سندھ کے سرداری نظام کی آڑ میں ’کسی اور ام رباب کے ساتھ ناانصافی نہ ہو‘

آُم رباب
Image caption یہ وہی اُم رباب ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیو کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں وہ انصاف دہندہ کو جھنجھوڑنے کے لیے ننگے پیر عدالت میں گئیں

ام رباب سرداری نظام کے خلاف اپنے والد کا مشن جاری رکھنا چاہتی ہیں، جس کے لیے وہ گذشتہ پندرہ ماہ سے انسداد دہشت گردی سے لے کر سپریم کورٹ تک کے دروازے کھٹکٹا چکی ہیں۔ ان کا مطالبہ صرف تین الفاظ پر مشتمل ہے ’مجھے انصاف چاہیے‘۔

یہ وہی اُم رباب ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیو کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں وہ انصاف دہندہ کو جھنجھوڑنے کے لیے ننگے پیر عدالت میں گئیں۔

اُم رباب کہتی ہے کہ ایسا کرنے کا ’میرا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ جنہیں احساس نہیں ہے یا وہ قاضی جو اندر بیٹھا ہے اس کے دل میں یہ رحم پیدا ہو کہ 15 ماہ یہ بچی صرف انصاف کے لیے دہائیاں دے رہی ہے‘۔

سندھ کی بہادر بیٹیوں کے بارے میں مزید پڑھیے

ویرو کوہلی: جبر کے نظام کی باغی

عمر کوٹ کی کرشنا قید سے پارلیمان تک

سہائی تالپور کے لیے قائدِ اعظم پولیس میڈل کی سفارش

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ام رباب کہتی ہیں کہ ’سندھ کے سرادری نظام کے خلاف کھڑی ہوں تاکہ جو نا انصافی میری ساتھ ہوئی کسی کے ساتھ نہ ہو‘

’سردار چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے زیرِ دست ہوں‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میں سرداروں اور وڈیروں کے خلاف کھڑی ہوئی ہوں اور ایک ہی مطالبہ ہے کہ میں انصاف چاہتی ہوں۔ اب وہاں اندر بیٹھے ہوئےقاضی پر منحصر ہے کہ عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں وہ کس قسم کا انصاف کر رہے ہیں۔‘

سندھ میں کے روایتی ماحول کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’’دیہی سندھ میں تقریباً یہی ہوتا ہے، سرداروں کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ لوگ ہمارے زیردست ہوں جیسے ہم چاہیں ویسی زندگی گذاریں اگر کوئی پڑھا لکھا بندہ ہو تو اسے یہ چیزیں پسند نہیں ہوتیں۔‘

اُم رباب کا کہنا تھا ’میرے والد کہتے تھے کہ قانون اور مذہب نے آزادانہ زندگی کے حقوق دیے ہیں۔ ان کی آواز پر چانڈیا برداری اکٹھی ہو رہی تھی یہ بات سرداروں سے برداشت نہیں ہوئی۔‘

قتل ہوئے کیوں؟

ام رباب کا تعلق سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل میھڑ سے ہے۔ گذشتہ سال 17 جنوری کو میھڑ شہر میں ڈی ایس پی پولیس کے دفتر کے سامنے ان کے والد مختیار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا۔

سکھر میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں حالیہ سماعت کے موقعے پر ام رباب نے مقدمے میں تاخیر پر خاموش احتجاج ریکارڈ کرایا، جس میں وہ ننگے پاؤں عدالت میں گئیں۔ سوشل میڈیا پر یہ تصویر بڑے پیمانے پر شیئر ہوئی اور لوگوں نے ام رباب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

میھڑ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا نشانہ مختیار چانڈیو تھے جس کی زد میں ان کے والد اور بھائی بھی آگئے۔ ام رباب کا کہنا ہے کہ قتل کی وجہ یہ بنی تھی کہ ان کے والد نے تمندار کاؤنسل کے نام سے ایک کمیٹی بنائی تھی جو سرداری نظام کے خلاف تھی۔

Image caption رباب کے والد مختیار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا

اس تہرے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت دائر ہے جس میں ام رباب کے چچا مدعی ہیں جبکہ بھائی مقدمے کی پیروی کر رہے تھے لیکن ام رباب جو خود قانون کی طالبہ ہیں انھوں نے پیروی کی ذمہ داری سنبھال لی اور اس سے پہلے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو اپنی طرف متوجہ کرانے میں کامیاب ہوئیں۔

ام رباب کے مطابق چار ماہ ہوگئے تھے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہورہی تھی میں نے یہ سوچا کہ ہمیں تو انصاف چاہیے میں چیف جسٹس کی گاڑی کے سامنے آگئی کیونکہ میں بہت مجبور تھی اور کوئی راستہ نہیں تھا۔

’مجھے یہ بھی علم تھا کہ پولیس گارڈ مجھے شوٹ بھی کرسکتے تھے کچھ بھی ہوسکتا ہے پر میں نے جان کی پرواہ نہیں کی صرف اس لیے کہ میں انصاف حاصل کر سکوں۔‘

با اثر ملزمان، سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس بھی بے سُود

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ام رباب کی فریاد کا دو بار از خود نوٹس لیا، ام رباب کے مطابق سکھر میں چیف جسٹس نے عوام کے سامنے اعلان کیا تھا کہ میں انصاف دلاؤں گا اور دو ماہ میں مقدمے کا فیصلہ سنادیا جائے گا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ پھر جنوری میں تحریری طور پر حکم جاری کیا کہ یہ مقدمہ تین ماہ کے اندر نمٹایا جائے کیونکہ اس میں انسداد دہشت گردی کے دفعات لگی ہوئی ہیں اور قانون کے مطابق یہ مقدمہ تین سے چھ ماہ میں مکمل ہونا چاہیے لیکن قانون پر یہاں کوئی عمل نہیں ہوتا۔

Image caption ام رباب کہتی ہیں کہ انہیں عدالتوں پر اعتماد تو ہے لیکن ملزمان اتنے بااثر ہیں کہ مقدمے میں تاخیر کراتے آرہے ہیں

ام رباب کہتی ہیں کہ انہیں عدالتوں پر اعتماد تو ہے لیکن ملزمان اتنے بااثر ہیں کہ مقدمے میں تاخیر کراتے آرہے ہیں وہ خود قانون کی طالبہ ہیں ’اگر آج مجھے انصاف نہیں مل رہا تھا تو کل میں کسی اور کو کیسے انصاف دلاؤں گی۔‘

ام رباب کے دادا یونین کونسل بلیدائی تحصیل میھڑ کے چیئرمین تھے چچا، ضلع کاؤنسل کے رکن تھےان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ ام رباب کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد ملزمان کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے وہ بلاول بھٹو سے یہ سوال کرنا چاہتی ہیں کہ آپ جمہوریت میں اعتماد رکھتے ہیں تو پھر ہمیں کیوں سرداری نظام میں گھسیٹا جارہا ہے۔

’مجھے پتہ ہے کہ میرے والد، دادا اور چچا تو واپس نہیں آسکتے، پر یہ جو سندھ میں جاگیردارانہ اور سرداری نظام ہے۔ یہ وڈیرے جو بدمعاشی کرتے ہیں میں ان کے خلاف کھڑی ہوئی ہوں تاکہ آج میرے ساتھ یہ ناانصافی ہوئی ہے کل کسی اور ام رباب کے ساتھ اتنی ناانصافی نہ ہو اس سرداری نظام کی آڑ میں۔ میں اس نظام کے خلاف کھڑی ہوئی ہوں۔‘

ام رباب کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی پیروی کی وجہ سے ان کی ذاتی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے وہ ریگولر کلاسز بھی نہیں لے پاتیں جبکہ زندگی کو بھی خطرات لاحق ہیں جس کے لیے سپریم کورٹ نے سکیورٹی دے رکھی ہے۔

اسی بارے میں