چینی لڑکوں کی پاکستانی لڑکیوں سے شادیاں: ’بہتر تھا کہ میری بیٹی کی شادی ہی نہ ہوتی‘

شادی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں انسانی حقوق پر کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق پچھلے ایک سال سے پاکستان کے صوبے پنجاب میں چینی باشندے شادی کی غرض سے آ رہے ہیں اور لڑکیوں کو شادی کر کے چین لے جا رہے ہیں

چین میں پاکستانی لڑکیوں کی شادی کی خبر آنے کے بعد پاکستان کی فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے 19 سے زائد ملزمان کو پاکستانی لڑکیوں کو دھوکہ دے کر چین لے جانے کے الزام میں گرفتار کیا۔

ان افراد کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور سے مزید خواتین کے واپس آنے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں۔

لیکن اس سارے معاملے میں شادی کے جھانسے میں پھنسنے والے والدین کے بارے میں بہت کم معلومات منظرِ عام پر آئیں۔

اس کی ایک بڑی وجہ ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد شرمندگی کا عنصر ہے جس کی وجہ سے والدین اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

چینی لڑکوں کی پاکستانی لڑکیوں سے شادیوں پر بڑھتی تشویش

پاکستانی لڑکیوں کو چین کیسے سمگل کیا جاتا تھا؟

پاک چین ’غیر قانونی شادیوں‘ پر چین کی وارننگ

اسی حوالے سے دو والدین نے بی بی سی سے اپنی بیٹیوں کے چین جانے اور جسم فروشی کی اطلاعات جاننے کے بعد واپس آنے تک کے بارے میں بات کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کی۔

ساتھ ہی انھوں اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس پورے واقعے میں بحیثیت والدین ان کا کردار کیا رہا اور وہ کیا وجوہات تھیں جن کی بنا پر انھوں نے اپنی بیٹیوں کی شادی چین میں کرنے کی حامی بھری۔

شناخت چھپانے کی غرض سے ان والدین کے نام فرضی بتائے گئے ہیں۔

ثمینہ:

'میرا نام ثمینہ ہے اور میں لاہور، محمود بوُٹی چوک کی رہائشی ہوں۔ یہاں پر ہمارے علاوہ اور بھی مسیحی خاندان ہیں۔ مجھے جب بتایا گیا کہ میری 19 سالہ بیٹی سکینہ کے لیے بیرونِ ملک سے رشتہ آیا ہے تو میں بہت حیران ہوئی۔

ہم ایک کمرے کے مکان میں رہتے ہیں۔اس کے والد کلینر تھے، ان کا انتقال ہوچکا ہے اور ہمارا گھر اُن کی پنشن (12000) سے اور بیٹی کی کمائی (9000) سے چلتا ہے۔ میری بیٹی گارمنٹ فیکٹری میں کام کرتی ہے اور وہیں اس کی دو دوستوں نے اسے اس رشتے کے بارے میں بتایا۔ ہم اتنے غریب لوگوں پر کوئی اچانک سے اتنا مہربان کیوں ہورہا ہے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔

یہ پچھلے سال کی بات ہے۔ سکینہ کی دو دوستیں چندہ اور ثنا ہمارے گھر آئیں اور کہا کہ ایک چینی شخص اپنے لیے اچھے گھر کی لڑکی تلاش کررہا ہے اور ان کو آپ کا خاندان پسند آیا ہے۔ ہم تو کہیں نہیں جاتے تو پھر ان لوگوں نے ہمیں کہاں دیکھا؟

میں نے یہی باتیں اپنی بیٹی سے کیں اور ان کے والد کے ایک رشتہ دار سے بات چیت بھی کی۔ مجھے شروع ہی سے یہ رشتہ نہیں پسند آرہا تھا۔ لیکن میری بیٹی اپنے مستقبل کی خاطر شادی کرنا چاہتی تھی۔

اس کی بات سن کر مجھے بھی لگا کہ میں نے اسے کیا دیا ہے اب تک؟ میری چار بیٹیاں اور دو لڑکے ہیں اور کسی نے بھی تعلیم حاصل نہیں کی۔ ہمارے پاس کبھی اتنے پیسے بنے ہی نہیں کہ ان کی تعلیم کا سوچتے۔ اور پھر اگر میری بیٹی کو ایک موقع مل رہا تھا کہ وہ اپنے لیے کچھ کرسکے تو میں نے ہاں کردی۔ حالانکہ میرا دل نہیں مان رہا تھا۔

ہمارے اپنے لوگوں کی جلد بازی بھی ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔

مجھے سکینہ کی دونوں دوستوں نے کہا کہ زیادہ سوچیں نہیں اچھے رشتے روز نہیں آتے اور میں نے بھی یہی سوچا کہ میں اتنا اچھا رشتہ نہیں لا سکتی۔ لیکن اب سوچتی ہوں کہ اس سے بہتر تھا کہ میری بیٹی کی شادی نہ ہوتی، کم از کم اتنی بے عزتی تو نہیں سہنی پڑتی۔

ہم نے لڑکے سے ملنے کو کہا لیکن ہمیں کہا گیا کہ لڑکا اسلام آباد میں ہے، وہیں آکر دیکھ لینا۔ میں نے اس بات پر شور مچایا تو مجھے کہا گیا کہ کام کی مصروفیت کی وجہ سے لاہور نہیں آسکتے اس لیے برا مت مانیں۔

ان سب باتوں میں ایک مہینہ لگا۔ اس کے بعد کہا گیا کہ اپنی بیٹی کو اسلام آباد میڈیکل ٹیسٹ کے لیے بھیجو اور وہیں پاسپورٹ بھی بنوالیں گے۔

میں نے کہا میری بیٹی بغیر شادی کے کہیں نہیں جائے گی۔ پھر یہیں شادی ہوئی۔ ایسا لگا ہم اپنے گھر کی شادی میں مہمان تھے۔ سارا انتظام ان لوگوں نےخود کیا اور زیادہ لوگوں کو بلانے سے بھی منع کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد پہنچنے کے تین دن بعد میری بیٹی نے فون کیا اور کہا کہ میں آرہی ہوں۔ اور میں نے بغیر کچھ پوچھے اسے واپس بلالیا۔

پھر میری بیٹی نے ضد لگا لی کہ اسے واپس نہیں جانا ہے۔ یہی کہہ رہی تھی کہ یہ لوگ صحیح نہیں ہیں، میرا نکاح صحیح نہیں ہوا، لڑکا مسیحی بھی نہیں ہے بلکہ کسی مذہب کو نہیں مانتا۔

پھر اس کی دوست چندہ کا فون آیا۔ کہنے لگی وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ائیر پورٹ تک بھیج دو، تین لاکھ روپے دیں گے۔ میں نے کہا بیٹا میں نے لڑکی شادی کر کے بھیجنی ہے، بیچنی نہیں ہے۔ اور پھر میں نے ان سے سکینہ کی بات چیت بند کروا دی۔

ہم نے کسی کو نہیں بتایا کہ کیا ہوا اور فون بھی کم استعمال کرنے لگ گئے۔ لیکن کسی طرح یہ بات پھیل گئی۔ مجھے ہر طرح کی باتیں سننے کو ملیں۔ محلے میں بات پھیل گئی کہ ہم لوگ لڑکی بیچ کر پیسے کمانا چاہتے ہیں۔

جس محلے میں میں نے اتنے سال کسی سے کبھی کچھ نہیں مانگا، اسی محلے میں مجھے بیٹی بیچنے والی کے نام سے مشہور کردیا گیا ہے۔'

مہناز:

'میں نے اپنی بیٹی کو میڈیا میں کوئی بھی بیان دینے سے منع کیا، اس کے باوجود اس نے بات کی۔ میں نے اسے اس رشتے سے بھی منع کیا تھا لیکن اس کی ضد کے آگے ہم مجبور ہوگئے۔ اچھے رشتے سب کو پسند ہیں لیکن شادیاں ہم زبانوں میں ہوں تو زیادہ بہتر رہتا ہے۔

میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اس وقت ہماری صورتحال ایسی ہے کہ مجھے بتانا پڑرہا ہے کہ یہ شادی کیوں ہوئی۔ میں اس وقت ذہنی اذیت کا شکار ہوں۔

ہمارا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ پیملہ کے والد رکشہ چلاتے ہیں اور فیصل آباد میں میری دو اور بیٹیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

