پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ: ’ساتھیوں کے آنے پر مطالبات کا فیصلہ کریں گے‘

پی ٹی ایم تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’پی ٹی ایم کی کوشش ہو گی کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اکٹھا کیا جائے تاکہ حکومت سے اپنے مطالبات منانے کے لیے ان پر دباؤ بڑھایا جائے‘

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلعے شمالی وزیرستان میں اتوار کو پاکستانی فوج کے ہاتھوں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کی ہلاکتوں کے خلاف تنظیم کا دھرنا میرانشاہ میں جاری ہے۔

بی بی سی سے سٹیلائٹ فون کے ذریعے بات کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس حکومتی جرگے کے لوگ آرہے ہیں تاہم انہوں نے اُن سے ابھی بات کرنے سے معذرت کی ہے۔ محسن داوڑ کے مطابق اُن کا اہم مطالبہ وزیرستان سے فوج کے جانے کا ہوگا۔

ان کا کہنا ہے ’باقی مطالبات تو بعد میں جب سارے ساتھی پہنچ جاتے ہیں، تب فیصلہ کریں گے، لیکن وزیرستان سے فوج کے جانے کا مطالبہ ضرور ہوگا‘۔

محسن داوڑ نے الزام لگایا کہ دوسرے شہروں سے اُن کے قافلوں کو دھرنے میں شرکت کے لیے نہیں آنے دیا جا رہا، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اُن کے ساتھ اگر پانچ کارکن بھی ہوں گے، تو دھرنا جاری رہے گا۔

ان کا کہنا ہے ’ابھی تو آس پاس کے گاؤں کے لوگ ہیں، لیکن باقی اضلاع سے بھی کارکن بہت جلد پہنچ جائیں گے۔‘

وزیرستان میں کرفیو کا ذکر کرتے ہوئے اُن کا الزام تھا کہ ’سرکاری اہلکاروں اور من پسند افراد کو جانے دے رہے ہیں، جبکہ عام لوگوں پر بنوں سے وزیرستان کے راستے اور وزیرستان کے اندر کے راستے سارے بند کیے ہوئے ہیں۔‘

ادھر اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے علاقے میں نافذ کرفیو میں نرمی کی گئی ہے تاہم شمالی وزیرستان کے صدر مقام پر جاری دھرنے میں شرکت کے لیے باہر سے آنے والے کارکنوں نے بھی الزام لگایا ہے کہ انھیں روکا جا رہا ہے اور گرفتار کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی ایم کے کارکنوں کی ہلاکت کا واقعہ اتوار کو خاڑکمر چیک پوسٹ پر فوجی اہلکاروں سے تصادم میں پیش آیا تھا اور اس واقعے میں پانچ فوجی اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تھے جبکہ اس کے بعد فوجی حکام نے ایم این اے علی وزیر کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

یہ پی ٹی ایم کیا ہے؟

محسن داوڑ کا دھرنے کا اعلان، علی وزیر کا جسمانی ریمانڈ

پی ٹی ایم کارکنوں کی ہلاکتیں، پارلیمانی کمیشن کا مطالبہ

ثنا اعجاز: ’جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں‘

ان ہلاکتوں کے خلاف تنظیم کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ نے پیر کو ایک ویڈیو پیغام میں دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔

پشاور میں پی ٹی ایم کے رہنما اور سابق کور کمیٹی کے رکن رحیم شاہ ایڈوکیٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ میرانشاہ میں محسن داوڑ کی سربراہی میں احتجاجی دھرنا دو دن سے جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ دھرنے میں شرکت کے لیے ملک بھر سے پی ٹی ایم کے کارکن قافلوں کی شکل میں میرانشاہ کی جانب راوں دواں ہیں تاہم انھوں نے الزام لگایا کہ کئی شہروں میں ان کے کارکنوں کو دھرنے میں شرکت سے روکنے کے لیے گرفتار کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی ایم کے احتجاج کے دوران گزشتہ تین دن میں کراچی سے لے کر بلوچستان تک کارکنوں کو بڑی تعداد میں گرفتار کیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کی انتظامیہ نے لوگوں کو میرانشاہ دھرنے میں شرکت سے روکنے کے لیے غیر مقامی افراد کے شمالی وزیرستان جانے پر پابندی لگا دی ہے تاہم اس سلسلے میں تاحال سرکاری سطح پر کچھ نہیں کہا گیا ہے اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔

تاہم پیر کو قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے ایک وفد کو شمالی وزیرستان جانے سے ضرور روکا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پی ٹی ایم نے اپریل میں بھی میران شاہ میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا تھا

اے این پی کے ذرائع کے مطابق وفد پارٹی کے سربراہ کی خصوصی ہدایت پر خاڑ کمر کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت کے لیے جا رہا تھا تاہم اس وفد کو ضلع کی حدود سیدگئی پوسٹ میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔

بعد میں اس وفد نے سڑک پر بیٹھ کر کچھ وقت کے لیے بطور احتجاج دھرنا بھی دیا تھا۔

شمالی وزیرستان میں ایک مقامی تنظیم داوڑ قومی جرگہ کے چئیرمین سمیع اللہ داوڑ کا کہنا ہے کہ خاڑکمر واقعے کے بعد اب پی ٹی ایم میرانشاہ میں ایک بڑے دھرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کی کوشش ہو گی کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اکھٹا کیا جائے تاکہ حکومت سے اپنے مطالبات منانے کے لیے ان پر دباؤ بڑھایا جائے۔

دریں انثا وزیرستان کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ پیر سے میرانشاہ اور آس پاس کے علاقوں میں کرفیو میں نرمی کی گئی ہے جس سے علاقے میں گاڑیوں کی آمد و رفت بحال ہو گئی ہے تاہم دتہ خیل اور بعض دور دراز علاقوں میں بدستور کرفیو نافذ ہے۔

علاقے سے رابطے میں مشکل

علاقے میں گذشتہ تین دنوں سے ٹیلی فون اور موبائل سروس بدستور معطل ہے جس کی وجہ سے معلومات کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ موجودہ حالات پر شمالی وزیرستان کی انتظامیہ کا موقف لینے کے لیے ان سے لگاتار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہو سکی۔

خیال رہے کہ تقریباً دو ماہ پہلے شمالی وزیرستان کی انتظامیہ نے آپریشن ضرب عضب کے خاتمے کے بعد علاقے کو ملک کے دوسرے شہریوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے شمالی وزیرستان میں غیر مقامی افراد کے جانے پر پابندی عائد تھی۔ تاہم فوجی آپریشن کے نتیجے میں امن کے قیام کے بعد یہ پابندی اٹھا لی گئی تھی جس سے رفتہ رفتہ خوف کی کیفیت ختم ہوتی جا رہی تھی، لیکن حالیہ کشیدگی کی وجہ سے علاقے میں تناؤ کی کیفیت ایک مرتبہ پھر بڑھنے کا امکان ہے۔

محسن داوڑ کا انٹرویو کرنے والا صحافی لاپتہ`

پشتو زبان کے سب سے بڑے ٹیلی وژن چینل خیبر نیوز کا کہنا ہے کہ ان کے ایک نمائندے کو بنوں شہر میں پولیس کی طرف سے گرفتار کیا گیا ہے، لیکن اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

خیبر نیوز کے انتظامیہ کے مطابق بنوں میں ادارے کے رپورٹر گوہر وزیر پیر کی شام پی ٹی ایم کے احتجاج کی کوریج کے بعد گھر جا رہے تھے کہ راستے میں پولیس نے گرفتار کر کے انھیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

تاہم پولیس کی جانب سے گوہر وزیر کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

لاپتہ ہونے والے صحافی کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ گوہر وزیر نے پیر کو ایم این اے محسن داوڑ کا ایک مفصل ویڈیو انٹرویو کیا تھا جو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شئیر کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں