’انڈیا کی نیبر ہوڈ فرسٹ پالیسی میں پاکستان شامل نہیں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو لوک سبھا کا چناؤ جیتنے پر نہ صرف مبارک باد دی تھی بلکہ خطے میں امن کے حصول کے لیے کام کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔

لیکن جب وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب کی بات آئی تو خبروں کے مطابق عمران خان کو اب تک اس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گی ہے جس کے بعد انڈین میڈیا میں یہ خبر زور و شور سے نشر کی جا رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بھی اس بارے میں بحث جاری ہے جس میں پاکستان اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے کو اس بارے میں طعنے دیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کی نریندر مودی کو فون پر مبارک باد

مودی کا انتخاب:’اچھی امید رکھیں مگر بدتر کے لیے تیار رہیں‘

عمران خان کے بیان سے نریندر مودی مشکل میں

’پاکستانی قوم کے لیے مودی کا پیغام‘

دوسری بار منتخب ہونے والے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریبِ حلف برداری میں بے آف بینگال ملٹی سیکٹرل ٹیکنیکل اینڈ اکانومک کوآپریشن (بمسٹیک) کے ارکان کو مدعو کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

واضح رہے کہ یہ ادارہ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والے سات ممالک انڈیا، بنگلہ دیش، میانمار، سری لنکا، تھائی لینڈ، نیپال اور بھوٹان پر مشتمل ہے جس کا قیام بینکاک میں ایک قرارداد کے تحت جون 1997 میں عمل میں آیا تھا۔

انڈین میڈیا میں نشر ہونے والی خبروں کے مطابق اس دعوت کا مقصد انڈین حکومت کی ’نیبر ہوڈ فرسٹ‘ یعنی پڑوسی پہلے کی پالیسی پر عمل کرنے پر مبنی ہے اور اس میں پاکستان واضح طور پر اب تک شامل نہیں ہے۔

حلف برداری کی تقریب اور دیگر مسائل

لیکن کیا حلف برداری کی تقریب میں شرکت اتنی اہم بات ہے؟ اور اگر ہے تو اس سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات پر ایسا کیا اثر پڑ سکتا ہے جو پہلے دیکھنے میں نہیں آیا؟

اس بارے میں پارلیمانی سیکریٹری برائے امورِ خارجہ عندلیب عباس نے حال ہی میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا ’حلف برداری ایک رسمی تقریب ہے جس میں شامل ہونے یا نہ ہونے سے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی بارے میں انڈین اخبار ہندو کی سفارتی امور کی ایڈیٹر سہاسنی حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’پاکستان اور انڈیا کے حالات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس بات پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ وزیرِ اعظم مودی نے وزیرِ اعظم خان کو دعوت نامہ نہیں بھیجا ہے۔‘

لیکن اس کے ساتھ انھوں نے کہا ’یہ فیصلہ پاکستان سے زیادہ سارک کے بارے میں ہے۔ انڈیا اس وقت اپنے پڑوسیوں کو اور خاص کر بمسٹیک کے ارکان ممالک کو ترجیح دینا چاہتا ہے جس کے نتیجے میں اگر انڈیا کی وزارتِ بیرونی امور کی لسٹ دیکھی جائے تو اس میں افغانستان اور مالدیپ کو بھی ڈراپ کیا گیا ہے۔‘

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اب بھی نمایاں ہے۔ اس کی وجہ 14 فروری 2019 میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والا خود کش حملہ ہے جس کے بعد سے دونوں ممالک کی جانب سے تلخ بیانات سامنے آتے رہتے ہیں اور جس کا اظہار وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے جیو ٹی وی کو دیے اپنے ایک انٹرویو میں بھی کیا۔

انھوں نے کہا ’مودی کی الیکشن مہم پاکستان کو برا بھلا کہنے میں گذری جس کے بعد یہ توقع رکھنا کہ وہ اچانک سے اپنا موقف بدل دیں گے یہ عقل مندی نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس سے بہتر ہے کو دونوں ممالک کے مابین مسئلہ کشمیر، سیاچن اور سر کریک تنازعات پر بات چیت کی غرض سے میٹنگ کی جائے تو یہ زیادہ اہم بات ہو گی بجائے ایک رسمی تقریب میں شریک ہونے کے۔‘

اس پر سہاسنی حیدر نے کہا ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان خراب تعلقات کو دیکھتے ہوئے حلف برداری کی تقریب میں عمران خان کو دعوت دینا اچھا عمل نہیں ہو گا بلکہ انتظار کرنا چاہیے اس وقت کا جب تک تعلقات صحیح طور سے بہتر نہ ہو جائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم شانگھائی کوآپریشن سمٹ (ایس سی او) میں ایک ساتھ شامل ہوں گے جس میں بات چیت کرنے کا بہتر موقع ہے۔

لیکن کچھ حلقے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ دعوت نہ دے کر مودی نے پاکستان کے بارے میں اپنی سوچ کو واضح کیا ہے۔

اس بارے میں سینئیر صحافی نسیم زہرہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک طرف تو مودی انڈیا میں اتحاد لانے کی بات کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف ان کے قول و فعل میں تضاد بھی پایا جاتا ہے۔ ان کے وزراء کی انتہا پسندانہ باتیں سب کے سامنے ہیں اور مسلمان دشمنی کے واقعات اب بھی عام ہیں۔ انھوں نے عمران خان کو نہ بلا کر اپنی چھوٹی سوچ کو مزید واضح کر دیا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’اگر جذبات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو لگتا یہی ہے کہ مودی کی اب بھی بالاکوٹ والی حکمتِ عملی ہے جس سے واضح ہے کہ یہ اب بھی جارحیت کی طرف مائل رہیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا ’اس وقت دنیا کے سامنے اتحاد اور ترقی کے بارے میں ایک بیان دیا جا رہا ہے جس پر عملدرآمد نہیں کیا جائے گا اور پہلے کی طرح کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو جاری رکھنا ہے جس پر جب پاکستان بات کرتا ہے تو انھیں (انڈیا کو) ناگوار گزرتا ہے۔ اسی کے ردعمل میں اس حلف برداری کی تقریب میں نہ بلاکر پاکستان کو دھتکارنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

اسی بارے میں