پی ٹی ایم اور فوج کا تصادم: پارلیمانی کمیشن کا مطالبہ، خارقمر چوکی کے قریب سے مزید پانچ لاشیں برآمد

پاکستانی فوج( فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خار قمر چیک پوسٹ پر اتوار کو پاکستانی فوج کے اہلکاروں اور پی ٹی ایم کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان میں حقوقِ انسانی کے کمیشن نے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلعے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر پشتون تحفظ موومنٹ کے تین کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد اب پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اسے علاقے سے پانچ مزید لاشیں بھی ملی ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان ہلاک شدگان کا تعلق اتوار کو پیش آنے والے واقعے سے ہے یا نہیں۔

پی ٹی ایم نے اپنے کارکنوں کی ہلاکت اور جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی فوجی حکام کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف پیر کو سوشل میڈیا پر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے جبکہ ہلاکتوں کے خلاف پشاور اور بلوچستان کے کچھ شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

علی وزیر: ’ریاست مخالف نہیں، لوگوں کے حقوق کی بات کی تھی‘

محسن داوڑ اور علی وزیر ایف آئی اے کی تحویل میں

’پی ٹی ایم بتائے ان کے پاس کتنا پیسہ ہے اور کہاں سے آیا؟‘

پاکستان میں حقوقِ انسانی کے کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے پیر کو ایک بیان میں شمالی وزیرستان میں ’فوجی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں کم از کم پی ٹی ایم کے تین کارکنوں کی ہلاکت‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے تنظیم اور سکیورٹی اداروں کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ریاست اور قبائلی اضلاع کے رہائشیوں کے درمیان مستقل بنیادوں پر کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔

ایچ آر سی پی نے ایم این اے علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر ایک پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے جو معاملے کی تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی ایم ایک برس سے زیادہ عرصے سے قبائلی اضلاع کی مقامی آبادی کے مسائل کو اجاگر کرتی آئی ہے اور یہ خدشات دور کرنے اور مطالبات پورے کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے اور یہ کہ ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی کو قبائلی اضلاع تک آزادانہ رسائی دی جانی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption علی وزیر کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ محسن داوڑ روپوش ہیں

بویا میں مزید پانچ لاشیں

اس سے قبل اتوار کو رات گئے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے بویا کے علاقے میں گشت کے دوران ایک نالے سے پانچ لاشیں ملیں جنھیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

جس مقام سے یہ لاشیں ملیں وہ خارقمر کی اس چیک پوسٹ سے ڈیڑھ کلومیٹر دور ہے جو کہ کل کے تصادم کا مرکز تھی۔ فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کا کہنا ہے کہ ان کے پانچ کارکن اتوار کے واقعے میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 45 زخمیوں میں سے آٹھ کی حالت نازک ہے۔

علی وزیر کے ساتھی رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کے بارے میں پی ٹی ایم کا کہنا ہے کہ انھیں بنوں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

خار قمر چیک پوسٹ پر اتوار کو پاکستانی فوج کے اہلکاروں اور پی ٹی ایم کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ پانچ فوجیوں سمیت 15 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کی قیادت کرنے والے پی ٹی ایم کے رہنما اور جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

علی وزیر کی گرفتاری اور ہلاکتوں کے خلاف احتجاج

پشتون تحفظ موومنٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 27 مئی بروز پیر سے ان ہلاکتوں کے خلاف ملک بھر میں سوشل میڈیا پر احتجاج کرے گی جس میں رکن قومی اسمبلی اور تنظیم کے رہنما علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس کے علاوہ پشاور اور بلوچستان میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

پشاور میں پی ٹی ایم کے ایک رہنما رحیم شاہ ایڈوکیٹ نے بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ کارکنوں کی ہلاکت اور پی ٹی ایم رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں جلسوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ پیر کو بھی پشاور سمیت صوبے کے تمام بڑے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا انعقاد کیا جارہا ہے جس کی قیادت پی ٹی ایم کے کور کمیٹی کے ممبران کر رہے ہیں۔

اتوار کی شام پشاور کے علاقے حیات آباد میں پی ٹی ایم کے کارکنوں کی طرف سے دھرنا دیا گیا جو رات گئے تک جاری رہا۔ اس دھرنے میں منظور پشتین نے بھی شرکت کی تھی۔ اس کے علاوہ سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، بونیر، چارسدہ کے علاوہ بلوچستان کے مختلف شہروں میں بھی پی ٹی ایم کارکن احتجاج کر رہے ہیں۔

اس احتجاج میں بلوچستان کی قوم پرست جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی بھی شامل ہے جس کے کارکن بھی مختلف شہروں میں احتجاج کر رہے ہیں۔

دوسری طرف خیبر پختونخوا کی وکلا تنظیموں کی جانب سے وزیرستان میں پی ٹی ایم کارکنوں کی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف صوبے بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا۔

خیبر پختونحوا بار کونسل کی کال پر صوبے کے مختلف اضلاع میں وکلا تنظیموں کے اجلاس منعقد ہوئے جن میں میں مطالبہ کیا گیا کہ وزیرستان واقعے کی جوڈیشل انکوائری کی جائے اور اس میں ملوث افراد کو بےنقاب کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ ریاست کے مفاد اور پاک فوج کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے پی ٹی ایم پر پابندی لگائی جائے

پی ٹی ایم پر پابندی کی درخواست

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستانی فوج کے خلاف مبینہ طور پر ہرزہ سرائی کرنے پر پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی لگانے سے متعلق ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

یہ پٹیشن پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل جاوید اقبال کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں پی ٹی ایم کی قیادت منظور پشتین، محسن داوڑ اور علی وزیر کے علاوہ وفاق، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ اور وزارت قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔

اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریاست کے مفاد اور پاک فوج کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے پی ٹی ایم پر پابندی لگائی جائے۔ اس کے علاوہ پی ٹی ایم چونکہ سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہے اس لیے اس تنظیم پر پابندی لگائی جائے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عدالت عالیہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو حکم دے کہ وہ پی ٹی ایم کے تمام منفی پروپیگنڈے کو سوشل میڈیا سے ہٹائے جبکہ درخواست میں محسن داوڑ، علی وزیر اور منظور پشتین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے پیر کے روز اس درخواست کی سماعت کی اور منظور پشتین، علی وزیر اور محسن داوڑ کے علاوہ اس درخواست میں فریق بنائے گئے دیگر افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تین جون تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کی حکومت کا ردعمل

خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے اتوار کو رات گئے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ چند لوگ قبائلی علاقوں میں بحالی اور ترقی کا عمل سبوتاژ کرناچاہتے ہیں۔

وزیرِ اطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ پشتون عوام کو حقوق کے نام پر ریاستی اداروں کے خلاف اکسا رہے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی رات میں ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ ’پی ٹی ایم کے حامیوں کو خیال رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ صرف گنتی کے چند لوگ انھیں ریاستی اداروں کے خلاف اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘

آصف غفور نے بعد میں اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی پشتو زبان میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پی ٹی ایم کے حامیوں کے ساتھ ہیں اور انھیں مشورہ دیں گے۔

فریقین کی جانب سے الزامات

اتوار کو پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی ایم کے کارکنان نے ارکانِ قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں شمالی وزیرستان میں فوج کی خارقمر چیک پوسٹ پر ایک دن قبل گرفتار کیے گئے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کے لیے حملہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس تصادم میں تین افراد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہوئے جن میں پانچ فوجی بھی شامل ہیں۔

بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے باوجود براہ راست اشتعال انگیزی اور فائرنگ کے صبر سے کام لیا تاہم اس دوران چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی جس میں پانچ سپاہی زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کی طرف سے بھی جوابی کارروائی کی گئی جس میں حملہ کرنے والے تین افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے۔

فوج کے مطابق زخمیوں کو فوجی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی ایم نے الزام لگایا ہے پاکستانی فوج نے ان کے پرامن دھرنے پر حملہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@ALIWAZIRNA50
Image caption پاکستانی فوج نے رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کر دی ہے

پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ نے کہا ہے کہ جب وہ دھرنے والی جگہ پر پہنچے تو سکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر فائرنگ کی گئی جس میں 30 کے قریب افراد زخمی ہوئے۔

انھوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے پہلے مظاہرین کو ڈرانے دھمکانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی گئی تاہم بعد میں براہِ راست فائر کھول دیا گیا جس سے ان کے کئی افراد زخمی ہوئے۔

محسن داوڑ کے مطابق فائرنگ سے انھیں بھی ہاتھ پر معمولی زخم آیا ہے لیکن وہ محفوظ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ادھر پی ٹی ایم کے مرکزی رہنما منظور پشتین کا کہنا ہے اتوار کو پیش آنے والا واقعہ ’ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے دی جانے والی دھمکی، آپ کا وقت ختم ہو چکا ہے، کا تسلسل ہے۔‘

ان کے مطابق ’گذشتہ کئی دنوں سے آئی ایس پی آر کی سوشل میڈیا ٹیمیں آج پیش آنے والے حملے کی راہ ہموار کر رہی تھیں۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ اس بزدلانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ پی ٹی ایم اپنی پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔‘

سیاسی ردعمل

خار قمر کے واقعے پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اگر اپنے ہی شہریوں کو غدار قرار دیا جائے گا تو یہ خطرناک راستہ ہے۔

’میں شروع دن سے کہہ رہا ہوں کے آپ ان کے نظریے سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر اگر آپ فاٹا کے نوجوان سیاستدانوں کی ناراضگیوں کو کم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے تو پھر ماضی میں ہم سب نے دیکھا کہ مشرف کے دور میں بلوچستان میں کیا ہوا، ایوب کی امریت کے بعد مشرقی پاکستان میں کیا ہوا، اور اب اگر ہم اپنے ہی شہریوں، بچوں اور سیاستدانوں کو قانون کی بالادستی، حق اور جمہوریت کی بات کرنے پر غدار کہیں گے تو پھر خطرناک راستے کی طرف جائیں گے۔ ‘

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے اس واقعے پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات سے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اندرونی طور پر کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دونوں طرف اگر پاکستان کے بیٹے ہیں تو سیاسی ،صحافتی حلقوں سمیت ریاست کے تمام اداروں کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں