کیا عمران خان نے ٹیکس دینے والوں کے حوالے سے غلط اعداد و شمار بتائے ہیں؟

ٹیکس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ملک میں سالانہ ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی کل تعداد تقریباً 19 لاکھ ہے

پاکستان میں عمومی تاثر یہی ہے کہ ملک میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ دو روز قبل قوم کے نام اپنے ایک ’اہم‘ پیغام میں وزیرِ اعظم عمران خان نے اس عمومی تاثر کو تقویت بخشتے ہوئے عوام کو آگاہ کیا کہ 22 کروڑ پاکستانیوں میں سے صرف ایک فیصد افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

عمران خان کے مطابق درحقیقت یہ ایک فیصد ٹیکس دینے والے 22 کروڑ پاکستانی عوام کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

اس بیان کو سن کر عام پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور کلبلایا ہو گا کہ روزانہ کی بنیاد پر جو ٹیکس وہ پیٹرول، بجلی، گیس، موبائل فون کارڈ، الیکٹرانکس کی مصنوعات، الغرض ہر طرح کی اشیائے ضروریہ پر ادا کرتے ہیں وہ کس کھاتے میں جا رہا ہے؟

وہ یہ بھی لازماً سوچ رہے ہوں گے لیوی ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کسٹم ڈیوٹی سمیت درجنوں دیگر ٹیکس جن سے ان کا روزانہ واسطہ پڑتا ہے وہ درحقیقت کیا ہیں؟ کیا یہ وہ ٹیکس نہیں جن کا ذکر وزیرِ اعظم کر رہے تھے؟

یہ بھی پڑھیے!

پی ٹی آئی کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں نیا کیا ہے؟

موبائل فون کارڈز پر ٹیکس کی بحالی سے صارفین متاثر

’ٹیکس لگائیں لیکن گناہ اور ثواب کا نام تو نہ دیں'

پاکستان میں ٹیکسوں کی مختلف درجہ بندی ہے جن میں ڈائریکٹ ٹیکس (بلاواسطہ ٹیکس) اور انڈائریکٹ ٹیکس (بلواسطہ ٹیکس) کا تذکرہ ہم عام سنتے ہیں۔

ڈائریکٹ ٹیکس کون سے ہیں؟

پاکستان میں ڈائریکٹ ٹیکسز میں آمدن پر لگنے والا ٹیکس، صوبائی زرعی ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس شامل ہیں۔

آمدنی ٹیکس یعنی انکم ٹیکس عموماً تنخواہ دار طبقہ اور کاروباری طبقہ دیتا ہے۔

آمدنی ٹیکس کے حوالے سے حکومت نے عوام کو سہولت دینے کے لیے سالانہ آمدنی کے حساب سے درجہ بندی کر رکھی ہے جس میں سالانہ چار لاکھ روپے تک کمانے والے افراد اس ٹیکس سے مستثیٰ ہیں۔

جبکہ چار لاکھ سے آٹھ لاکھ روپے سالانہ کمانے والے افراد محض ایک ہزار ٹیکس دینے کے پابند ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قوم کے نام ایک پیغام میں وزیراعظم کا کہنا تھا کے پاکستان میں ٹیکس دینے والے صرف ایک فیصد لوگ 22 کروڑ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں

جبکہ آٹھ لاکھ سے بارہ لاکھ سالانہ آمدنی والے افراد پر دو ہزار روپے آمدنی ٹیکس اور اس سے زیادہ کمانے والوں پر آمدنی کے حساب سے بالترتیب 15 فیصد، 20 فیصد اور 25 فیصد تک ٹیکس لاگو کیا جاتا ہے۔

تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس ان کے ادارے، جہاں وہ نوکری کر رہے ہوتے ہیں، خود ہی کاٹ لیتے ہیں جنھیں ٹیکس ایٹ سورس کہا جاتا ہے۔

کاروباری افراد جن کی سالانہ آمدن 12 لاکھ تک ہے، ان کے لیے ٹیکس کی شرح وہی ہے جو تنخواہ دار طبقے کی لیے ہے، جبکہ 12 لاکھ سے 24 لاکھ سالانہ آمدنی والے افراد پر پانچ فیصد ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔

اس کی زیادہ سے زیادہ شرح 29 فیصد ہے جو 50 لاکھ سالانہ کمانے والے افراد پر لاگو ہوتی ہے۔

کاروباری افراد سے یہ ٹیکس تب لیا جاتا ہے اگر وہ ایف بی آر میں اپنے سالانہ گوشوارے جمع کرواتے ہوں، ورنہ ان کا شمار ان پاکستانیوں میں ہوتا ہے جو ٹیکس ادا نہیں کرتے۔

پراپرٹی ٹیکس کے حوالے سے بھی حکومت نے مختلف درجہ بندیاں کر رکھی ہیں اور وفاقی اور صوبائی سطح پر ان کی شرح مختلف ہے۔

پراپرٹی کی نوعیت پر بھی مختلف شرح عائد ہوتی ہے۔ اگر پراپرٹی ٹیکس کو آسان الفاظ میں بیان کیا جائے تو اگر آپ کو اپنی پراپرٹی سے حاصل ہونے والی آمدن دو لاکھ روپے تک ہے تو آپ ٹیکس سے مستثیٰ ہیں جبکہ لاگو ہونے والی پراپرٹی ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 25 فیصد ہے۔

اسی طرح صوبائی زرعی ٹیکس پر بھی مختلف درجہ بندیوں اور ہر صوبے کے لحاظ سے عائد ٹیکس کی شرح لاگو ہوتی ہے۔

انڈائریکٹ ٹیکس کون سے ہیں؟

انڈائریکٹ ٹیکسز یا بلواسطہ ٹیکس وہ ہیں جو تقریباً ہر پاکستانی ادا کرتا ہے اور حکومت مختلف ضروریات زندگی کی اشیا پر ان ٹیکسز کا اطلاق کر کے عوام کے جیب پر بوجھ ڈالتی ہے۔

ان ٹیکسوں میں عام فہم جنرل سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس آن سروسز، کسٹم ڈیوٹی اور متعدد لیویز ٹیکس شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سالانہ چار لاکھ روپے تک کمانے والے تنخواہ دار طبقہ آمدنی پر لگنے والے ٹیکس سے مستثیٰ ہے

ایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر حامد عتیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں لاگو سیلز ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 17 فیصد ہے، جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی عمومی شرح 10 فیصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی تمام اشیا ہر نہیں بلکہ مخصوص اشیا پر لاگو ہوتی ہے مثلاً سگریٹ وغیرہ پر۔

اس کے بعد ایک اور ٹیکس سیلز ٹیکس آن سروسز ہے جو صوبائی سطح پر نافذ کیا جاتا ہے اور اس کی شرح کا تعین بھی صوبے کرتے ہیں مگر اس ٹیکس کی عمومی شرح 16 فیصد ہے۔

کسٹم ڈیوٹی ٹیکس کے حوالے سے ترجمان ایف بی آر کا کہنا تھا کہ اس کی شرح کا تعین درآمدی مصنوعات کی نوعیت اور تعداد پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق عام استعمال کی جن چیزوں پر یہ لاگو ہوتا ہے ان میں امپورٹڈ چاکلیٹ، گاڑیاں اور الیکٹرونکس کا سامان شامل ہیں جن پر 20 فیصد شرح عائد ہوتی ہے۔

ان ٹیکسز کے بعد مختلف قسم کی ٹیکس لیوئز اور سرچارج ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں جو عموماً پیٹرول، سی این جی، ایل این جی، بجلی اور گیس کے بل اور ٹیلیفون کے بل میں شامل کر کے عائد کی جاتی ہیں۔ ان کی شرح کا تعین حکومت ہر ماہ کرتی ہے۔

ایک اور ٹیکس جو عام صارف کی جیب پر بھاری پڑتا ہے وہ ودہولڈنگ ٹیکس ہے جس کی کم از کم شرح 10 فیصد ہے۔

اسی طرح بینک سے کیش رقم نکلوانے پر بھی حکومت نے ٹیکس نافذ کر رکھا ہے جس کے مطابق ایسے افراد جو فائلرز ہیں ان کے لیے اس میں حال ہی میں چھوٹ کی گئی ہے جبکہ نان فائلرز کے لیے پچاس ہزار سے زیادہ رقم نکلوانے پر 0.7 فیصد جبکہ پیسے ٹرانسفر کرنے پر0.6 فیصد ٹیکس کٹوتی کی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ملک میں زیادہ تر ٹیکس انڈائریکٹ نظام سے حاصل ہو رہا ہے اور وہ تقریباً ہر پاکستانی ادا کر رہا ہے

کتنے افراد ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں؟

ایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر حامد عتیق کے مطابق ملک میں سالانہ ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی کل تعداد تقریباً 19 لاکھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔

ماہرین کی رائے کیا ہے؟

ماہر معاشیات شاہد کاردار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں بہت سے ڈائریکٹ ٹیکسز بھی انڈائریکٹ ٹیکسوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ’اہم بات یہ ہے کہ ود ہولڈنگ ٹیکسز کی مد میں اکھٹی ہونے والی رقم کا تقریباً 72 فیصد ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا اور بھی بہت سے ایسے انڈائریکٹ ٹیکسز ہیں جو حکومت مختلف صورتوں میں عوام کی جیب سے نکلواتی ہے اور پھر بھی یہ تاثر دیتی ہے کہ ملک میں کوئی ٹیکس نہیں دیتا۔

سینیئر صحافی اور ماہر معاشیات خرم حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم کے بیان سے متفق نہیں ہیں کہ پاکستان میں صرف ایک فیصد پاکستانی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ’وزیر اعظم نے بیان میں بہت زیادہ غلط اعداد و شمار بتائے ہیں۔‘

خرم حسین کا مزید کہنا تھا کہ ’میں ان (اعداد و شمار) سے اتفاق نہیں کرتا۔ وزیر اعظم کو کہنا چاہیے تھا کہ ٹیکس فائلرز کی تعداد کم ہے نہ کہ ٹیکس دینے والوں کی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکس انڈائریکٹ نظام سے حاصل ہو رہا ہے اور وہ تو تقریباً ہر پاکستانی ادا کر رہا ہے۔

اسی بارے میں