وزیرِ اعظم کے لیے سانپ کی کھال کی چپل، کاریگر کو 50 ہزار روپے جرمانہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
عید پر کپتان کے لیے سانپ کی کھال کی چپل

وزیرِ اعظم کو سانپ کی کھال سے تیار چپل دینے کے خواہشمند چاچا نور الدین کے خاندان کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ وائلڈ لائف نے ان کی دکان پر چھاپہ مار کر عمران خان کے لیے بنائی گئی چپل اپنے قبضے میں لے لی ہے۔

مشہور زمانہ ’کپتان چپل‘ بنانے والے چاچا نور الدین کے بقول عمران خان کے ایک چاہنے والے نے انھیں امریکہ سے سانپ کی انتہائی خوبصورت کھال بھجوائی تھی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا نعمان نامی شخص وزیرِاعظم کے لیے ایک خاص قسم کی چپل بنوا کر عید کے موقعے پر انھیں تحفتاً پیش کرنا چاہتا تھا۔

تاہم ان کے بڑے صاحبزادے سلام الدین کے مطابق میڈیا پر عمران خان کے لیے سانپ کی چپل بنانے کے حوالے سے اطلاعات آنے کے بعد اتوار کی صبح محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکار ان کی دکان سے عمران خان کے لیے تیار کردہ چپل لے گئے اور پیر کے روز انھیں پیش ہونے کا حکم بھی دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے!

اس بار عیدالفطر پر پشاوری چپل یا کھُسہ؟

شاہ رخ کی چپل: 'ہرن کے چمڑے سے نہیں بنی'

شاہ رخ کے لیے پشاوری چپل بنانے والے کے خلاف مقدمہ

مہاراشٹر ميں کولہاپوري چپل کے آخری دن؟

تصویر کے کاپی رائٹ Islamuddin
Image caption سانپ کی کھال سے تیار کردہ چپلوں کے نمونے

پشاور کے محکمہ وائلڈ لائف کے ڈی ایف او عبدالعلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ چاچا نور الدین کے حوالے سے ممنوع نوعیت کی کھالیں استعمال کرنے کی اطلاعات پر ان کی دکان پر چھاپا مارا گیا اور وہاں ایک ایسے چپل کا جوڑا بر آمد ہوا۔

بعد میں محکمہ جنگلات کی جانب سےجاری کیے جانے والے نوٹس میں چاچا اسلام الدین کو یہ چپل بنانے پر 50 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

نوٹس میں اس کی وجہ غیر قانونی طور پر سانپ کی کھال کی تجارت اور اسے جوتے تیار کرنے کے لیے استعمال کرنا بتائی گئی۔

تاہم اسلام الدین کا اصرار ہے کہ انھوں نے جان بوجھ کر کوئی غلط کام نہیں کیا اور اگر انجانے میں ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس حوالے سے قانون جو کہتا ہے وہ کرنے کو تیار ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’ہم نے نہ تو سانپ پکڑا ہے اور نہ ہی مارا ہے اور نہ ہی یہ کھال ہم نے خود خریدی ہے۔ یہ کھال نعمان نے امریکہ سے بھجوائی تھی، اس کا ڈبہ ہمارے پاس محفوظ ہے اور اُس پر اِس کے بارے میں سب تفصیلات موجود ہے۔‘

عید کے موقع پر وزیرِ اعظم کے لیے ’خاص تحفہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ KPK FOREST FOREST DEPARTMENT

اس سے قبل چاچا نور الدین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس مرتبہ عمران خان کے ایک چاہنے والے نعمان نامی شخص نے ان سے کہا ہے کہ وہ اپنے کپتان کو خاص قسم کا تحفہ دینا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے نعمان نے امریکہ سے سانپ کی انتہائی خوبصورت کھال بھجوائی ہے۔

ان کی خواہش ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے لیے اس کھال سے چپل تیار کی جائے جس پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ممکنہ طور پر عید سے پہلے وہ عمران خان کو یہ چپل تحفے میں پیش کر دیں گے۔

’یہ انتہائی آرام دہ چپل ہو گی جس میں عمران خان کو گرمی نہیں لگے گی۔ وہ اس چپل کو پہن کر جتنا بھی کام کر لیں، نہیں تھکیں گے۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے کپتان کو یہ چپل بہت پسند آئے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Islamuddin

نور الدین چاچا کے بڑے بیٹے سلام الدین نے بی بی سی کو حالیہ نوٹس سے قبل بتایا تھا کہ اس مرتبہ وہ جو چپل تیار کر رہے ہیں یہ انھوں نے اور ان کے والد نور الدین نے خاص طور پر ڈیزائن کی ہے۔

’اس چپل کا ڈیزائن بظاہر دیکھنے میں تو عام پشاوری چپل جیسا ہی ہو گا مگر جب اس کو پہنا جائے گا تو اس کو دیکھنے والے کو پتا چلے گا کہ یہ بلکل مختلف ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’یہ چپل جاگر شوز سے بھی زیادہ ہلکی ہو گی۔ اس کو پہننے والے کو پتا ہی نہیں چلے گا کہ اس نے کوئی چپل پہن رکھی ہے۔‘

سلام الدین کے مطابق اس چپل پر تمام کام ہاتھ سے کیا جائے گا جبکہ اس پر مجموعی طور پر چار فٹ تک سانپ کی کھال استعمال ہو گی۔

اس کے اوپر والے حصے پر اٹلی سے درآمد شدہ سپنج استعمال ہو گا تاکہ پاؤں کے اوپر والے حصے کو بھی کوئی تکلیف نہ ہو۔ ان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کو یہ چپل تحفے میں دینے کے بعد اس کا بھی کوئی برانڈ نام رکھا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Islamuddin
Image caption اس چپل کی تیاری میں مجموعی طور ہر چار فٹ سانپ کی کھال استعمال ہو گی

اس کی لاگت کم از کم چالیس ہزار روپیہ ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے پہلے ایسی چپل پاکستان میں تیار نہیں کی گئی ہے جس میں سانپ کی کھال استعمال ہوئی ہو۔

نورالدین چاچا کے چھوٹے بیٹے ابرار الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد نے اپنی تمام توجہ عمران خان کے لیے سانپ کی کھال سے تیار ہونے والی چپل پر مرکوز کر رکھی ہے۔

اس کی تیاری کا سارا کام ہاتھ سے کیا جا رہا ہے اور اسی لیے اس پر بہت وقت لگ رہا ہے۔

دنیا میں سانپ کی کھالوں سے مختلف قسم کی اشیا تیار کی جاتی ہیں جن کو بڑے شوق سے استعمال کیا جاتا ہے۔ عالمی فیشن انڈسڑی میں اژدھے کی کھال سے تیارہ کردہ اشیا کی قیمت کم از کم پچاس ہزار ڈالر ہے۔

پاکستان میں موجود اژدھا اور اس کی قانونی حثیت

تصویر کے کاپی رائٹ Islamuddin
Image caption نور الدین کے مطابق سانپ کی کھال امریکہ سے عمران خان کے ایک پرستار نے بھجوائی ہے

ماہرین کا نور الدین کو اس چپل کے لیے بھجوائی جانے والی سانپ کی کھال کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ اژدھے کی کھال ہے۔ ان کے مطابق چھوٹے سانپ کی کھال کسی کام میں استعمال نہیں ہو سکتی ہے اس لیے بڑے سانپوں کی کھالیں استعمال کی جاتی ہیں جن میں اژدھا بھی شامل ہے۔

جب بی بی سی نے یونیورسٹی آف باغ آزاد کشمیر کے ماہر حیوانات پروفسیر ڈاکٹر عبداللہ حسین فیض کو نور الدین کو ملنے والی سانپ کی کھال کی تصویر دکھائی تو ان کا کہنا تھا کہ تصویر میں موجود کھال اژدھے کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں اژدھا تقریباً معدوم ہو چکا ہے یا اس کی تعداد انتہائی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ پاکستان میں اس وقت صرف کشمیر کے ضلع بھمبر میں قابل ذکر تعداد میں اژدھے موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق اژدھے کی کمی میں اس کی بڑے پیمانے پر غیر قانونی خرید و فروخت کے علاوہ دیگر ماحولیاتی عوامل شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Islamabad Wild Life Department

وائلڈ لائف حکام کے مطابق اب بھی اژدھے کی خرید و فروخت اور اس کی کھال سمگل کرنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جبکہ حالیہ دونوں میں اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے اہلکاروں نے کم ازکم دو اژدھوں کی کھالیں برآمد کی تھیں۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ ذرائع کے مطابق ان کی کھالیں بیرون ملک سمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

پاکستان میں بلوچستان کے علاوہ پورے ملک اور زیرِ انتظام کشمیر میں اژدھے کو معدومی کے خطرے کے باعث محفوظ جانور قرار دیا گیا ہے۔ اس کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد ہے۔

بین الاقوامی تنظیم کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ ان انڈینجرڈ سپیشیز جس کا پاکستان بھی رکن ہے، نے اژدھے کی خرید و فروخت پر بین الاقوامی طور پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس کی کھال وغیرہ کی درآمد، برآمد کے لیے ادارے کا خصوصی اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جو کہ صرف مخصوص حالات ہی میں جاری کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں