مدارس کے نظام میں تبدیلی: کیا اس بار حکومت مدراس پر اپنی رٹ قائم کرنے میں کامیاب ہو سکے گی؟

مدرسہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ یعنی آئی ایس پی آر کا دفتر ابھی قدرے نیا بنا ہے۔ اس کمرے میں پاکستان کے تقریباً تمام بڑے میڈیا چینلز کے 50 کے قریب صحافی جمع تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور روسٹرم پر کھڑے تھے۔ وقتاً فوقتاً وہ اپنے نوٹس پر بھی نظر ڈالتے تھے۔ پریس کانفرنس کا آغاز پلوامہ حملے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں پاکستانی اور انڈین دعوؤں سے ہوا۔

’چھ ستمبر 2017 کو اپنی تقریر میں آرمی چیف نے یہ واضح کر دیا تھا کہ طاقت کے استعمال پر ریاست کی اجارہ داری ہے۔ پاکستان نے پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اپنے معاشرے کو شدت پسندی سے صاف کرنا ہے۔'

اس پریس کانفرنس میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان ایک نئی پالیسی متعارف کروا رہا ہے جس سے ملک میں قائم 30 ہزار مدرسوں پر ریاست کا کنٹرول بڑھے گا۔

مدارس میں اصلاحات کی حکومتی کوششوں کے بارے میں مزید پڑھیے

’مدارس کے خلاف کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی‘

دینی مدارس کو تعلیمی بورڈز سے منسلک کرنے کی ہدایت

’پنجاب میں مدارس کی جیو ٹیگنگ کا عمل مکمل‘

خیبر پختونخوا کے مدارس رجسٹریشن پر آمادہ ہو گئے

پاکستان میں مدرسے دنیا میں عسکریت پسندی برآمد کرنے کے نام سے جانے پہچانے لگے ہیں۔ مگر داخلی سطح پر انھیں ایک سماجی ویلفیئر نظام کا حصہ تصور کیا جاتا رہا ہے کیونکہ وہ ہزاروں غریب بچوں کو مفت تعلیم اور کھانا فراہم کرتے ہیں۔

'دینی تعلیم ایسے ہی چلتی رہے گی جیسے چل رہی ہے مگر ہم نقرت پر مبنی خیالات کی اجازت نہیں دیں گے۔'

تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا اشارہ دوسرے مذاہب، فرقوں، یا ممالک کے خلاف نفرت آمیز خیالات کی طرف تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستانی ریاست مدرسوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماضی میں ایسی تمام کوششوں کو ناکامی ہی ہوئی ہے۔

’حکومت نا اہل ہے‘

ادھر اسلام آباد کے وسط میں واقع بھاری سکیورٹی انتظامات والے 'جامعہ حفصہ' کے مولانا عبد العزیز اس نئے مجوزہ پلان کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مولانا عبد العزیز

'حکومت نااہل ہے۔ سارے اداروں کا نظام تباہ ہو چکا ہے، اور اب یہ مدرسوں کے پیچھے آ رہے ہیں۔'

سنہ 2007 میں شریعت قوانین کی اپنی تشریح کے نفاذ کے لیے مولانا عبد العزیز کی لال مسجد کے طلبہ نے اپنے پرتشدد مظاہروں سے اسلام آباد شہر کو یرغمال بنا رکھا تھا۔

مولانا عبد العزیز کے گھر والوں کی ہلاکت ہوئی، اور ساتھ ساتھ 150 افراد بھی مارے گئے۔

ایک حالیہ ملاقات میں اسامہ بن لادن کے نام سے منسوب لائبریری میں بیٹھے مولانا عبد العزیز نیلے رنگ کی ایک تسبیح انگلیوں میں گھمائے جا رہے ہیں۔

'ملک میں صورتحال خانہ جنگی کی طرف جا رہی ہے اور انھیں مدرسوں کی پڑی ہے۔ انھیں مدرسوں سے پہلے سرکاری سکولوں کے حالات بہتر کرنا چاہیے۔‘

'بہت سے لوگ نالاں ہیں۔ بلوچ، پشتون، کشمیری، سب ہی پریشان ہیں۔ اسی لیے ایسے نعرے اٹھ رہے ہیں کہ فوج دہشتگردی کے پیچھے ہے۔ وہ اپنے غیر سوچے سمجھے فیصلوں سے مدرسوں کے خلاف بھی رائے پیدا کروا رہے ہیں۔'

نئی پالیسی کے تحت مدرسوں کو وفاقی وزارتِ تعلیم کے ماتحت لایا جا رہا ہے۔

’جو مدرسہ اندراج نہیں کرائے گا، اسے بند کر دیا جائے گا‘

وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ پیغام بالکل واضح ہے: جو مدرسے اپنا اندراج نہیں کروائیں گے انھیں بند کر دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI

'مدرسوں کو ملک کے قانون کا احترام کرنا ہوگا۔ نفرت آمیز زبان، فرقہ واریت، اور ریاست مخالف کارروائیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ ہم انھیں کچھ وقت دیں گے، شاید ڈیڑھ ماہ، اور جو اندراج نہیں کروائے گا، اسے بند کر دیا جائے گا۔'

ان مدارس کو اپنے نصاب تعلیم، طلبہ کی تعداد اور ان کا پس منظراور فنڈنگ کے ذرائع ظاہر کرنے ہوں گے۔ غیر ملکی طلبہ کو کسی بھی مدرسے میں داخلے سے قبل وزارت داخلہ سے اجازت لینی ہوگی۔

پاکستان کی جانب سے متعدد بار مدارس سے متعلق پالیسی میں تبدیلی لانے کے وعدے کے باوجود کئی مبصرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے کافی دباؤ ہے جو کہ فروری میں انڈیا کے زیر انتظام پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد مزید بڑھ گیا ہے۔

اسلام آباد میں مقیم تجزیہ کار عامر رانا مدارس کے بارے میں گذشتہ کئی سالوں سے لکھ رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کی جانب سے مدارس کے حوالے سے پیش کی گئی پالیسی میں کچھ نیا نہیں ہے ماسوائے اس بات کے کہ اب مدارس کی ذمہ داری وزارت تعلیم اٹھائے گی۔

'مدارس ہمیشہ اپنی فنڈنگ کے ذرائع ظاہر کرنے سے کتراتے ہیں اور یہی مسئلہ ایک بار پھر اٹھے گا جب حکومت نئی پالیسی کے تحت ان کا اندراج کرے گی۔'

انھوں نے مزید کہا کہ مدراس میں پڑھنے والے لاکھوں طلبہ سیاسی طور پر ایک اہم طبقے کا حصہ ہیں اور حکومت ان کے خلاف سخت کاروائی کرنے میں شاید تامل سے کام لے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاکھوں کی تعداد میں موجود مدارس کے طلبہ کی سیاسی طور پر کافی اہمیت ہے

'حکومت کے لیے مدارس ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ وہ ان سے نپٹنے کے تیار نہیں ہیں۔ یہ کہنا کہ مدارس کے نظام میں نصاب میں بہتری کے نام پر تبدیلی کرنا ایک مبہم خیال ہے اور چاہے حکومت ہو یا سکیورٹی ادارے، ان دونوں کے پاس اس حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے۔'

ہزاروں کی تعداد میں وہ طلبہ جو جیش محمد اور جماعت الدعوۃ کے مدارس سے منسلک تھے ابھی تک ان کے مستقبل کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہوئی ہے حالانکہ حکومت نے کالعدم تنظیموں کے زیر انتظام چلائے جانے والے 182 مدارس کو کنٹرول میں لے لیا ہے۔

شفقت محمود کہتے ہےں کہ یہ سمجھنا نامناسب ہے کہ اُن مدارس میں پڑھنے والے تمام طلبہ جرائم پیشہ تھے۔

انھوں نے کہا کہ بہت ممکن ہے کہ ان تمام طلبہ کو ملک کے دیگر مدارس میں منتقل کر دیا جائے گا جن کا حکومت کے ساتھ اندراج ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں