’صدارتی ریفرینس عدلیہ پر براہِ راست حملہ ہیں‘، سینیٹ میں مذمتی قرارداد منظور

راجہ ظفر الحق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سینیٹ میں قرارداد قائد حزبِ اختلاف راجہ ظفر الحق کی طرف سے پیش کی گئی

پاکستان کے ایوانِ بالا میں صدرِ پاکستان کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے دو ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرینس بھیجے جانے کے خلاف قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔

صدرِ پاکستان نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف چند دن قبل ریفرینس بھیجے ہیں۔ ان ججوں پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے بیرون ملک اثاثوں کو انکم ٹیکس کے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا۔

ان صدارتی ریفرنسوں کی سماعت 14 جون کو ہو گی اور پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل ابتدائی سماعت کرے گی۔

جمعے کو سینیٹ میں حزبِ مخالف کی جماعتوں کی طرف سے مذمتی قرارداد پیش کی گئی۔ حکومتی بینچوں نے اس قرارداد کی مخالفت کی تاہم یہ کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی۔

سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف راجہ ظفر الحق کی طرف سے پیش کی جانے والی اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج کریم خان آغا کے خلاف صدارتی ریفرنسز خفیہ انداز میں دائر کیے گئے اور ان پر شدید نتقید کی جا رہی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ خفیہ انداز میں ریفرنس دائر کرنے سے اس شبہے کو تقویت ملتی ہے کہ اس ریفرنس کا تعلق سپریم کورٹ کے معزز جج کے حالیہ فیصلوں سے ہے۔

خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مذہبی تنظیم تحریکِ لبیک کی طرف سے فیض آباد دھرنے سے متعلق فیصلہ تحریر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اپنے خلاف ریفرنس پر جسٹس فائز عیسیٰ کا صدر کے نام خط

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ مخالف قرارداد مسترد

جسٹس فائز عیسیٰ کی تقرری کے خلاف دائر درخواست خارج

اس قرارداد میں یہ کہا گیا کہ اس طرح کے ریفرنس عدلیہ پر براہ راست حملہ ہیں اور ایوان ان ججز کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ قرارداد میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ان ریفرنسوں کو واپں لے۔

سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز کا کہنا ہے کہ اس قرارداد کو پیش کرنے سے پہلے حکومتی بینچوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ واضح رہے کہ سینیٹ میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب مخالف کی جماعتوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے ان ججز کے خلاف صدارتی ریفرنس واپس لے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کی عدالتی تاریخ میں سپریم جوڈیشل کونسل نے صرف دو ججز کے خلاف کارروائی کی ہے

صدارتی ریفرنس

صدر کی طرف سے بھجوائے گئے ان ریفرنسوں میں ان دونوں ججوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے اس ضمن میں اٹارنی جنرل کو نوٹسں جاری کر دیا ہے۔ اٹارنی جنرل ان صدارتی ریفرنسوں میں پراسیکیوٹر جنرل کا کردار ادا کریں گے اور اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ان کیمرہ ہو گی۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ایک خط بھی لکھا تھا جس میں صدر مملکت سے کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف بھیجے گئے ریفرنس کی کاپی انھیں فراہم کی جائے۔

واضح رہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہونے کی وجہ سے ایڈشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین جی ابراہیم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

پاکستان بار کونسل کا رد عمل

دوسری طرف اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان بار کونسل نے اپنا ہنگامی اجلاس 12 جون کو طلب کیا ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف دائر کیے جانے والے ریفرنس پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان بار کونسل اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا احتساب کرنے کے حق میں ہیں لیکن اعلیٰ عدلیہ کے ایک دو ججوں کو ٹارگٹ کر کے ان کا احتساب کرنا کسی طور پر بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan
Image caption سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ایک خط بھی لکھا ہے

انھوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں بدعنوان اور نااہل ججوں کی بھرمار ہے جس کی نشاندہی پاکستان بار کونسل کرے گی۔ امجد شاہ کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں اعلیٰ عدلیہ میں تعینات ایسے ججوں کی ایک فہرست تیار کی جا رہی ہے جو پاکستان کے چیف جسٹس کو پیش کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جو فیصلہ تحریر کیا ہے اس سے حکمراں جماعت ان کے خلاف بغض رکھتی ہے اور اس صدارتی ریفرنس کی بنیاد بھی یہی بغض ہے۔ وائس چیئرمین کا کہنا ہے کہ 14 جون کو ان دونوں ججوں کے خلاف ان صدارتی ریفرنسوں کی ابتدائی سماعت ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ اگر ان ریفرنسوں کو جاری رکھنے کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوا تو پھر پاکستان بار کونسل وکلا کی دیگر تنظیموں کے ساتھ مشاورت کر کے اپنا لائحہ عمل تیار کریں گے۔

اس سے پہلے ماضی قریب میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف فوج اور اس کے خفیہ اداروں کے خلاف بیان دینے پر مس کنڈکٹ کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا تھا اور محض دو تاریخوں میں ہی ان کے خلاف فیصلہ دے کر انھیں جج کے منصب سے فارغ کر دیا گیا۔

شوکت صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس کو ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔ شوکت صدیقی کے خلاف فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا تھا جو اس وقت پاکستان کے چیف جسٹس ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں