آٹو ڈس ایبل سرنج سے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سے بچاؤ ممکن

سرنج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کی تحصیل رتوڈیرو میں حالیہ دنوں میں ایچ آئی وی وائرس وبائی شکل اختیار کرچکا ہے۔ 20 ہزار سے زائد افراد کی بلڈ اسکریننگ کی گئی ہے جن میں سے 67 ایچ آئی وی پازیٹو آئے ہیں۔

صوبہ سندھ میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سکندر میمن کا کہنا ہے کہ اگر آٹو ڈس ایبل سرنج کی پریکٹس عام ہوتی تو لاڑکانہ میں ایچ آئی وی وائرس سے متاثر لوگوں کی تعداد میں 60 فیصد تک کمی ہو سکتی تھی۔

ایچ آئی وی پھیلنے کی وجہ سرنج

سندھ ہیلتھ کمیشن نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا ہے کہ رتوڈیرو میں سرنج کے متعدد بار استعمال سے ایچ آئی وی وائرس کا پھیلاؤ ہوا ہے۔ ڈاکٹر مظفر گھانگرو کو سر فہرست قرار دیا گیا ہے، جن کے نجی کلینک پر روزانہ 200 بیمار بچے آتے تھے۔ پولیس کی جے آئی ٹی میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈاکٹر مظفر نے صحت کے اصولوں کی پیروی نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیے

رتوڈیرو میں ایچ آئی وی وائرس کیسے پھیلا؟

بلوچستان میں ایڈز سے متاثرہ 637 مریض رجسٹرڈ

ایڈز کے ٹیسٹ کے لیے 'ہوم ٹیسٹ کِٹ' پر انتباہ

پاکستان پیرا میڈیکل ایسو سی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر شیر شاہ سید کا کہنا ہے کہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال عام سی بات ہے یہ ایم بی بی ایس اور عطائی ڈاکٹر بھی کرتے ہیں، اگر آٹو ڈس ایبل سرنج استعمال ہوں تو یہ سلسلہ رک سکتا ہے۔

Image caption اپریل سے اب تک رتوڈیرو میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے زیادہ ہو چکی ہے

آٹو ڈس ایبل سرنج کیا ہے؟

آٹو ڈس ایبل سرنج ، ایک خود کار سرنج ہے جس کو انجیکٹ کرنے کے ساتھ آخر میں لاک کلک کرتا ہے جس کے بعد یہ سرنج دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہتی۔ 1986 میں عالمی ادارہ صحت کی خصوصی ہدایت پر یہ سرنج تیار کی گئی تھی۔ ادارے کا ماننا ہے کہ روایتی سرنج بڑے پیمانے پر دوبارہ استعمال ہوتی ہیں جس کی وجہ سے خون کے موذی امراض پھیلتے ہیں، سرنجوں کے دوبارہ استعمال کی وجہ معاشی کے علاوہ ثقافتی اور سماجی بھی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی 2015 کی ہدایات کے مطابق تمام رکن ممالک کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ محفوظ سرنجوں کا استعمال کریں۔

آٹو ڈس ایبل سرنجوں کا استعمال ضروری کیوں ؟

غیر محفوظ سرنجوں سے ایچ آئی وی کے علاوہ ہیپاٹائئٹس پھیلنے کے بھی امکانات ہوتے ہیں۔

انٹرنینشل جنرل آف مائیکرو بیالوجی اینڈ الائیڈ سائنسز کی 2014 کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ہیپاٹائٹس، دنیا میں امراض اور اموات کی بڑی وجہ اور بالخصوص پاکستان میں سب سے بڑی وجہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی ساڑھے سات فیصد آبادی ہیپاٹائٹس بی اور سی میں مبتلا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ انجیکشن کا بے جا استعمال بھی ہے۔

پاکستان سب سے زیادہ انجیکشن استعمال کرنے والا ملک

جنرل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ انجیکشن استعمال کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ تقریبا 450 ملین سرنج درآمد کی جاتی ہیں جن میں سے تین کروڑ سالانہ ویکسین اور ایک کروڑ انسولین کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ سرنجوں کی مقامی پیداوار 744 سے 804 ملین سالانہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آٹو ڈس ایبل سرنج، خود کار سرنج ہے جس کو انجیکٹ کرنے کے بعد لاک کلک کرتا ہے اور یہ دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہتی ہے

پاکستان میں غیر معیاری سرنجوں کی فروخت کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ڈبیلو ایچ او کی جانب سے 2004 میں کی گئی تحقیق میں 34 فیصد کمپنیوں کی غیر معیاری قرار دیا گیا تھا۔ اس تحقیق کے لیے ڈبیلو ایچ او کی جانب سے پاکستان کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں سے 30 کمپنیوں کے سرنج خریدے گئے تھے جس سے غیر معیاری کمپنیوں کی نشاندھی ہوئی تھی۔

روایتی سرنجوں پر پابندی کا قانون

سندھ اسمبلی نے 2010 میں ’دی سندھ ریگیولینش اینڈ کنٹرول آف ڈسپوزیبل سرنج‘ بل مظور کیا جس نے 2011 میں قانونی شکل اختیار کی۔ اس قانون کے مطابق ڈسپوزل سرنج بنانے، فروخت کرنے اور استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو بھی ڈائریکٹر، مینجر یا ایجنٹ اس کی خلاف ورزی کرے گا اس کو دو سے پانچ سال سزا اور جرمانہ عائد کیا جائیگا تاہم اس قانون پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔

سندھ میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سکندر میمن کا کہنا ہے کہ سندھ امیونائزیشن پروگرام اس کو سو فیصد استعمال کر رہا ہے، جبکہ بعض اچھی پریکٹس والے ڈاکٹر بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے عدم استعمال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ آسانی سے دستیاب نہیں۔

’اب کسی کے بچے کی طبیعت خراب ہے جب تک وہ اس سرنج کو تلاش کرے گا دیر ہوجائیگی اس لیے ڈاکٹر وہ روایتی سرنج استعمال کرتے ہیں۔‘

Image caption صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کی تحصیل رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی وائرس وبائی شکل اختیار کرچکا ہے

تربیت اور قیمت

پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر ارشد الطاف کا کہنا ہے کہ آٹو ڈس ایبل سرنج کے استعمال کی تربیت کی بھی ضرورت ہے اگر اسٹاف کو استعمال نہیں آئیگا تو خراب کردے گا۔

’اس کی قیمت ایک روایتی سرنج کے برابر آگئی ہے، اگر امپورٹر کو مارکیٹ دیں تو قیمت باآسانی روایتی سرنج کے برابر آجائے گی۔ ایک عام سرنج پندرہ سے بیس روپے کی ہے جبکہ پانچ سات روپے میں جو دستیاب ہیں وہ پنجاب میں بنائی جا رہی ہیں یہ عالمی معیار کے تقاضے پورے نہیں کرتیں حکومت کو ان پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔‘

پاکستان کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال جناح پوسٹ گریجویٹ میں آٹو ڈس ایبل سرنج کے استعمال کا تجربہ کامیاب نہیں رہا۔ شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ اس میں تربیت کا معاملہ نہیں ہے کیونکہ نرسنگ اسٹاف تربیت یافتہ ہی ہوتا ہے۔

’ہمارے پاس کافی شکایات آئیں جس کی وجہ سے اس کا استعمال بند کیا گیا جو روایتی سرنج ہیں وہ ہی بہتر پرفارم کر رہی ہے۔‘

دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان اور افغانستان کے ایڈز پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ماریہ ایلیا جی فیلیو نے صوبہ سندھ اور دیگر صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ آٹوڈس ایبل سرنج کا استعمال کریں تاکہ ہزاروں زندگیاں اور خاص طور پر بچوں کی زندگیاں بچائی جاسکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سرنجوں کے استعمال اور خون کی منتقلی کو محفوظ نہ بنایا گیا تو پاکستان رتوڈیرو جیسے مزید بریک ڈاون کا سامنا کرسکتا ہے۔

اسی بارے میں