وسعت اللہ خان کا کالم: چیئرمین نیب اور آڈیو ویڈیو کی تیرتی لاش

کالم

گذشتہ ہفتے اچانک ایک پاکستانی چینل ( ٹی وی ون ) پر چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور ایک خاتون کے درمیان حساس و طرح دار گفتگو کا ایک آڈیو اور ویڈیو کلپ نشر ہوا اور پھر اچانک اس سے لاتعلقی اختیار کر کے چینل نے معذرت کر لی۔ مگر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں کو بہرحال مصالحہ ہاتھ آ گیا۔ رسیلے مواد کی میمز بننی شروع ہوئیں، انکوائری کے مطالبے ہونے لگے، چیئرمین نیب کے استعفی کا مطالبہ سامنے آ گیا۔

کئی اسے چیئرمین نیب اور ایک خاتون کا ذاتی معاملہ قرار دینے لگے۔ کئی نے دلیل دی کہ چونکہ نیب ایک حساس ادارہ اور کرپشن کا سراغ لگا کر سزا دلوانے کا ذمہ دار ہے لہذا چیئرمین سے لے کر نچلے درجے تک تمام نیب افسران کا اخلاقی معیار عام لوگوں سے بلند ہونا ان ذمہ داریوں کا ناگزیر تقاضا ہے تا کہ نیب کا چہرہ بے داغ رہے۔

ویڈیو سکینڈل: ’یہ چیئرمین نیب کے خلاف پراپیگنڈا ہے‘

میں یہ ماننا چاہتا ہوں کہ یہ ایک مرد اور خاتون کا ذاتی معاملہ ہے جس میں کسی تیسرے کو ٹانگ نہیں اڑانا چاہیے۔ مگر ماننے میں واحد رکاوٹ یہ ہے کہ اس آڈیو اور ویڈیو کی مرکزی کردار طیبہ گل اس سال سولہ جنوری سے دو مئی تک نیب کی حراست میں رہ چکی ہیں اور فی الوقت ضمانت پر ہیں۔ طیبہ کے شوہر فاروق اب بھی نیب مقدمات میں ماخوذ اور کوٹ لکپھت جیل میں قید ہیں۔

طیبہ تسلیم کر چکی ہیں کہ یہ آڈیوز ویڈیو انھوں نے ہی ریکارڈ اور ریلیز کی ہیں۔

نیب کی جانب سے اب تک یہ تو کہا گیا ہے کہ یہ میاں بیوی ایک بلیک میلنگ مافیا کا حصہ ہیں اور جو الزامات چیئرمین نیب پر لگائے گئے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مگر آج تک نیب کی جانب سے بصری و صوتی مواد کی صحت کو چیلنج نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ وضاحت کی گئی کہ آڈیو اور ویڈیو میں جو شخص طیبہ سے فون پر یا میز کے آر پار گفتگو کر رہا ہے وہ جسٹس جاوید اقبال نہیں کوئی جعلساز ہے جو ان کی آواز اور روپ دھار کر اداکاری و صداکاری کر رہا ہے ۔

کیا اسے محض حسنِ اتفاق سمجھا جائے کہ بقول طیبہ گل آڈیو اور ویڈیو سامنے آنے کے بعد 21 مئی کو ان کے بیٹے، دیور، پہلے سے نظربند شوہر اور ان کے خلاف مزید تین ایف آئی آرز کٹ گئیں۔

اور 25 مئی کو نیب نے چیئرمین اور چھ دیگر افراد کو بلیک میل کرنے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے الزامات میں دونوں میاں بیوی کے خلاف ایک اور ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر دیا۔

اس ریفرنس کی سماعت سترہ جون کو ہوگی۔ تو کیا عدالت چیئرمین نیب کا موقف بھی قلمبند کرے گی؟

نہیں معلوم کہ یہ معاملہ اگلے چند دنوں میں سلجھے گا یا مزید الجھے گا یا اس کی جانچ کسی بھی سطح پر ہوگی کہ نہیں۔ البتہ چیئرمین نیب چونکہ ایک آئینی عہدیدار ہیں لہذا ان کے منصب سے لگنے والے الزامات کا صاف ہونا بہت ضروری ہے۔

اس کا سیدھا آسان فوری طریقہ تو یہ ہے کہ آڈیوز اور ویڈیو کی فرانزک جانچ کروا لی جائے تاکہ اصلی نقلی کا پتہ چل جائے۔

نیز طیبہ اور چیئرمین نیب کے زیرِ استعمال فونز کی بھی فورنزک جانچ ہو جائے تاکہ کالنگ ریکارڈ سے واضح ہو جائے کہ کس نے کس کو کب کتنی بار کیوں فون کیا اور اگر کسی آڈیو ویڈیو مواد کا تبادلہ ہوا تو اس مواد کی نوعیت اور غرض و غائت کیا تھی ؟

اس فرانزک جانچ کا فائدہ یہ ہوگا کہ حاسدوں کے منہ بند ہو جائیں گے اور جب چیئرمین نیب اپنے ماتحتوں کے اگلے اجلاس کی صدارت کریں گے تو ماتحت دل میں کوئی اوندھا سیدھا خیال لائے بغیر باس کی بات پوری توجہ سے سنیں گے۔

فرض کریں فرانزک سے ثابت ہوتا ہے کہ کردار، گفتگو اور ویڈیو اصلی ہیں۔ تب سوال اٹھے گا کہ آخر کیا سبب تھا کہ ایک زیرِ تفتیش ملزمہ اور چیف تفتیش کار کی ملاقات و گفتگو مروجہ قانونی قواعد و ضوابط سے ہٹ کر براہِ راست ہوتی رہی۔

لیکن اگر اس ذاتی معاملے کو ادارے کے ذریعے دبانے یا بذریعہ میڈیا اس کا رخ موڑنے کی یکطرفہ کوشش ہوتی رہیں تو منہ تو عارضی طور پر بند ہو جائیں گے مگر عہدے کے اخلاقی تقاضوں پر لگنے والا متعفن سوالیہ نشان انصاف کے سمندر پر پھولی لاش کی طرح تیرتا رہے گا۔

امید ہے چیئرمین نیب جو سابق چیف جسٹس آف پاکستان بھی ہیں معاملے کی نزاکت سمجھتے ہوئے یہاں تک نوبت نہیں آنے دیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں