کوئٹہ میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ ناکام، حملہ آور ہلاک

Image caption حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں حملہ آور ہلاک ہوا تاہم کوئی اور جانی نقصان نہیں ہوا۔

کوئٹہ میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے شہر کی ناصر العزا نامی امام بارگاہ میں ایک خودکش حملہ آور کے داخل ہونے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں حملہ آور ہلاک ہوا تاہم کوئی اور جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس واقعے میں دو پولیس کانسٹیل زخمی ہوئے ہیں جنھیں سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’دروازے بند نہ کرو نجانے کب میرا بیٹا آ جائے‘

ہزارہ احتجاج: ’حکومت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں‘

بلوچستان: خودکش دھماکے اور بم حملے میں 21 افراد ہلاک

’ایک ہی چیز بار بار ہو تو لوگ جینا سیکھ لیتے ہیں‘

کوئٹہ: ’فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ‘، فائرنگ سے تین افراد ہلاک

حکام کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق دو پولیس کانسٹیبلز کے روکنے پر حملہ آور نے دستی بم کا استعمال کیا۔

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور زخمی ہوا جو بعدازاں ہلاک ہوگیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ حملہ آور اپنی خودکش جیکٹ کا استعمال نہ کر سکا اور اسے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ امام بارہ گاہ ناصرالعزا میکانگی روڈ پر واقعہ ہے۔ ڈی آئی جی چیمہ نے بتایا کہ کوئٹہ شہر میں 2 خود کش حملہ آوروں کی آمد کی اطلاع پولیس کے پاس پہلے ہی تھی اور اسے سلسلے میں شہر کی امام بارگاہوں پر مقامی انتظامیہ نے سخت سیکیورٹی اقدامات کیے ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ کوئٹہ شہر میں ہزارہ قبیلے کے افراد پر حملوں کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ ہزارہ قبیلے کے افراد میں اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔

گذشتہ برس نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سنہ 2001 سے 2017 تک 16 سال کے دوران ایسے حملوں میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے 525 افراد ہلاک اور سات سو سے زائد زخمی ہوئے۔

اسی بارے میں