ملتان: استانی کی ہلاکت پر نجی سکول کے خلاف کارروائی کی سفارش

ملتان میں استانی کی ہلاکت پر احتجاج بھی ہوا تصویر کے کاپی رائٹ Hadi Ali

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں ایک نجی سکول میں خاتون استاد کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے سکول کی انتظامیہ اور مالکان کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئِے قانونی کارروائی کی سفارش کی ہے۔

اسما بی بی نامی استانی کی ہلاکت کا واقعہ 13 مئی کو پیش آیا تھا اور سوشل میڈیا پر مہم اور سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد ڈپٹی کمشنر نے اس کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی ایک کمیٹی قائم کی تھی۔

اس کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موت کی وجہ طبی امداد کی فراہمی میں تاخیر بنی جس کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق جب اسما بی بی زخمی ہوئیں تو اس وقت سکول کی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری تھی کہ انھیں ابتدائی طبی امداد دی جاتی اور ریسکیو 1122 کو مطلع کیا جاتا لیکن منتظمین نے مذکورہ استانی کو رکشے میں ہسپتال روانہ کر دیا۔

کمیٹی کے رکن ایس پی ملتان احمد نواز شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیٹی نے تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مشترکہ طور پر سفارشات مرتب کی ہیں اور رپورٹ مزید کارروائی کے لیے اعلیٰ احکام کو ارسال کر دی گئی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسما بی بی کے لواحقین کے پاس بھی اختیار موجود ہے کہ اگر وہ چاہیں تو قانونی کارروائی کے لیے درخواست دے سکتے ہیں جس پر سکول انتظامیہ اور مالکان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گئی۔

اسما کے والد محمد غلام یاسین اور ان کے وکیل بیرسٹر ہادی علی کا کہنا ہے کہ انکوائری رپورٹ موصول ہونے کے بعد سکول انتظامیہ اور مالکان کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hadi Ali

سکول میں ہوا کیا تھا؟

اسما بی بی کے کیس کی پیروی کرنے والے وکیل بیرسٹر ہادی علی نے بی بی سی کو بتایا کہ

جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس روز سکول میں انگریزی بول چال کے لیے تربیتی ورکشاپ تھی اور مذکورہ استانی اس موقع پر تھوڑا ہچکچا رہی تھیں۔

بیرسٹر ہادی کے مطابق تربیتی ورکشاپ کے دوران جب اسما کی باری آئی تو وہ کھڑی ہوئیں تاہم انھیں چکر آیا اور ان کا سر پیچھے موجود دیوار سے ٹکرایا جس سے وہ بے ہوش ہو گئیں۔

وکیل کا دعویٰ تھا کہ اس موقع پر سکول کی انتظامیہ نے انھیں اٹھا کر دوسرے کمرے میں لٹا دیا اور کہا کہ تھوڑی دیر میں ہوش میں آ جائیں گی۔ ان کے مطابق اس واقعے کے باوجود ورکشاپ جاری رہی اور کچھ دیر بعد جب انھیں دیکھا گیا تو وہ بدستور بےہوش تھیں۔

بیرسٹر ہادی علی کا دعوی تھا کہ جب اسما کو ہسپتال بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تو ان کا جسم تقریباً ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ انتظامیہ نے پہلے اسما کو قریبی نجی ہسپتال پہنچایا گیا مگر انھوں نے مریضہ کو فی الفور یہ کہتے ہوئے نشتر ہسپتال لے جانے کو کہا کہ ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔

ان کے مطابق اس موقع پر ریسکیو والوں کو کال کی گئی اور انھوں نے آ کر اسما کو آکسیجن دی جس کے بعد جب انھیں نشتر ہسپتال پہنچایا گیا تو ہسپتال کے عملے نے بتایا کہ اندرونی طور پر خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ پہلے ہی وفا ت پا چکی ہیں۔

سکول انتظامیہ کیا کہتی ہے؟

سکول انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیزمیں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسما بی بی کو ہسپتال پہنچانے میں تاخیر نہیں کی گئی اور انھیں دس منٹ میں ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔

انتظامیہ کے مطابق اسما کی موت سکول انتظامیہ کی غفلت یا دباؤ کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ یہ طبی موت تھی۔

اسما بی بی کا تعلق ملتان شہر سے چالیس کلومیٹر دور واقع قصبے پیر والا سے تھا اور وہ ملازمت اور تعلیم کے لیے ملتان میں مقیم تھیں۔

اسما کے والد حافظ محمد غلام یاسین پیر والا کی مقامی مسجد میں امام ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میٹرک تک اسما ان کے ہمراہ ہی اس قصبے میں رہیں مگر میٹرک کے بعد مزید تعلیم کے لیے اپنے ماموں کے پاس ملتان چلی گئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسما ایک لائق طالبہ تھیں اور مجھے کہتی تھی کہ پڑھ لکھ کر کچھ بننا چاہتی ہے تو میں نے اس کو آگے پڑھائی کی اجازت دے دی تھی۔

اسما کے والد کے مطابق وسائل کی کمی کے باعث ان کی بیٹی نے ایف ایس سی کے بعد تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے ملازمت شروع کر دی تھی اور چند ماہ قبل ہی انھوں نے اس سکول میں نوکری شروع کی تھی جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

ان کے مطابق اسما پرائیوٹ بی اے کرنے کے بعد اب ایم اے کر رہی تھیں اور ان کاخیال تھا کہ وہ ایم اے کر لیں گی تو اچھی ملازمت مل جائے گی اور وہ حقیقی معنوں میں اپنے خاندان کا سہارا بن سکیں گی مگر موت نے انھیں مہلت ہی نہ دی۔

سکولوں میں اصلاحات کے لیے سفارشات

اسما بی بی کی ہلاکت کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ سکولوں کی رجسٹریشن کے لیے لازمی اصول و ضوابط لاگو کیے جائیں۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام نجی اور سرکاری سکولوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب سہولیات فراہم کی جانی چاہییں جبکہ ایسی کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں سکول علاج معالجے کے اخرجات برداشت کرے۔

اس کے علاوہ طلبا اور اساتذہ کے نفسیاتی مسائل حل کرنے کے لیے ماہرینِ نفسیات کی خدمات حاصل کی جائیں۔