’ایچ آئی وی پازیٹیو‘ ہونے پر خاتون کا مبینہ قتل

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈکھن تھانے پر زرینہ کے بھائی غلام اکبر کی مدعیت میں قتل کے الزام میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور پولیس نے ملزم بہادر کو گرفتار کرلیا ہے۔ فائل فوٹو

سندھ کے ضلع شکارپور میں ایک ایچ آئی وی پازیٹو خاتون کی درخت پر لٹکی ہوئی لاش ملی ہے جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو گلا دبا کر ہلاک کیا گیا ہے جبکہ شوہر کا دعویٰ ہے کہ اس نے خودکشی کی ہے۔

یہ واقعہ منگل کو رتوڈیرو کے قریب واقعے قصبے ڈکھن کے گاوں رند میں پیش آیا ہے۔ واضح رہے کہ رتوڈیرو میں ان دنوں ایچ آئی وی وائرس وبائی شکل اختیار کرچکا ہے۔

ڈکھن تھانے کے ایس ایچ او وحید منگی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اطلاع ملی کے گاؤں کے قریب درخت میں عورت کی لاش لٹکی ہوئی ہے، پولیس جب وہاں پہنچی تو دیکھا کہ لاش پھندے میں پھنسی ہوئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خاتون کو پہلے گلا دبا کر ہلاک کیا گیا جس کے بعد لاش درخت پر لٹکا دی گئی تاہم شوہر کا کہنا ہے کہ خاتون نے ایچ آئی وی سے تنگ آکر خودکشی کی۔

ایس ایچ و کے مطابق ایچ آئی وی ظاہر ہونے کے بعد مسمات زرینہ کو شوہر بہادر رند نے کہا کہ وہ گھر چھوڑ کر اپنے والدین کی طرف چلی جائے تاہم زرینہ نے بچے چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

آٹو ڈس ایبل سرنج سے ایڈز اور ہیپاٹائٹس سے بچاؤ ممکن

رتوڈیرو میں ایچ آئی وی وائرس کیسے پھیلا؟

ایڈز: پاکستان میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار

ڈکھن تھانے پر زرینہ کے بھائی غلام اکبر کی مدعیت میں قتل کے الزام میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور پولیس نے ملزم بہادر کو گرفتار کرلیا ہے۔

زرینہ کے بھائی غلام اکبر کا کہنا ہے کہ ان کی بہن کا علاج جاری تھا اور ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ یہ ختم ہوجائیگی لیکن اس کے باوجود اس پر تشدد کیا جاتا تھا۔

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سکندر میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ رتوڈیرو اور لاڑکانہ کے مراکز میں ساڑے 24 ہزار افراد کی بلڈ سکریننگ کی گئی ہے، جن میں سے 712 افراد ایچ آئی وی پازیٹیو آئے ہیں اور ان میں 70 فیصد بچے ہیں۔ ڈاکٹر سکندر کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ سرنجوں کا متعدد بار استعمال ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی ایک خصوصی ٹیم سندھ پہنچ چکی ہے، کراچی میں اس ٹیم نے صوبائی وزیر صحت عذار پیچوہو اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں جمعرات کو یہ ٹیم رتو ڈیرو اور لاڑکانہ ہسپتالوں کا دورہ کرے گی۔

ڈبلیو ایچ او کے اعلامیے کے مطابق اس ٹیم کی بنیادی مقصد ایچ آئی وی کے آوٹ بریک کے بنیادی ذریعے کا پتہ لگانا اور اسے قابو میں کرنا ہے۔ یہ ٹیم ایچ آئی وی ٹیسٹ، متاثرہ بچوں کی علاج معالجے اور فیلمی کاؤنسلنگ میں مدد کرے گی۔

یاد رہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی ادویات گلوبل فنڈ سے مفت فراہم کی جاتی ہیں، ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ٹیم اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ ٹیسٹ کٹس اور ادویات دستیاب ہوں۔

دوسری جانب پولیس کی جے آئی ٹی نے ڈاکٹر مظفر گھانگھرو کو ایچ آئی وی وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے، ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ کی سربراہی میں اس جے آئی ٹی میں دو ڈاکٹر بھی شامل تھے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر مظفر نے یہ اقدام دانستہ طور پر نہیں کیا ہے اور انھیں یہ خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ ایچ آئی وی پازیٹیو ہے تاہم متعدد بار سرنج کے استعمال کی پریکٹس کی وجہ سے اس وائرس کا پھیلاؤ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر مظفر گھانگھرو سرکاری ڈاکٹر ہیں وہ رتودیرو میں نجی پریکٹس کرتے تھے، وہ علاقے میں بچوں کے امراض کے ماہر سمجھے جاتے تھے اور روازنہ ان کے پاس دو سو کے قریب مریضوں کی او پی ڈی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں