محمد حنیف کا کالم: کراچی کے محافظین سے گزارش

فریئر ہال پارک تصویر کے کاپی رائٹ Syed Sameer/Getty Images
Image caption فریئر ہال کبھی کراچی کا مرکز اور میونسپل ہال ہوا کرتا تھا

ہم کراچی والے بہت شکایتیں کرتے ہیں۔ پانی دو، کچرا اٹھاؤ، کچھ بسیں یا ٹرین چلا دو اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ہمیں دیوار سے تو نہ لگاؤ۔

ہماری کبھی نہیں سنی جاتی اور بعض دفعہ ہم بالکل شکایت نہیں کرتے اور ہماری سنی جاتی ہے۔ شہر کے سیانے لوگ مل بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں تمہیں پتا ہے کہ تمہارا ایک مسئلہ ہے حالانکہ تم نے کبھی کہا نہیں لیکن ہم حل کیے دیتے ہیں۔

جو لوگ کراچی سے واقف نہیں ہیں ان کے لیے بتاتا چلوں کہ کراچی میں ایک فریئر ہال ہے جو کبھی کراچی کا مرکز اور میونسپل ہال ہوا کرتا تھا۔ اس کے اردگرد ایک پارک ہے۔ یہ واحد پارک ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا کیونکہ نہ کوئی چاردیواری ہے نہ کوئی گیٹ، نہ کوئی ٹکٹ ہے نہ یہ پابندی کہ صرف فیملی والے لوگ آ جا سکتے ہیں۔

محمد حنیف کے دیگر کالم پڑھیے

کراچی کے جائز تجاوزات

ہم ڈی ایچ اے والے

تجاوزات: جائز اور ناجائز

ریٹائرڈ فوجی کا خواب

یہ پارک کچھ سالوں کے لیے اس لیے بند ہوا تھا کہ پارک کے سامنے امریکی ایمبیسی تھی۔ گیارہ ستمبر 2001 والے واقعے کے بعد سکیورٹی بڑھی تو پارک کے سامنے سڑک پر پیدل چلنے اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی لگا دی گئی۔ ایک رکشے والے نے موٹی سی گالی دے کر شکایت کی کہ جو ایمبیسی کو اڑانے آئے گا وہ کیا رکشے میں بیٹھ کر آئے گا۔

پھر امریکی ایمبیسی نے کراچی کا ایک اور بڑا کونا پکڑ لیا اور وہاں سے شفٹ ہو گئی اور پارک کھل گیا۔ میری اوائلِ جوانی کی پارک سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں سو پہلے ہی ہفتے معائنہ کرنے پہنچا۔

کوئی درجن بھر لونڈے ایک قطار میں کھڑے تھے۔ بہت تیزی سے بھاگ کر آتے تھے، ایک درخت کے تنے پر تیزی سے چڑھتے تھے اور قلابازی لگا کر زمین پر اترتے تھے اور جس کی قلابازی تھوڑی ٹیڑھی ہو جاتی اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ انھوں نے غالباً فلم میٹرکس میں یہ تماشا دیکھا تھا اوراب اس کو ایک کھیل میں بدل دیا تھا۔

اتنے برس بعد پارک کو آباد دیکھ کر میرے دل نے گواہی دی کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت چکا ہے۔ تب سے میں نے فریئر ہال پارک کے بارے میں کبھی کوئی شکایت نہیں سنی۔ سال میں ایک دفعہ کوئی فوڈ فیسٹیول یا چائے میلہ لگانے والے آ جاتے ہیں تو تنبو قناتیں کھڑی کرکے پارک بند کر دیتے ہیں، ٹکٹ لگا دیتے ہیں۔ باقی پورا سال بعد سب کے لیے کھلا ہے۔

اب کراچی کے زعما نے جن میں شہر کے سب سے محترم آرٹسٹ، صحافی، آرکیٹکٹ اور تاجر لوگ شامل ہیں، مل کر ایک بورڈ بنایا ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے پارک ان کے حوالے کیا ہے اور انھوں نے عہد کیا ہے کہ ہم پارک میں نئی روح پھونک دیں گے۔ کراچی کے اس ثقافتی ورثے کو پھر زندہ کریں گے۔

نہ کسی نے پوچھا ہے نہ کسی کو بتایا ہے(کم ازکم جو لوگ اس پارک میں جاتے ہیں ان سے تو نہیں پوچھا) کہ ارادے کیا ہیں۔ صحافی اور لکھاری صبا امتیاز نے تھوڑی پوچھ گچھ کی تو پتا چلا کہ ایک کافی شاپ بنے گی، انڈر گراؤنڈ پارکنگ بنے گی، لائبریری کو ایئرکنڈیشنڈ کیا جائے گا اور کوئی فوارہ اور کوئی بینڈ سٹینڈ کا احیا کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ WikiPedia
Image caption یہ واحد پارک ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا کیونکہ نہ کوئی چاردیواری ہے نہ کوئی گیٹ

بورڈ نے اپنے آپ کو گارڈینز یعنی محافظین کا نام دیا ہے۔ ان کے ارادوں کو سلام ہے، ان کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن ایسی جگہ کو زندہ کرنے کی کیا ضرورت جو زندہ اور آباد ہے۔

کراچی میں کسی نے شکایت نہیں کی کہ اصل میں شہر کو بس ایک اور کافی شاپ چاہیے۔ آدھا مرکزی کراچی ویسے ہی ایک بڑا کار پارک بن چکا ہے۔ فریئر ہال پیدل لوگوں کا پارک ہے۔ موٹر سائیکل پر چار، چار بچے بٹھا کرآنے والوں کا پارک ہے جو پانچ سو روپے کا کافی کا کپ خرید سکتے تو شاید یہاں آتے ہی نہیں۔

یہ پارک عوامی ہے لیکن اس کے ہمسائے کراچی کے سب سے تگڑے لوگ ہیں۔ ایک طرف کورکمانڈر کا گھر ہے، دوسری طرف سے سندھ کلب ہے۔ ایک طرف پورے ملک کو کنکریٹ بیچنے والی کمپنی کا دفتر ہے اور سامنے ایک پنج ستارہ ہوٹل ہے جہاں پر لان کی نمائش ہوتی ہے تو علاقے کی آدھی ٹریفک پولیس کی ڈیوٹی لگ جاتی ہے۔

شاید ان زورآوروں کو لگتا ہو کہ اتنے سارے میلے کچیلے موٹرسائیکلوں پر چار بچے بٹھا کر ہمارے محلے میں کیوں آ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نہ پارک آنے والوں نے کبھی شکایت کی نہ ہی ان کی شکایت کسی نے کی۔

کوئی لڑائی جھگڑا نہیں، کوئی منشیات نہیں حالانکہ کراچی ایسا بدبخت شہر ہے کہ یہاں قائد اعظم کے مزار والے پارک میں بھی دن دیہاڑے ریپ ہو جاتا ہے اور وجہ جیسا کہ صبا امتیاز نے اپنے مضمون میں لکھا ہے، یہی ہے کہ یہاں پر کوئی دیوار نہیں، کوئی گیٹ نہیں، کوئی پولیس پہرا نہیں۔ پارک میں آنے والوں کو محافظین کی ضرورت کبھی نہیں پڑی۔

Image caption رواں برس کراچی میں عورت مارچ کے شرکا بھی اسی پارک میں جمع ہوئے تھے

یہاں ہر اتوار کو پرانی کتابوں کا بازار لگتا ہے جہاں ایک سٹال پر آپ کو رئیس امروہوی کے جنسیاتی مسائل پر لکھی ہوئی کتابچے، کاملہ شمسی کی سرقہ کی ہوئی کتابیں اور بخاری شریف کا مکمل سیٹ بازارسے بارعایت مل جاتا ہے۔ یہ کتابیں بیچنے والے بھی ایسے فنکار ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی کتاب نہ ہو تو اگلے ہفتے یا وہ کتاب ڈھونڈ لائیں گے یا آپ کو قائل کر لیں گے کہ یہ بالکل اس جیسی ایک اور کتاب مل گئی ہے۔

پارک میں کئی نوجوانوں کے گروپ ملیں گے جو اپنا بک گروپ بنا کر بیٹھے بحث کر رہے ہیں۔ ایک درجن کرکٹ میچ چل رہے ہوں گے جن میں ادھیڑ عمر مرد اپنی دس سال کی بچی کو بیٹ پکڑا کر خود بولنگ پریکٹس کر رہے ہوں گے۔ کیچ نکلے گا ایک میچ سے، پکڑا دوسرے میچ میں جائے گا۔ کسی کونے میں ایک جوڑا انتہائی مودب ڈیٹ لگا رہا ہو گا۔ کسی درخت کے سائے میں کوئی محنت کش قیلولہ کر رہا ہو گا۔

کراچی کے محافظین کو چاہیے کہ وہ اس پارک کو زندہ کرنے سے پہلے یہاں کچھ وقت گزاریں تو شاید انھیں احساس ہو کہ یہاں پر اچھی خاصی سانس لیتی صابن کے بلبلوں کے پیچھے بھاگتی زندگی موجود ہے۔ ویسے میرے پاس کراچی کے اس حصے میں پارکوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے جنھیں زندہ کیا جا سکتا ہے۔

کراچی کے انتہائی خوبصورت لیکن بالکل غیرآباد پارک کو دیکھ کر میں نے مالی سے پوچھا تھا کہ آپ اتنی محنت کرتے ہو، یہاں پر لوگ کیوں نہیں آتے؟ انھوں نے کہا آپ نے اردگرد کے گھر دیکھے ہیں، اس سے بڑے بڑے لوگوں کے گھروں میں لان بنا رکھے ہیں تو وہ یہاں کیوں آئیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں