سٹاک مارکیٹ سپورٹ فنڈ : ’پاکستان میں سٹاک مارکیٹ صرف سٹے بازی کا ایک کسینو بن چکا ہے‘

سٹاک مارکیٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حکومت نے غیر مستحکم پاکستان سٹاک ایکسچینج کو سہارا دینے کے لیے 20 ارب روپے مالیت کا ’سٹاک مارکیٹ سپورٹ فنڈ‘ قائم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے اسے ملک میں معاشی ترقی اور سٹاک مارکیٹ میں مندی کے رحجان کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

حکومت کے اس اقدام، جس کی منظوری اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی ہے، کو معاشی امور کے ماہرین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے موقف اپنا رہے ہیں کہ حکومت کی معاشی ترجیحات دوغلے پن کا شکار ہیں اور یہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد کر محض چند سرمایہ داروں کو نواز رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے منظور کردہ اس فنڈ میں پنشنرز فنڈ کے لیے مختص رقم اور دیگر منافع بخش سرکاری اداروں سے رقم لیکر نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ کو جاری کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

پاکستانی کون کون سے ٹیکس دیتے ہیں؟

بڑھتی ہوئی شرح سود کا مطلب کیا ہے؟

پی ٹی آئی کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں نیا کیا ہے؟

اس فنڈ کا مقصد کیا ہے؟

حکومت کے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی اور معاشی عدم استحکام کے باعث شدید مندی کا رحجان ہے۔ یہی وجہ ہے کے سرمایہ کار بد اعتمادی اور خوف کا شکار ہیں۔

حکومتی ادارہ نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ اس فنڈ کے لیے مختص کی گئی رقم سے پاکستان سٹاک مارکیٹ میں حکومتی اداروں کے حصص خریدے گا۔ جس سے سٹاک مارکیٹ میں پیسے لگا کر مندی کے رحجان میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حکومتی اقدام پر تنقید کیوں؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سابق چیرمین ہارون شریف کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت اور سٹاک مارکیٹ میں عام تاثر یہ ہے کہ اگر سٹاک مارکیٹ میں حصص کا کاروبار مثبت ہے اور تیزی کا رحجان ہے تو یہ معاشی استحکام اور ترقی کی نشانی ہے جبکہ دراصل ایسا نہیں ہے۔

حکومت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشی ترقی کے عوامل اور عشاریے مختلف ہیں۔ معاشی ترقی کا سٹاک مارکیٹ کی تیزی اور مندی سے تعلق بہت کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کی انوسٹر بیس یعنی وہ لوگ جو سٹاک مارکیٹ میں حصص کے کاروبار سے منسلک ہیں کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ ہے جو ایشیائی ممالک میں سب سے کم ہے۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں کل رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 700 ہے جس میں سے 40 سے 50 کمپنیاں مارکیٹ کے تقریباً پچاس فیصد کاروبار پر قابض ہیں۔

ہارون شریف کا کہنا تھا کہ ایسے میں اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اس فنڈ کے قیام اور سٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگانے سے ملکی معیشت میں کوئی بہت بڑی تبدیلی آ جائے گی تو ایسا نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے حکومت یہ کوشش کر رہی ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جائے اور یہ تاثر زائل کرنے کی کوشش کی جائے کے سٹاک مارکیٹ صحیح طرح سے کام نہیں کر رہی۔

'لیکن اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا، ایسے وقت میں جب خزانے میں مالی وسائل کی قلت ہے یہ درست حکومتی ترجیح نہیں۔ اس کا غریب سے کوئی تعلق نہیں البتہ اس سے چند افراد کو فائدہ ضرور پہنچے گا۔'

انھوں نے بتایا کہ حکومت کے سٹاک مارکیٹ میں پیسے ڈال کر مصنوعی طریقے سے ہلچل پیدا کرنا قلیل مدتی ہو گا اور حکومتی اداروں کے حصص کی قیمت پر زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ سرمایہ دار وہی قیمت لگائے گا جو بازار حصص میں درست نظر آئے گی۔

ہارون شریف نے مزید بتایا کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ ایک خود مختار ادارہ ہے اور ان کو خود چاہیے تھا کہ وہ خود پیسہ اکٹھا کرتے نہ کہ حکومت اس میں مداخلت کرتی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ایک سال مکمل ہونے والا ہے لیکن حکومت کے پاس معاشی ترقی کا کوئی پلان موجود نہیں، حکومت کو اگلے تین برس کے لیے معاشی محاذ ہر اپنی ترجیحات بنانے اور واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں مسائل ہیں اور ہمیں اس وقت مختلف شعبوں کی نشاندہی کر کے پالیسی مرتب کرنا ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے!

نئے چیئرمین کی تقرری پر ایف بی آر میں ’اندرونی اختلافات‘

آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم کہاں خرچ ہو گی؟

سعودی تیل کی موخر ادائیگی پر فراہمی کا مطلب کیا ہے؟

ہارون شریف کا کہنا تھا کہ ’یہاں ایک بہت بڑا خلا ہے، نہ ہماری پاس صنعتی پالیسی ہے، نہ ایکسپورٹ پالیسی ہے اور نہ ہی ہمارے پاس معاشی ترقی کی کوئی واضح سمت۔ اور غیر یقینی کی بڑی وجہ بھی یہی ہے۔'

برطانیہ میں مقیم ماہر معیشت شاہ رخ وانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سٹاک مارکیٹ فنڈ کے قیام کا بنیادی مسئلہ تاثر کا ہے کیونکہ حکومت ایک طرف اعلان کرتی ہے کہ آنے والا بجٹ کفایت شعاری پر مبنی ہو گا اور دوسری طرف ایک خطیر رقم سٹاک مارکیٹ کے لیے مختص کرنے کا اعلان کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں علم ہے کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ چھوٹی ہے اور اس سے چند افراد کو فائدہ پہنچے گا تو اس سے عوام میں یہ تاثر جاتا ہے کہ ایک طرف وہ ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت چند سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں سٹاک مارکیٹ کو سہارا دینے کی لیے حکومتی امداد یا مداخلت کو مناسب نہیں سمجھا جاتا البتہ چین میں سٹاک مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔

شاہ رخ وانی کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ پہلی مرتبہ نہیں کیا ہم سنہ 2008-2009 میں بھی ایسا کر چکے ہیں۔

’حکومت مصنوعی طریقے سے سٹاک مارکیٹ کو دوام بخشنے کی کوشش کر رہی ہے اس سے زیادہ فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ یہ فری مارکیٹ کے اصولوں کے خلاف ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ماہرِ معیشت قیصر بنگالی نے اس اقدام ہر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'اس کا مطلب ہے کہ غریب عوام سے ٹیکسوں کی مد میں اکٹھے کیے جانے والے پیسے امیروں کو سٹے بازی کے لیے دیے جا رہیں ہیں۔یہ نیو لبرل پالیسی کے بھی خلاف ہے۔'

سٹاک مارکیٹ بروکرز کی رائے

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ اے زی سیکورٹیز نامی کمپنی کے سربراہ عامر ضیا نے حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے اسے وقت اور ملکی معیشت میں بہتری کے لیے اہم ضرورت قرار دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس سے سٹاک مارکیٹ میں جو غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو چکی تھی وہ ختم ہو گی اور یہ کہ حکومتیں ایسی کرتی رہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ سٹاک مارکیٹ میں حکومت خود ایک بڑی شراکت دار ہے، اگر سرکاری اداروں کی حصص کی قیمت نیچے جاتی ہے تو نقصان حکومت کو ہے۔

عامر ضیا کا کہنا تھا کہ غیر متوقع ڈالر ایکسچینج ریٹ اور مہنگائی کی وجہ سے شرح سود میں اضافے کی وجہ سے بروکرز نے حکومت سے سپورٹ فنڈ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا تقریباً گذشتہ ڈیڑھ برس سے جاری مالی و سیاسی عدم استحکام نے چھوٹے سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم کر دیا ہے۔ بازار حصص میں مسلسل گراوٹ اور مندی کے رحجان کے سبب جس حصص کی قیمت 100 روپے تھی وہ اب 25 روپے رہ گئی ہے۔ان کے مطابق حکومتی اقدام سے چھوٹے سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2008 میں بھی جب حکومت نے سٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگایا تھا تو بہت منافع کمایا تھا ایسا نہیں ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ڈوبا دیا تھا۔

ملکی معیشت میں سٹاک مارکیٹ کی اہمیت

کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے سٹاک مارکیٹ کتنی اہم ہوتی ہے کہ سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہ رخ وانی کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر ترقی یافتہ ممالک کے لیے سٹاک مارکیٹ ملکی معیشت میں پیشہ جمع کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔کیونکہ وہاں رجسٹرڈ کمپینوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہیں اور مختلف ادارے اپنی بچت کی مد میں دستیاب سرمائے کو سٹاک میں لگاتے ہیں۔

لیکن پاکستان میں اس کا کردار چند افراد کی حالت بدلنے کے علاوہ زیادہ فرق نہیں ڈالتا کیونکہ مارکیٹ چھوٹی ہے اور عام آدمی اپنی بچت یا سرمائے کو رئیل سٹیٹ یا دیگر سیکٹرز میں لگاتا ہے۔

ماہر معیشت قیصر بنگالی نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ سٹاک مارکیٹ کا مقصد معاشی وسائل کی پیداوار کرنا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے 'پاکستان سٹاک مارکیٹ میں یہ گذشتہ 15 سال سے نہیں ہو رہا یہ صرف سٹے بازی کا ایک کسینو بن چکا ہے۔'

اسی بارے میں