پی ٹی ایم کا موقف پاکستانی میڈیا سے غائب کیوں؟

پاکستانی اخبار تصویر کے کاپی رائٹ Zeeshan Haider

نجی محفلیں ہوں یا سوشل میڈیا، پاکستان میں آج کل یہ بحث زوروں پر ہے کہ نیوز چینلز اور اخبارات میں کیا کچھ اور کیسے رپورٹ ہو رہا ہے اور کیسے ہونا چاہیے۔

ان سوالوں کا جواب طے کرنا خاصا مشکل ہے، کیونکہ ہر کسی کی اپنی رائے ہے اور اس رائے کے حق میں درجنوں دلیلیں۔

کئی ماہرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی صحافت میں 'ذاتی رائے' کا در آنا خبر پر اثرانداز ہو رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کہیں کوئی خبر 'اوور رپورٹ' ہو رہی ہے تو کہیں 'انڈر رپورٹ'۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی میڈیا میں سینسرشپ اور سیلف سینسرشپ

عزیز ہم وطنو!

شمالی وزیرستان: علی وزیر کا ریمانڈ، محسن داوڑ کا وڈیو پیغام

پی ٹی ایم کارکنوں کی ہلاکتیں، پارلیمانی کمیشن کا مطالبہ

شمالی وزیرستان کے علاقے خارکمڑ میں اتوار کو پیش آنے والے واقعے نے اس بحث کو مزید ہوا دی ہے۔

اگر پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان تصادم کی پاکستانی میڈیا میں کوریج کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بیشتر اخبارات اور چینلز میں پی ٹی ایم کے موقف کو کوئی جگہ نہیں دی گئی۔

پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین کا موقف ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر موجود تھا جبکہ ان کے کئی رہنماؤں نے بین الاقوامی میڈیا سے بھی بات کی تاہم مقامی میڈیا میں یہ موقف نظر نہیں آیا اور تو اور کم از کم دو اخبارات نے ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو 'دہشت گرد' قرار دے دیا۔

جہاں کوریج ہوئی بھی وہاں محسن داوڑ کے وائس آف امریکہ کو دیے گئے بیان کو دو جملوں میں شائع کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Express Tribune

درست اور غلط کی بحث میں جائے بغیر ہم نے سینیئر صحافیوں سے بات کر کے ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کے مقامی میڈیا میں ایسے معاملات میں دوسرے فریق کے موقف کو جگہ کیوں نہیں ملی اور جو لوگ ان کے موقف کو کوور کرنے کے حق میں نہیں ان کی دلیل کیا ہے۔

’ریاستی ادارے کوشش کرتے ہیں کہ تقسیم کرنے والا بیانیہ زیادہ نہ چلے‘

صحافی اور تجزیہ کار عامر ضیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صحافت اور سیاست دونوں ہی منقسم ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'دونوں میں ہی ایک انتہا پسندانہ رویہ نظر آئے گا۔ بدقسمتی سے سیاست کی حد تک تو یہ انداز کسی حد تک چل سکتا ہے لیکن جب بات حساس معاملات، ملکی سلامتی، دہشت گردی اور سکیورٹی کی آتی ہے تو مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔‘

پی ٹی ایم کا موقف پیش نہ کرنے کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان 2001 سے جنگ کی حالت میں ہے، کچھ معاملات میں 'ایسا بیانیہ جو تقسیم کر رہا ہو اور جو اداروں کو کمزور کر رہا ہو، تو اس پر چیک اینڈ بیلنس آتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پی ٹی ایم کے مطالبات پر تو روایتی اور سوشل دونوں ہی میڈیا پر مسلسل بات ہو رہی ہے، لیکن اگر کوئی یہ توقع کرے کہ ایک 'فرنج تحریک' پاکستان کی ریاست اور اداروں کو نشانہ بنائے اور ان کی گالم گلوچ کو میڈیا دکھانا شروع کر دے تو ایسا کہیں بھی ممکن نہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہو گا'۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

عامر ضیا کے مطابق ’لسانی یا فرقہ وارانہ گروہوں کو کہیں بھی زیادہ جگہ نہیں دی جاتی‘۔

ان کے مطابق 'یہ درست ہے کہ اس میں ریاستی ادارے بھی کوشش کرتے ہیں کہ وہ بیانیہ زیادہ نہ چلے جو تقسیم پیدا کر رہا ہے۔ انڈیا جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، وہاں بھی معاشرے میں انتشار پھیلانے والے عناصر کو نہیں دکھایا جاتا۔‘

مزید پڑھیے

یہ پی ٹی ایم کیا ہے؟

منظور پشتین کون ہے؟

’منظور پشتین ہمارا اپنا بچہ ہے، ہم انھیں سنیں گے‘

اس سوال پر کہ میڈیا کیسے فیصلہ کر سکتا ہے کہ کون سا گروہ انتشار پھیلا رہا ہے، عامر ضیا کہتے ہیں کہ 'پی ٹی ایم کہیں اپنے ایکشن اور کہیں اپنے الفاظ کے ذریعے خلاف ورزی کر رہے ہیں، ایسا نہیں کہ ان کے مطالبات پر کام نہیں ہو رہا ، کام ہو رہا ہے لیکن اگر وہ پاکستان کی اساس پر سوال اٹھائیں، فوج کو گالیاں دیں، وہ بھی ایک ایسے وقت پر جبکہ وہاں حالات بتدریج ٹھیک ہو رہے ہیں تو کوئی بھی ریاست میرے خیال میں اسی طرح کی پوزیشن لے گی، اور میڈیا ہاؤسز بھی خیال رکھیں گے۔‘

’خود ساختہ سنسرشپ ہی اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے‘

سینیئر صحافی اور مدیر کی حیثیت سے پاکستانی اخبارات سے وابستہ رہنے والے ایم ضیاالدین اس دلیل سے بالکل اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے خیال میں پی ٹی ایم واقعے کی خبر مکمل تفصیل اور فریقین کے موقف کے ساتھ چھپنی چاہیے تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جیسے ڈان نے پی ٹی ایم کی خبر چھاپی، اس میں محسن داوڑ کا بیان بھی شامل کیا، اسی طرح ہر خبر کو ہونا چاہییے، دونوں اطراف کا موقف پیش کیا جائے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں میڈیا تقسیم تو ہے ہی لیکن اس سے زیادہ وہ سیلف سینسر شپ کا شکار بھی ہے، یہ خود ساختہ سینسرشپ ہی اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

’پاکستان میں بھی اب صحافی سمجھتے ہیں کہ وہ اگر صرف کسی ایک ادارے کا موقف دیں گے تو ثابت ہو گا کہ وہ محب وطن ہیں۔ تو یہ تو کافی مشکل صورتحال ہے۔‘

ایم ضیاالدین کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں میڈیا مالکان کبھی بھی حکومت کے دباؤ کو نہیں سہتے۔ یہ لڑائی صرف میڈیا ورکر لڑ سکتا ہے، لیکن اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں میڈیا ورکرز بھی تقسیم ہو گئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Daily Ummat

ان کے مطابق ’ایسا لگتا ہے کہ میڈیا پر دباؤ حکومت نہیں فوج کی جانب سے ہے۔

'ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ دباؤ بھی ہے اور وہ کس طرف سے ہے، تو پی ٹی آئی کی حکومت میں اتنی سکت نہیں۔ ہاں ملک میں 2017 سے ہی فوج نے سمجھا ہے کہ میڈیا کو قابو میں رکھنا ان کے لیے ضروری ہے اور وہ مالکان کو براہ راست بتاتے ہیں کہ کس خبر یا انٹرویو کو کیسے چلنا ہے اور میرے خیال میں ان کے پاس طاقت بھی ہے۔

’ہم یہاں کھُل کر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ فوج کر رہی ہے کیونکہ صحافی خود بھی سینسرشپ کرتا ہے کہ جو وہ رپورٹ کرنا چاہتا ہے، کہیں اس کی وجہ سے دباؤ نہ آ جائے۔‘

پاکستان کے مختلف صحافتی اداروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحافت کمزور ہوئی ہے۔

ضیاالدین کے مطابق میڈیا مالکان کے علاوہ اس کی ایک وجہ کمزور صحافتی تنظیمیں بھی ہیں جو خود ہی توڑ پھوڑ کا شکار ہیں اور ’ایسے میں میڈیا ورکر جو درست خبر دینا بھی چاہے تو اس کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے کوئی نہیں ہوتا۔‘

وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا نیا میڈیا اور نوجوان صحافی ابھی یہ نہیں سمجھ پائے کہ میڈیا کا اصل مقصد کیا ہے۔ 'انھیں یہ سمجھ بوجھ ہی نہیں کہ میڈیا کیا ہے اور کیوں ہے۔ انھیں بس یہ اندازہ ہے کہ میڈیا ہے اور پیسے کما سکتے ہیں۔‘

ایم ضیاالدین کے مطابق ’مالکان سمجھتے ہیں کہ کاروبار ہے تو بزنس کے لیے انھیں حکومت اور ریاستی اداروں دونوں کے ساتھ مل کر چلنا ہوتا ہے۔‘

واضح رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان اس سے پہلے اپنی کئی پریس کانفرنسز میں ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں کہ فوج میڈیا مالکان یا پروگرام اینکرز پر کسی بیانیے کی تشہیر یا اسے روکنے کے لیے دباؤ ڈالتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Daily Khabrain

’فرینڈلی ایڈوائس آتی ہے‘

صحافی اور مصنفہ نسیم زہرا بھی ایم ضیا الدین کے خیالات سے اتفاق کرتی ہیں کہ اگر پی ٹی ایم کی جانب سے اس واقعے کی تردید ہوئی تو یہ موقف بھی خبر کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے متعلق معلومات کا ذریعہ ایک ہی تھا اور وہ آئی ایس پی آر یعنی فوج کا تعلقات عامہ کا شعبہ تھا تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ ’پی ٹی ایم کا معاملہ اتنا سیدھا نہیں، یہ سیاسی بھی ہے اور سلامتی کا بھی۔‘

ان کے خیال میں 'یہ سیاسی معاملہ بھی ہے اور اسے قومی سلامتی کے زمرے میں بھی لایا گیا ہے۔ قومی سلامتی کے معاملے میں تو دنیا بھر میں معلومات محدود ہوتی ہیں اور میرا خیال ہے کہ وہ بھی ہے لیکن ساتھ یہ بھی دیکھیں کہ اس کے سیاسی حصے پر ہر جگہ بات ہو رہی ہے جیسے کہ یہ کہا گیا کہ وہ ایم این اے ہیں یا پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ ن لیگ نے یہ تجویز دی تو ہر چینل نے اس کو دکھایا۔ کسی نے بلیک آؤٹ نہیں کیا۔ جو واقعہ آن گراؤنڈ ہوا، تو جیسے ہم نے رحیم اللہ یوسفزئی سے بات کی، انھوں نے بتایا اس علاقے میں فون وغیرہ تک رسائی نہیں اس لیے معلومات کا واحد ذریعہ فوج ہی تھا۔‘

تاہم وہ یہ تسلیم کرتی ہیں کہ کوریج کے حوالے سے 'فرینڈلی ایڈوائس' بھی آتی ہے۔

'یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ایڈوائس نہیں آتی، فرینڈلی ایڈوائس آتی ہے، اور پی ٹی ایم کے معاملے پر تو کافی عرصے سے چل رہا ہے کہ اسے دیکھ کر چلیں، زیادہ بات نہ کریں وغیرہ وغیرہ۔‘

نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ صورتحال خاصی پیچیدہ ہے۔

'یہ بلیک اینڈ وائٹ نہیں بلکہ کافی گرے ہے۔ اس میں سیاسی حقوق اور قومی سلامتی کی بات ہے، پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوتا ہے۔ آپ اپنے ضمیر، قانون اور لوگوں کے حقوق کو جوابدہ ہیں۔ ایسا نہیں کہ سینسر شپ اور سیلف سینسر شپ نہیں، لیکن صورتحال بھی خاصی پیچیدہ ہے، بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہے کیونکہ سچائی بھی تو واضح نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں