جاسوسی کے جرم میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو عمر قید اور بریگیڈیئر راجہ رضوان کو سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ Sebastian Widmann

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دو فوجی اور ایک سول افسر پر جاسوسی کا الزام ثابت ہونے پر انھیں دی گئی قید اور موت کی سزاؤں کی توثیق کی ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق سزا پانے والے افسران میں ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال، ایک سابق بریگیڈیئر راجہ رضوان جبکہ ایک سول افسر وسیم اکرم شامل ہیں۔

بیان کے مطابق یہ افسران غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کو حساس معلومات فراہم کرنے میں ملوث تھے، ان پر جاسوسی کا الزام ثابت ہوا ہے جس کے بعد انہیں سزائیں دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

میجر جنرل آصف غفور اور مہاتما گاندھی

’انڈین طیاروں کا ملبہ زمین پر سب نے دیکھا‘

نقیب کے والد جنرل باجوہ کے وعدے کی تکمیل کے منتظر

انڈیا کےخلائی راز آئی ایس آئی کو بیچنے کا جعلی پلاٹ

واضح رہے کہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ جبکہ سابق بریگیڈیئر راجہ رضوان اور ڈاکٹر وسیم اکرم کو جو کہ ایک حساس ادارے میں بطور انجینیئر تعینات تھے، موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

ان فوجی افسران کے خلاف جاسوسی کے الزام میں کارروائی کی خبریں سب سے پہلے رواں برس فروری میں صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی تھیں جس کے بعد پاکستانی فوج کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان تینوں افسران کے خلاف فیلڈ کورٹ مارشل کی کارروائی جاری ہے۔

سزا پانے والے فوجی افسران کون ہیں؟

لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال اس وقت فوج کا حصہ تھے جب جنرل اشفاق پرویز کیانی آرمی چیف تھے۔ اپنے فوجی کیریئر کے دوران انھوں نے بطور بریگیڈیر ٹرپل ون بریگیڈ کمانڈ کی تھی۔

بطور میجر جنرل وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز جیسے نہایت اہم عہدے پر تعینات رہے ہیں۔ ملک بھر میں ہونے والے فوجی آپریشنز کی منصوبہ بندی فوج کے اسی ڈائریکٹوریٹ کی ذمہ داری ہے۔

انھوں نے بطور لیفٹیننٹ جنرل بہاولپور کور کی کمان کی جبکہ سٹاف اپائنٹمنٹ میں وہ ایڈجوٹینٹ جنرل تعینات رہے۔ یہی فوج کا وہ شعبہ ہے جو فوج میں ڈسپلن اور احتساب کا عمل برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوجی قوانین کے مطابق سزا کا تعین کرتا ہے۔

انھیں جاسوسی کے الزام میں چودہ سال قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔

دوسری جانب سابق بریگیڈیئر راجہ رضوان بریگیڈ کی کمان کے علاوہ جرمنی میں پاکستان کے دفاعی اتاشی تعینات رہ چکے ہیں۔ انہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ راجہ رضوان علی حیدر 10 اکتوبر 2018 کو اسلام آباد کے علاقے جی 10 سے لاپتہ ہوئے تھے اور ان کے اہلخانہ نے اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔

عدالت کے استفسار پر وزارتِ دفاع کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ مذکورہ سابق فوجی افسر فوج کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی جاری ہے۔

’آفیشل سیکرٹ ایکٹ‘

واضح رہے کہ ملک میں کوئی بھی آئینی عہدہ، چاہے وہ فوجی ہو یا سول، رکھنے کی صورت میں متعلقہ افسر کو ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ‘ پر دستخط کرنا ہوتے ہیں، جس کے تحت وہ عمر بھر کے لیے پابند ہو جاتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی خفیہ معلومات کسی بھی مرحلے پر کسی سے بھی شیئر نہیں کر سکتے۔

پاکستانی فوج میں مینوئل آف پاکستان ملٹری لا کے مطابق جاسوسی کی سزا موت یا عمر قید ہے۔ سزا کا تعین فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کرتا ہے، تاہم سزا کا تعین جرم کی نوعیت پر بھی منحصر ہے۔

فوج میں ایڈجوٹینٹ جنرل کے فرائض انجام دینے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے بی بی سی کو بتایا کہ 'بعض اوقات فوجی کا کردار براہ راست نہیں ہوتا، وہ انجانے میں معلومات شیئر کرتا ہے، معاون کے طور پر کردار ادا کر سکتا ہے، تو ایسی صورت میں سزا کچھ کم ہو سکتی ہے۔

لیکن اگر وہ براہِ راست، جانتے بوجھتے حساس معلومات کے تبادلے اور ملک کے خلاف جاسوسی میں ملوث پایا جائے تو اس کی سزا موت یا عمر قید ہی ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ فوج کے اندر احتساب کا نظام نہایت مضبوط ہے اور 'فوج کی بقا اسی نظام کی مضبوطی پر منحصر ہے، احتساب میں رعایت نہیں برتی جاتی۔'

خیال رہے کہ فوج میں حساس عہدوں پر تعینات تمام اہلکاروں کی ملک کی خفیہ ایجنسیاں باقاعدہ نگرانی کرتی ہیں اور جنرل (ر) امجد شعیب کے مطابق کسی بھی شک و شبے کی صورت میں ایکشن لے لیا جاتا ہے۔'

تاہم ان کا کہنا ہے کہ جاسوسی جیسے واقعات فوج میں نہایت کم ہوتے ہیں اور عام طور پر فوج میں افسران یا جوانوں کو سزا دینے سے متعلق خبریں منظر عام پر نہیں آتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں