عید پر ہوائی جہاز کے ٹکٹ آخر اتنے مہنگے کیوں ہیں؟

پی آئی اے تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اگر آپ نے کراچی سے لاہور یا اسلام آباد عید کے لیے ایئرلائن ٹکٹ خریدا ہے تو آپ کے ذہن میں ایک بار یہ خیال ضرور آیا ہوگا کہ ’اتنے میں تو میں دبئی، سنگاپور، چین اور کئی دوسری منازل کا سفر کر سکتا ہوں۔‘

ایک بار پھر سوال وہی ہے: ہوائی جہاز کے کرائے اتنے زیادہ کیوں ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ اس وقت دو گھنٹے کی پرواز کا کرایہ اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سفر سے بھی مہنگا ہے، جبکہ ایئرسپیس کی بندش والا قضیہ بھی اندرون ملک پروازوں کے لیے نمٹ چکا ہے۔

گذشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اس بارے میں زور و شور سے بحث جاری ہے اور اخبارات بھی اس موضوع پر لکھ چکے ہیں۔

لوگ یہ دعوے بھی کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ انھیں اسلام آباد سے کراچی کے لیے دو طرفہ کرایہ 72 ہزار روپے ادا کرنا پڑا جبکہ اسلام آباد سے لندن کا ٹکٹ چند دن قبل ایک لاکھ تک کا مل رہا تھا۔

اس ہوش ربا کرائے کے بارے میں بنیادی سوالات یہ ہیں:

  • اس مہنگائی کی وجوہات کیا ہیں؟
  • قیمت کے تعین کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟
  • سول ایوی ایشن یا ریگولیٹری نظام کیا کر سکتا ہے؟
  • صورتحال کیسے بدلے گی؟

ان سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لیے ہم نے پی آئی اے، سیرین ایئر، ایئربلو اور شاہین ایئر کے علاوہ سول ایوی ایشن کے مختلف حکام سے گفتگو کی۔

مزید پڑھیے

برٹش ایئرویز: سات دنوں کا سفر سات گھنٹوں میں کیسے سمٹا؟

’پاکستانی ایئرلائنز خلیجی کمپنیوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہیں‘

کراچی سے اسلام آباد کا سفر دبئی سے مہنگا کیوں؟

پی آئی اے کے پانچ بڑے مسائل

اس مہنگائی کی وجوہات کیا ہیں؟

پاکستان کی ڈومیسٹک یا اندرونِ ملک مارکیٹ کا آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے اور طلب اور رسد میں کوئی توازن نہیں۔ مقابلے کی فضا پہلے سے بد تر ہو چکی ہے یعنی مسافر زیادہ اور پروازیں بلکہ ایئرلائنز کم ہیں۔

گذشتہ سال رمضان میں شاہین ایئر اور ایئر بلو دونوں نے رمضان اور عید پر اپنا مکمل آپریشن چلایا تھا۔ اس سال شاہین ایئر تو غائب تھی ہی ایئربلو نے بھی اپنا ڈومیسٹک یا اندرونِ ملک آپریشن رمضان سے پہلے ہی بند کر دیا تھا اور اسے دس جون سے دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایئربلو نے کیوں اپنا آپریشن بند کیا اور سوال یہ بھی ہے کہ سول ایوی ایشن نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟

اس صورتحال میں اگر ہم جائزہ لیں تو ان دونوں روٹس پر شاہین اور ایئربلو دونوں کی چار پروازیں چلا کرتی تھیں۔ جس کے حساب سے اگر دیکھیں تو 1376 کے لگ بھگ نشستیں روزانہ کی بنیاد پر کم ہیں اور ماہانہ 41280 کے قریب نشستیں کم ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے جس کا سارے کرایوں کے نظام پر بری طرح اثر پڑ رہا ہے۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کسی جانب سے کوئی کوشش نہیں کی گئی اور سوائے پی آئی اے کے کسی ایئرلائن نے کوشش نہیں کی۔

پی آئی اے نے بھی اضافی پروازیں چلانے کی بجائے اپنی موجودہ پروازوں کے لیے A320 طیاروں کی بجائے بڑے اور زیادہ نشستوں والے بوئنگ 777 طیارے استعمال کیے ہیں۔ جن میں دگنی نشستیں ہوتی ہیں۔ مگر یہ کسی بھی طرح اس بڑے خلیج کو نہیں پاٹ سکتا جو دو ایئرلائنوں کی غیر موجودگی کے نتیجے میں بن ہو چکی ہے۔

فضائی کمپنیاں اس بات پر شکوہ کرتی ہیں کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ان کے کئی اخراجات میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اس میں طیاروں کی لیز یا ایندھن کی مد میں ہی کروڑوں روپوں کے اضافی اخراجات ہیں۔

قیمت کے تعین کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PIA

ایک انتہائی اہم بات جو صارفین سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایئرلائنز کا بکنگ نظام پہلے آئیے اور سستا ٹکٹ پائیے کی بنیاد پر چلتا ہے۔ یعنی کراچی سے اسلام آباد کا ٹکٹ عید کے لیے اگر آپ رمضان کے شروع میں ہی لے لیتے تو آپ کو آدھا کرایہ ادا کرنا پڑتا۔ یہ بکنگ کا نظام اس طرح بنا ہوا ہے کہ جوں جوں پرواز کا دن قریب آتا ہے ٹکٹ مہنگا ہوتا جاتا ہے۔ کیونکہ سب سے پہلے سب سے سستا ٹکٹ فروخت کے لیے سامنے آتا ہے۔ جب تک عید آتی ہے تب تک سستے ٹکٹ سارے کے سارے بک چکے ہوتے ہیں بلکہ درمیانی قیمت کے ٹکٹ بھی نکل چکے ہوتے ہیں۔

منگل 4 جون دوپہر چار بجے جب میں نے پی آئی اے اور سیرین ایئر کے ٹکٹ کراچی سے اسلام آباد کے لیے چیک کیے تو ان کی قیمت 30 ہزار روپے تھی۔ حتیٰ کے گیارہ جون کو ٹکٹ دیکھیں تو اس سے تھوڑا مہنگا ٹکٹ دستیاب ہے۔ اس ٹکٹ میں 5715 روپے ٹیکس ہے۔

چونکہ شاہین اور ائیربلو کی پروازیں نہیں چل رہیں تو ایسے مسافر جو سستے ٹکٹ کی تلاش میں ایک ایئرلائن سے دوسری ایئرلائن کی ویب سائٹ پر جاتے تھی اب ان کے پاس دو آپشن کم ہیں۔

نتیجتاً سیرین اور پی آئی اے کے سستے ٹکٹ بھی انتہائی مختصر مدت میں بک جاتے ہیں جیسا پہلے نہیں ہوتا تھا۔

حالانکہ حکومت نے نئی ایوی ایشن پالیسی کے تحت جو گنجائش دی ہے اس کے مطابق فی ٹکٹ تقریباً ہزار روپے کے چارجز کم ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری کئی گنجائشیں بھی دی گئی ہیں جن کا اثر قیمتوں پر پڑنا چاہیے۔

مگر جب ایئرلائنز سے پوچھیں تو ان کا کہنا ہے کہ ہزار روپے کے چارجز کی کمی کے مقابلے میں اخراجات کی مد میں کروڑوں روپے پہلے سے زیادہ جا رہے ہیں کیونکہ ڈالر کی قیمت چڑھ گئی ہے۔

اسی طرح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اگرچہ گر رہی ہیں لیکن پاکستان میں ان پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے بلکہ ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیاں اپنی اجارہ داری کا فائدہ بھی اٹھاتی ہیں۔

ایک فضائی کمپنی کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ جہاں شیل اور پاکستان سٹیٹ آئل دونوں کام کر رہے ہیں وہاں قیمتیں مناسب ہوتی ہیں مگر جہاں پی ایس او اکیلی ہے وہاں تیل کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور زیادہ سے مراد تین سے چار روپے تک فی لیٹر ہے۔ چونکہ ایک پرواز کے لیے ٹنوں کے حساب سے تیل خریدا جاتا ہے تو قیمت اس حساب سے بڑھ جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ CAA

سول ایوی ایشن یا ریگولیٹری نظام کیا کر سکتا ہے؟

پاکستان میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نہ صرف ریگولیٹر ہے بلکہ سہولیات فراہم کرنے والا ادارہ بھی ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت بار گڈ مڈ ہوتے ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تاریخ میں پہلی بار تمام ایئرلائنز کے ساتھ مل بیٹھ کر ایک پالیسی تو بنا لی ہے مگر سی اے اے اپنی دونوں ذمہ داریوں کو عیلحدہ کرنے میں کتنا کامیاب ہو گی اس بارے میں باتیں تو کافی کی جا رہی ہیں مگر ان پر عملدرآمد کب ہو گا یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

سول ایوی ایشن کے ایک سینیئر اہلکار سے پوچھا گیا کہ جب مارکیٹ میں اتنی گنجائش موجود ہے اور نشستوں کی تعداد کم ہے تو اسے پر کرنے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے تو جواب دیا گیا کہ ’ہمارا کام سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ہم نے چار سے زیادہ آپریٹرز کو لائسنس دیے ہیں۔ نئی پالیسی میں بے تحاشا چھوٹ دی ہے مگر ہم انھیں کاروبار کھول کر نہیں دے سکتے۔‘

دوسرا سوال تھا ’آخر نجی ایئرلائنز یا پی آئی اے جب دیکھ رہی ہے کہ مارکیٹ میں مانگ ہے تو اسے پورا کرنے کے لیے مزید طیارے یا فلائٹس کیوں نہیں شروع کی جاتی؟‘

اس کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ اگر دیکھا جائے تو سیرین ایئر کے پاس تین طیارے ہیں جو گنجائش کو مکمل طور پر پورا کر رہے ہیں اور ان تین طیاروں کے ساتھ مزید پروازیں ایئرلائن کے خیال میں ممکن نہیں۔ مارکیٹ میں وقتی گنجائش کو پورا کرنے کے لیے چند ہفتے یا مہینے کے لیے طیارے لانے کا معاملہ اتنا آسان نہیں۔

سول ایوی ایشن کے سرخ فیتے سے اس طیارے کو دنوں یا چند ہفتوں میں گزارنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اتنے دن کے لیے ایئرلائن طیارہ نہ صرف لا کر کھڑا رکھے گی بلکہ بغیر ایک روپیہ کمائے اس کے اخراجات ڈالروں میں ادا کرے گی۔ ایک ایئرلائن کے سینیئر اہلکار کے مطابق کوئی پاگل ہی ہو گا جو پیسے خرچ کر کے طیارہ لا کر کھڑا کر دے۔ ایسا تب ہی ہو گا جب اس کی دیرپا مانگ ہو۔

پی آئی اے والوں سے پوچھو تو وہ کہتے ہیں ’پریمیئر سروس کے لیے طیارے لانے پر آج تک پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ دوسرا پیپرا کے قوانین کے لیے پہلے اشتہار دو، پھر بولی لگواؤ، پھر طیارہ پسند کرو پھر اسے لانے کا عمل شروع کرو۔ اتنی دیر میں وزیر، سی ای او، سیکرٹری سب بدل چکے ہوتے ہیں۔ اور کرائے پر دینے والے کے پاس گاہک ہو تو وہ اتنے مہینے آپ کے لیے انتظار نہیں کر سکتا۔ اس لیے گذشتہ چند مہینوں میں کئی اشہتار دیے مگر طیارے نہیں حاصل کیے جا سکے۔‘

صورتحال کیسے بدلے گی؟

صورتحال صرف ایسے بدلے گی جب سول ایوی ایشن نگرانی کے کام کو اپنا اصل کام سمجھ کر ترجیح دے گی اور سہولیات دینے کے کام کو قابل کمپنیوں کے ذمے لگائے گی۔

دوسرا ہوابازی کے لیے حالات کو سازگار بنایا جائے گا جس میں عام کاروباری شخصیات بھی شامل ہو سکیں۔ ہوابازی کے شعبے کے لوگوں کو جو اس شعبے میں صلاحیت رکھتے ہیں آگے آنے کے لیے کوئی مواقع نہیں ملتے۔ یہ ایک کمرشل شعبہ ہے جسے جب تک کمرشل بنیادوں پر نہیں چلایا جائے گا تب تک آپ کو ایسی لولی لنگڑی آدھی زندہ آدھی مردہ ہوابازی کی صنعت ملے گی۔

آج بھی ہوابازی پاکستان میں ایئرفورس یا فضائیہ کا ہی ایک سویلین حصہ ہے۔ اس معاملے میں جتنی رازداری اور گمنام قوانین کا اطلاق ہوتا ہے اتنا کہیں بھی نہیں ہے۔ ایک پرواز پر آپ لیپ ٹاپ کا چارجر لے جا سکتے ہیں مگر اگلی پر آپ کو روک دیا جاتا ہے۔ اسلام آباد سے آپ کیمرہ ڈرون طیارے میں لے جا سکتے ہیں مگر کوئٹہ سے یہ ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ دنیا بھر میں طیاروں کی فوٹوگرافی ایک مقبول مـشغلہ ہے مگر پاکستان میں آپ کیمرہ نکال کر تو دکھائیں۔

دنیا بھر میں اسے تفریح اور لائف سٹائل کا حصہ مانا جاتا ہے جس کے لیے کسی بھی شعبے سے لوگ آگے آ سکتے ہیں۔

تیسرا پاکستان میں لائسنس لینا ایک کام ہے مگر ایئرلائن شروع کرنا ایک معرکہ ہے۔ اس وقت ملک میں چھ کے قریب کمپنیاں ایسی ہیں جب کے پاس گذشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے لائسنس ہے مگر کیا وہ اگلے چھ مہینے میں ایئرلائن کا آپریشن شروع کر سکیں گے؟ ایسا بہت مشکل نظر آ رہا ہے۔

جب تک ایسا نہیں ہو گا، تب تک ٹکٹ سستے نہیں ہو سکیں گے۔ مارکیٹ میں طلب اور رسد کے درمیان خلیج کم نہیں ہو گی۔ اسی طرح 80 فیصد ٹیکس حکومت لیتی ہے اگر حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے اور ہوابازی کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اسے باقی شعبوں کی طرح اس معاملے میں بھی ٹیکس مناسب حد تک لانے ہوں گے۔ جیسے ٹرین اور بس کے سفر پر ٹیکس بالکل نہیں یا کم ہے تو سوال یہ بھی ہے کہ ایئر ٹکٹ پر براہِ راست اتنے ٹیکس کیوں ہیں؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں