بلاول بھٹو: علی وزیر کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلاول بھٹو زرداری بدھ کو نیب عدالت کے سامنے پیش ہوئے

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلال بھٹو زرداری نے قبائلی علاقوں سے منتخب رکن علی وزیر کو فوری طور پر قومی اسمبلی میں پیش کرنے اور نیب کے چیئرمن کے خلاف منظر عام پر آنے والی ویڈیوز کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں بدھ کو نیب کے سامنے پیشی کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے عید کے بعد احتجاجی مہم چلانے کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہ مہم حکومت کو گرانے کے لیے نہیں بلکہ عوام کو ان کے معاشی، سیاسی اور انسانی حقوق دلانے کے لیے ہو گی۔

رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ علی وزیر کی گرفتاری کی اطلاع قومی اسمبلی کے سپیکر کو دی جانی چاہیے تھی۔ انھوں نے کہا ایک ایم این اے غائب ہے اور قومی اسمبلی کو علم ہی نہیں ہے۔ اس بارے میں اپنی پارٹی کا لائحہ عمل پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ علی وزیر کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کے لیے سپیکر سے تحریری درخواست کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ سپیکر نے اچانک قومی اسمبلی کے اجلاس کو دو دن کے لیے ملتوی کر دیا ورنہ وہ اس بارے میں پہلے ہی کارروائی کرتے۔

بلاول بھٹو زرداری نے وزیرستان میں گرفتار ہونے والے ایک نجی ٹی وی کے صحافی کی بھی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ 'صحافی ہونا، سوال کرنا اور رپورٹنگ کرنا' کوئی جرم نہیں ہے۔

وزیرستان میں گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کیا ملک میں بنگلہ دیش والی صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔ بلاول بھٹو نے ابتداء پاکستان کے قیامت تک قائم رہنے کی دعا سے کی۔

یہ بھی پڑھیے

بریانی، کیک اور بھٹو

بھٹو خاندان کی تیسری نسل کا عملی سیاست میں قدم

'بھٹو صاحب جوناگڑھ کو پاکستان لے گئے‘

بلاول بھٹو زرداری نے کہا 'اس ملک میں ہم نے بہت کچھ دیکھا ہے۔' انھوں نے کہا کہ جہاں مختلف زبانیں بولنے والے بستے ہوں وہاں جب تک ہر علاقے اور ہر زبان بولنے والے کو مساوی جمہوری، انسانی اور معاشی حقوق حاصل نہیں ہوں گے وفاق قائم نہیں رہ سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیب کے باہر جمع ہونے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف پولیس نے کارروائی کی (فائل فوٹو)

انھوں نے کہا کہ جمہوریت ہی ایک ایسا نظام ہے جو کہ تمام لوگوں کے حقوق کو یقینی بناتا ہے اور جب کبھی بھی جمہوریت اور جمہوری حقوق پر سمجھوتہ کیا گیا ملک نے نقصان اٹھایا۔

انھوں نے کہا کہ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی والدہ بے نظیر بھٹو نے اپنی جانیں دیں اور یہی قائد اعظم محمد علی جناح کی سوچ اور فکر تھی۔

فوج کے خلاف لگائے جانے والے نعروں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسے نعرے بے نظیر بھٹو کے دور میں لگتے تھے لیکن بے نظیر بھٹو جیسی مقبول رہنما ان کو روکتی تھیں۔

انھوں نے کہا ایسے نعروں کا سدباب کرنے کے لیے ایک مضبوط اور پراعمتاد سیاسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔

نیب چیئرمین کی ویڈیو کا معاملہ:

نیب چیئرمین کے خلاف سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انھیں اس سے سازش کی بو آتی ہے اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔

ایک سوال پر کہ آپ کیسے ان ویڈیوز کو سازش قرار دے سکتے ہیں بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی ماضی میں اس طرح کی بہت سے سازشیں دیکھ چکی ہے۔

اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے حکومت کے ایک مشیر کے ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا جسے انھوں نے ایک متنازع انٹرویو قرار دیا اور اس رائے کا اظہار کیا کہ نیب چیئرمین کو یہ انٹرویو نہیں دینا چاہیے تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اس انٹرویو کے آخری میں انھوں نے دو باتیں ایسی کہیں جو حکومت کے حق میں نہیں جاتی تھیں اور دو دن بعد یہ ویڈیوز سامنے آ گئیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان نے اس کے بعد اپنے اس مشیر کو اُس کے عہدے سے علیحدہ بھی کر دیا۔

ان سازشوں کا انھوں نے ذمہ دار وزیر داخلہ اعجاز شاہ کو قرار دیا اور کہا کہ مشرف دور میں بھی اس طرح کی سازشیں عدلیہ کے خلاف کی گئیں تھیں۔ انھوں نے کہا کہ اب بھی اداروں کو کنٹرول کرنے کے لیے اس طرح کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ 'حکومت نیب سے شروع ہوتی ہے اور نیب پر ختم ہوتی ہے۔'

نیب کے بارے میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نیب مشرف کے دورے میں بنائے گئے ایک قانون کےتحت قائم کی گئی تھی اور جس طرح آمروں کے دورے میں بنائے گئے تمام قوانین کالے قوانین ہوتے ہیں اسی طرح نیب کا قانون بھی کالا قانون ہے جسے ختم ہونا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عید کے بعد کل جماعتی کانفرنس بلائے جانے کی تجویز ہے

نیب کے بارے میں بلاول بھٹو زرداری نے بڑی تفصیل سے بات کی اور اپنے والد کے اس بیان کو بھی دہرایا کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

انھوں نے کہا کہ نیب کے بارے میں ان کے اور ان کی جماعت کے ہزاروں تحفظات ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی جماعت اس کے سامنے پیش ہوتی رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پیپلز پارٹی کی قیادت تمام اپنے تمام تر تحفظات کے باوجود عدالتوں اور قانون کا احترام کرتی رہی ہے۔

اپنی والدہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ احتساب عدالتوں کو 'کینگرو' کورٹس قرار دیتی تھیں لیکن اس کے باوجود ان کے سامنے پیش ہوتی رہیں۔

انھوں نے کہا کہ نیب کا قانون کالا قانون ہے لیکن جب تک یہ قانون موجود ہے پیپلز پارٹی اس سے انحراف نہیں کرے گی کیونکہ پارٹی ہمیشہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی بات کرتی رہی ہے اور اسی پر یقین رکھتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption منظور پشتین پر وزیرستان میں فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کرنے کا الزام ہے

انھوں نے کہا کہ نیب پر حکومت دباؤ ڈال رہی ہے اور سندھ میں تو شوگر ملز کے کسی مالک کے بے نامی اکاونٹس سامنے آنے پر اس کے خلاف، نیب بھی متحرک ہو جاتی ایف آئی اے بھی کارروائی شروع کر دیتی ہے اور آئی ایس آئی بھی حرکت میں آجاتی ہے لیکن حکومت کے اپنے حامی شوگر ملز کے ملکان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔

نیب کے سامنے پیشی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان سے بیس منٹ تک سوال کیے گئے اور انھوں نے اس کے جوابات دیئے۔ انھوں نے کہ جو سوال کرنے والے تھے وہ اپنے سرکاری فرائض انجام دیے رہے تھے اور انھیں ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

انھوں نے کہا انھیں نیب کی طرف سے ایک سوالنامہ بھی جاری کیا گیا ہے جس کا وہ اپنے وکلاء کی مشاورت سے جواب دیں گے۔

اپنے خلاف نیب میں جاری مقدمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جس کمپنی کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں اس کا شیئر ہولڈر انھیں اس وقت بنایا گیا تھا کہ جب وہ ابھی سکول جاتے تھے۔ انھوں نے کہا ان کے والد آصف علی زرداری نے صدر کا حلف اٹھانے کے بعد خود کو اس کمپنی سے علیحدہ کر لیا اور ان کی جگہ وہ ڈائریکٹر بن گئے۔

بلاول نے کہا کہ انہوں نے کبھی بزنس نہیں کیا اور نہ ہی وہ کبھی کسی بزنس میں شامل ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو اس میں گھسیٹا گیا اور یہی بات سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک مرتبہ سپریم کورٹ میں کہی بھی تھی۔

بلاول بھٹو کی نیب کے سامنے پیشی کے موقع پر نیب کی عدالت کے باہر جمع ہونے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کے استعمال اور پی پی پی سے تعلق رکھنے والی قومی اسمبلی کی خواتین ارکان کی گرفتاری کی انھوں نے شدید الفاظ میں مذمت کی۔

انھوں نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں خواتین کی گرفتاری اور ان پر تشدد کیا جانا کیا مدینہ کی ریاست میں اس کا تصور کیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیسی ریاستِ مدینہ ہے۔

اسی بارے میں