شمالی وزیرستان: پی ٹی ایم کے محسن داوڑ کا دھرنے کا اعلان، علی وزیر کا جسمانی ریمانڈ

محسن داوڑ
Image caption محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم پرامن ہے اور پرامن ہی رہے گی

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اتوار کو شمالی وزیرستان میں خڑ کمار چیک پوسٹ پر پیش آنے والے واقعے کے بعد میران شاہ میں دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

خڑکمار چیک پوسٹ پر اتوار کو ایک دھرنے میں شرکت کے لیے محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں جانے والے پی ٹی ایم کے کارکنوں کے فوجی اہلکاروں سے تصادم میں پاکستانی فوج کے مطابق کم از کم تین افراد ہلاک اور پانچ فوجیوں سمیت 15 زخمی ہوئے تھے۔

پی ٹی ایم کا کہنا ہے کہ فوجیوں کی فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہونے والے اس کے کارکنوں کی تعداد فوجی دعووں سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی ایم کارکنوں کی ہلاکتیں، پارلیمانی کمیشن کا مطالبہ

علی وزیر: ’ریاست مخالف نہیں، لوگوں کے حقوق کی بات کی تھی‘

’پی ٹی ایم بتائے ان کے پاس کتنا پیسہ ہے اور کہاں سے آیا؟‘

فوج نے اس موقع پر علی وزیر اور وزیر گرینڈ جرگہ کے سربراہ ڈاکٹر گل عالم وزیر کو حراست میں بھی لیا تھا جن میں سے ڈاکٹر گل وزیر کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ علی وزیر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

محسن داوڑ نے اس واقعے کے بعد پیر کو ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انھوں نے میران شاہ میں دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ویڈیو میں محسن داوڑ کے ہمراہ وزیر گرینڈ جرگہ کے سربراہ ڈاکٹر گل عالم وزیر کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جنھوں نے الزام لگایا کہ سکیورٹی فورسز انھیں مارنا چاہتی تھیں۔

محسن داوڑ نے گذشتہ روز چیک پوسٹ پر حملے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی تنطیم پرامن ہے اور پرامن رہے گی۔ ’آج تک کوئی بتائے کہ ہم نے کوئی گملا بھی تھوڑا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@ALIWAZIRNA50
Image caption پاکستانی فوج نے رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کر دی ہے

ادھر ایم این اے علی وزیر کو پیر کو سخت سکیورٹی میں شمالی وزیرستان سے بنوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ علی وزیر کے خلاف بنوں میں مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ منتخب رکن قومی اسمبلی نے دیگر ساتھیوں سمیت میبنہ طورپر سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس سے ہلاکتیں ہوئی۔

اس کے علاوہ مذکورہ ایم این اے پر فوج اور اس کے اعلیٰ اہلکاروں کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے اور نازیبا نعرہ بازی کرنے کے بھی الزامات ہیں۔

بنوں میں پولیس ذرائع کے مطابق علی وزیر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا ہے۔

محسن داوڑ کے مطابق علی وزیر کو وہاں اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک زخمی کو اُٹھانے کے لیے گئے۔ اُنھوں نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے اُن کارکنوں پر فائرنگ ہوتی رہی، جو ویڈیوز بنا رہے تھے۔

خڑکمار پر قومی اسمبلی میں بحث

پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیرستان کے واقعے پر بحث ہوئی جس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے کہا کہ وزیرستان جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ ایسی فالٹ لائنز کو پارلیمان کے ذریعے ہی حل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا چاہیے اور اگر غلطی پر ہے تو سیاسی طور پر اُس کو ڈیل کرنا چاہیے۔‘

وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے وزیرستان واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تمام ویڈیوز موجود ہیں، کہ کس طرح پاکستانی فوج کی ایک چوکی پر حملہ ہوا ہے۔ مراد سعید کے مطابق وزیرستان میں جاری احتجاج تب تک پرامن تھا جب تک پی ٹی ایم کے رہنما وہاں نہیں پہنچے تھے۔

وفاقی وزیر نے اسمبلی میں حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2009 اور 2014 میں فوجی آپریشنز کے بعد اُس وقت کی سیاسی حکومتوں نے وہاں کیوں لوگوں کو سہولیات نہیں دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مراد سعید کے مطابق فوج نے کارروائی کر کے تمام علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کردیا، تاہم سیاسی حکومتوں نے پھر ان آپریشنز کے بعد بحالی کا کام نہیں کیا۔

ادھر پاکستان میں حقوقِ انسانی کے کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے پیر کو ایک بیان میں شمالی وزیرستان میں ’فوجی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں پی ٹی ایم کے کم از کم تین کارکنوں کی ہلاکت‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے تنظیم اور سکیورٹی اداروں کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ریاست اور قبائلی اضلاع کے رہائشیوں کے درمیان مستقل بنیادوں پر کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔

ایچ آر سی پی نے ایم این اے علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر ایک پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے جو معاملے کی تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی ایم ایک برس سے زیادہ عرصے سے قبائلی اضلاع کی مقامی آبادی کے مسائل کو اجاگر کرتی آئی ہے اور یہ خدشات دور کرنے اور مطالبات پورے کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے اور یہ کہ ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی کو قبائلی اضلاع تک آزادانہ رسائی دی جانی چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں