اختر مینگل اور سرفراز بگٹی کیوں لڑ رہے ہیں؟

اختر مینگل تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سحری کی نیت کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر علی الصبح بلوچستان کے دو سیاسی ’ہیوی ویٹ‘ بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر اختر مینگل اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر سرفراز بگٹی کے درمیان ہونے والی ٹوئٹر جنگ کے تماش بین بنے رہے۔

جو لوگ یہ بحث ختم ہونے کے بعد جاگے، وہ پرانی ٹویٹس ڈھونڈتے رہے۔

یہ بھی پڑھیے

’اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان کو صرف ایک کالونی سمجھا ہے‘

سرفراز بگٹی کے خلاف مارخور کو مارنے کا مقدمہ درج

یہ تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا ہو گا کہ دو بلوچ لیڈر ٹوئٹر پر آمنے سامنے آ گئے اور ایک دوسرے کو ’ٹرول‘ کرتے رہے۔ بات اس نہج تک پہنچ گئی کہ اختر مینگل نے سرفراز بگٹی کو بلاک ہی کر دیا۔

بات شروع اس وقت ہوئی جب سرفراز بگٹی نے اختر مینگل کی بلوچستان کے ایک علاقے میں کی گئی تقریر کی پرانی ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی، جس میں وہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بلوچستان سے باہر رہنے کی تلقین کر رہے ہیں۔

اس ویڈیو کے نیچے سرفراز بگٹی نے لکھا: ’تاریخ، ثبوت سمیت: سردار صاحب، پنجابیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا اظہار آپ خود کریں گے یا میں کروں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@paksarfrazbugti

جس پر اختر مینگل نے جواباً لکھا کہ ’آپ جیسا شخص مجھے تاریخ نہیں سکھا سکتا کیونکہ کچھ حقائق اتنے تلخ ہیں کہ آپ اس کو سننے کی ہمّت نہیں رکھتے۔‘

دونوں کے درمیان اسی قسم کی چپقلش چلتی رہی جس میں اختر مینگل سرفراز بگٹی سے پوچھتے نظر آئے کہ ’باقی باتوں کے علاوہ، پہلے یہ بتائیں کے آپ دونوں میں سے کون وفاقی وزیر کے لیے چنا گیا ہے؟ آپ یا کاکڑ؟‘

جو باتیں اب تک ایک بحث کی شکل میں اور کچھ حد تک مذاق کے زمرے میں لی جا رہی تھیں، وہ اس وقت تلخی میں بدل گئیں جب سرفراز بگٹی نے اختر مینگل کے خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@sakhtarmengal

اس سے قبل سرفراز بگٹی نے اختر مینگل کی قومی اسمبلی کی 28 مئی کی تقریر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس میں اختر مینگل نے پاکستان میں غدّار قرار دیے جانے والے ارکانِ اسمبلی اور سیاستدانوں کی ایک طویل فہرست بیان کی تھی۔

اختر مینگل کے خاندان کے حوالے سے سرفراز بگٹی کی ٹویٹ کا، جس کو انھوں نے بعد میں ڈیلیٹ کر دیا، براِہ راست تعلق اختر مینگل کی بیٹی کی شادی سے ہے۔ اختر مینگل کی پارلیمانی سیاست کے مخالف لوگ کہتے ہیں کہ کئی سالوں تک لسانی لڑائی لڑنے کے بعد انھوں نے اپنی بیٹی کی شادی پنجابی بولنے والے خاندان میں کی۔

حقیقت کچھ یوں ہے کہ ان کی بیٹی کی شادی دراصل جنوبی پنجاب کے سرائیکی بولنے والے خاندان میں ہوئی ہے۔ ملک شہزاد اعوان (دستاویزی نام ملک شمشیر اعوان) اختر مینگل کے داماد ہیں جن کے والد کا تعلق پاکستان تحریکِ انصاف سے ہے۔ اپنے اوپر کی گئی اس تنقید کی اختر مینگل مذمت کرتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@sakhtarmengal

اس سے پہلے بھی ان پر 2018 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر کوئٹہ کے اسماعیل گجر کو ٹکٹ دینے پر اعتراضات کیے گئے۔ جس کے بعد سے اب تک اختر مینگل مختلف تقاریر میں دہرا چکے ہیں کہ ان کی پارٹی تمام زبانیں بولنے والوں کے لیے ہے اور اگر ان کا کوئی لسانی ایجنڈا ہوتا تو وہ صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے اسماعیل گجر کو کوئٹہ سے اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم پر کیوں لڑنے دیتے؟

اس کے علاوہ بھی کئی بار اختر مینگل کو ان کے بھائی جاوید مینگل کی علیحدگی پسند تنظیم لشکرِ بلوچستان سے ’تعلق‘ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس پر اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کے فیصلوں کو ان کی سیاست سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ جاوید مینگل اختر مینگل کے بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ نواب خیر بخش مرّی کے داماد بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

جب اختر مینگل نے ان کو بلاک کر دیا تو سرفراز بگٹی نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’میں ایک عزت دار بگٹی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جس کا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے۔ جب میں نے اختر مینگل کی وڈیو شئیر کی تو انھوں نے مجھ پر ذاتی حملہ شروع کر دیا۔ جب میں نے بھی اسی انداز میں جواب دیا تو انھون نے مجھے بلاک کر دیا۔‘

اسی ٹویٹ پر کمنٹ کر کے انھوں نے کہا کہ اگر یہ وڈیو نقلی ثابت ہوئی تو وہ نہ صرف مینگل صاحب سے معافی مانگیں گے بلکہ ٹوئٹر چھوڑ دیں گے۔ ’ان کا خاندان میرا خاندان ہے اور بلوچ ہونے کے ناتے میں ان کے خاندان کے لیے جان بھی قربان کرنے کو تیار ہوں۔‘

اس سب میں یہ بات قابلِ غور ہے کہ یہ ساری تنقید اختر مینگل کی قومی اسمبلی میں تقریر کے ٹھیک ایک روز بعد دوبارہ سے منظرِ عام پر آئی ہے۔ سرفراز بگٹی کے ساتھ اختر مینگل کی ٹوئٹر لڑائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب سرفراز بگٹی اختر مینگل کی بلاک لسٹ میں شامل ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اسی بارے میں