادر آثار ہیں جن پر مزید تحقیق کی جا رہی ہے۔

پروفیسر گل رحیم نے بتایا کہ کوشان وہ لوگ تھے جو ایران کے راستے ہندوستان اور اس علاقے میں آئے تھے۔

پروفیسر گل رحیم کے مطابق اگرچہ اس علاقے میں سنہ 2007 میں بھی کھدائی کی گئی تھی جب نکاسی آب کے لیے یہاں نالا بنایا جا رہا تھا۔

اس کے بعد سنہ 2017 میں کچھ لوگ یونیورسٹی میں ان کے دفتر آئے اور کچھ سکے اور برتن دکھائے کہ یہ انھیں حیات آباد میں کھدائی کے دوران ملے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس پر کام شروع کر دیا گیا تھا اور ابتدا میں تو ایسا لگا جیسے صوبے کے دیگر علاقوں میں بدھ مت کے آثار قدیمہ دریافت ہوئے ہیں یہ بھی ویسے ہی ہے لیکن کھدائی کے دوران ایسے آثار دریافت ہوئے ہیں جو کوئی 2200 سال قدیم ہیں اور اس دور کے ہیں جب یونان سے حملہ آور یہاں آئے تھے۔

پروفیسر گل رحیم کے مطابق جس مقام سے یہ آثار دریافت ہوئے ہیں ادھر سے دائیں جانب کچھ گڑھی کی جانب مزید آثار ہو سکتے ہیں جبکہ بیشتر آثار جدید عمارات کی وجہ سے ختم ہو چکے ہوں گے۔

اسی بارے میں