میں اپنی بیٹی کے ساتھ اسلام آباد میں رہتی ہوں کیونکہ یہ پارلر میں کام کرتی ہے اور اس کی کمائی سے ہم اس کی چھوٹی بہن کی سکول کی فیس بھرتے ہیں۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ فوج میں خانسامہ ہے۔

بیٹا ہمیں زیادہ پیسے نہیں دیتا، بلکہ اگر اس کی خواہش ہو تو وہ کچھ بھی نہیں دے۔ والد اس کے رکشہ چلا کر باقی دو بچیوں کو سنبھال لیتے ہیں اور پیملہ اپنا کام سنبھال لیتی ہے۔

ہمیں نہ تو چینی زبان آتی ہے اور نہ ہی ہمیں چینی ثقافت کے بارے میں کچھ خاص پتا ہے۔ چینی لڑکے کا رشتہ میری بہن نے بتایا تھا کیونکہ اس کی بیٹی کی شادی بھی چینیوں میں ہوئی تھی اور وہ بتاتے تھے کہ ان کی بیٹی بہت خوش ہے۔

مجھے بتایا گیا کہ چینی بہت پیسہ لگا رہے ہیں پاکستان میں اور اسی وجہ سے پاکستانی لڑکیوں سے شادی بھی کرنا چاہ رہے ہیں۔

ہمیں اس بات سے تو اعتراض نہیں تھا لیکن ہماری بیٹی وہاں کیسے رہے گی یہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ لیکن پھر سوچا لڑکا اپنے ہی مذہب کا ہے، خیال رکھے گا۔

پھر پیملہ نے مجھ سے اور اس کے والد سے بات کی۔ اس نے کہا کہ چین جانا ہمارے گھر کے لیے بہت اچھا ثابت ہوسکتا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ پارلر کا کام وہاں جاری رکھے گی اور اس کے علاوہ بچوں کو سنبھالنے کا کام بھی کرلے گی۔

اس میں بھی اچھے خاصے پیسے مل جاتے ہیں۔ جس سے ہمارے گھر کا خرچہ اور آگے کے لیے بچت بھی ہوجائے گی۔

یہاں تک تو بات سمجھ آرہی تھی۔ میڈیکل ٹیسٹ کی بات پر اس کے والد غصہ ہورہے تھے لیکن میں نے اس لیے کچھ خاص نہیں کہا کیونکہ باہر ملک جانے کے لیے ٹیسٹ کروانے پڑتے ہیں اور پاکستانیوں کو ایسے ویزا نہیں دیتے۔

بات اس وقت خراب ہوئی جب ہماری بیٹی فیصل آباد سے اسلام آباد گئی۔

وہاں اس کے ساتھ سات اور لوگ تھے اور اس کو اس کے شوہر کے دوستوں کا بھی خیال رکھنے کا کہا گیا۔

اس کا کیا مطلب تھا، وہ مجھے میری بیٹی کے گھر واپس آنے پر سمجھ آگیا۔ پھر تو ہر جگہ بات پھیل گئی۔ میرے رشتے داروں کے فون آئے، یہ جاننے کے لیے نہیں کہ میری بیٹی کیسی ہے بلکہ یہ پوچھنے کے لیے کہ کہیں میری بیٹی نے ان کا نام تو نہیں لیا کہیں۔

ساتھ ہی میرا بیٹا اس بات پر ناراض ہو رہا تھا کہ آخر میری بہن میڈیا میں کیوں بات کررہی ہے۔ اگر وہ بات نہ کرتی تو اور بہت ساری لڑکیوں کو پتہ نہ چلتا کہ کیا ہورہا ہے۔

ہم اس وقت کسی سے نہیں مل رہے ہیں۔ کہیں بھی جاتے ہیں پہلا سوال یہی کیا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟

میری بہن بھی اب بات نہیں کرہی، حالانکہ یہ رشتہ وہی لوگ لائے تھے۔ اس پورے واقعے کے بعد ہمیں ایسا محسوس کروایا گیا جیسے ہم مجرم ہیں۔ اپنے بچوں کے لیے اچھا مستقبل سوچناکیا جرم ہے؟

اسی بارے میں